Connect with us
Tuesday,20-April-2021

خصوصی

بریکنگ نیوز… کانگریس پارٹی کو لگا بڑا جھٹکا، مالیگاؤں کے سابق ایم ایل اے آصف شیخ رشید نے دیا استعفیٰ

Published

on

Asif Sheikh Rashid resigns

مالیگاؤں : (خیال اثر)
مالیگاؤں کانگریس کے سابق صدر اور کانگریس پارٹی سے 2014 میں ایم ایل اے رہے آصف شیخ رشید نے کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ موصوف نے اردو میڈیا سینٹر میں اردو مراٹھی و ٹی وی چینل کے نمائندوں کی پر ہجوم پریس کانفرنس طلب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی سے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے۔ موصوف نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو ہم نے اس شہر میں زندہ رکھا۔ کانگریس پارٹی کے ہم پر احسانات ہیں، اور ہم نے بھی پارٹی کے ساتھ انصاف کیا۔ ہم نے پارٹی ہائی کمان کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ شیخ آصف نے کہا کہ یہ میرا ذاتی طور سے استعفیٰ ہے۔ موصوف نے مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر نانا پٹولے کو ای میل کیا ہے، اوراس استعفیٰ نامہ کی ایک کاپی مقامی کانگریس صدر شیخ رشید کو دیا ہے۔

شیخ آصف کی مختصر سیاسی تاریخ

شیخ آصف کا گھرانہ 1984 سے عملی سیاست میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ شیخ آصف کے والد محترم شیخ رشید نے کانگریس پارٹی کو مالیگاؤں شہر میں مضبوط کیا اور آج بھی یہ پارٹی شیخ رشید پریوار کی قیادت میں مستحکم ہے۔ کانگریس پارٹی نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں 29 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا ہے۔ شیخ آصف نے 2002 میں پہلا کارپوریشن کا الیکشن ہزار کھولی سے کامیاب کیا اور اس وقت کانگریس 9 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی اسکے باوجود بھی شیخ آصف نے 2005 میں شہر کے دوسرے میئر کا خطاب اپنے نام کیا۔ موصوف نے 2007 میں دوسرا الیکشن بلا مقابلہ کامیاب کیا اور 2007 سے لیکر 2012 تک مالیگاؤں کارپوریشن میں کانگریس پارٹی کی جانب سے گٹ نیتا رہے ہیں۔ اس کے بعد شیخ آصف مالیگاؤں مہا نگر ضلع کانگریس کے 2011 سے 2015 تک صدر رہے۔ سنہ 2014 میں آصف شیخ کانگریس کے نشان پنجہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے، اور 2019 کے اسمبلی انتخابات میں آصف شیخ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ آصف نے کہا کہ میں شہر بھر میں دورہ کرتے ہوئے عوام سے، نوجوانوں سے اور خواتین سے مشورہ کروں گا، اور مستقبل کا لائحہ عمل طئے کروں گا۔ شہر کے مسائل کے لئے میں عوام سے مشورہ لیکر کام کاج کروں گا۔ راشٹروادی کانگریس ہی کیوں؟ کے سوال پر انہوں نے کہا دوسری سیاسی پارٹیاں ہیں، لیکن ہم مشورہ کریں گے پھر فیصلہ لینگے۔ کانگریس کی طرف سے میری کوئی ناراضگی نہیں ہے۔ کسی بھی پارٹی سے کوئی کنٹیکٹ نہیں ہوا ہے۔

مسلم ریزرویشن تحریک

یکم جنوری 2013 میں شیخ آصف کی کنوینر شپ میں مالیگاؤں سے ریاست گیر تحریکِ مسلم ریزرویشن کا آغاز کیا گیا۔ پانچ ماہ مسلسل چلنے والی مہاراشٹر کی سب سے بڑی مسلم ریزرویشن سنگھرش بھری تحریک نے شیخ آصف کی قیادت میں مہاراشٹر بھر میں دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت حاصل کرلی اور بلا آخر 20 جنوری کو ریاست میں پہلی بار مالیگاؤں سے ممبئی تک 300 کلو میٹر کا سفر پیدل مارچ کیا گیا، اور 27 جنوری 2013 کو ممبئی میں مسلم ریزرویشن کے حصول کیلئے دھرنا اندولن کیا گیا۔ حکومت نے شیخ آصف کے مطالبہ پر مسلمانوں تعلیم اور سرکاری نوکری میں ریزرویشن دینے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا، لیکن 2014 کے بعد ریاست میں اقتدار کی تبدیلی سے مسلم ریزرویشن آرڈیننس بے معنی ہوکر ختم ہوگیا۔ 2014 سے 2019 تک مختلف مواقع پر ایوان اسمبلی اور اسمبلی کے باہر شیخ آصف نے مسلم ریزرویشن کے لئے مسلسل نمائندگی کی، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریزرویشن دینے میں ٹال مٹول کا راستہ اپنایا۔ پھر شیخ آصف نے مسلم ریزرویشن کے لئے بی جے پی کی سرکار کے سامنے پرائیویٹ بل پیش کردیا۔ جسے اسپیکر نے قبول بھی کیا اور آج بھی یہ مطالبہ صرف ایک مطالبہ ہی رہا۔

انسانیت بچاؤ مارچ

ملک بھر میں دلتوں اور مسلمانوں پر مآب لنچنگ کے نام ہورہے ظلم استبداد کے خلاف پندرہ اگست 2017 کو مالیگاؤں سے ناسک تک 100 کلو میٹر انسانیت بچاؤ پیدل مارچ شیخ آصف کی قیادت میں نکالا گیا۔مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں کا مآب لنچنگ کیا جارہا تھا، اور ہر طرف مسلمان کو فرقہ پرست طاقتیں نشانہ بنا رہی تھی، جسکے خلاف مالیگاؤں سے انصاف مارچ نکالا گیا جسکا نتیجہ رہا کہ 2017 کی عید الضحٰی پر مہاراشٹر کے مسلمانوں کو گئو رکشا کے نام پر ہراساں کرنا بند کیا گیا۔

اسی طرح 218 میں بھی بھیونڈی سے ممبئی تک انسانیت بچاؤ پیدل مارچ شیخ آصف کی قیادت میں نکالا گیا اور بی جے پی کی فرقہ پرست سرکار نے ممبرا ٹول ناکہ پر کلوا پولس اسٹیشن نے مارچ میں شامل تمام پر امن مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

شیخ آصف کی مختصر سیاسی سماجی و خدمات کے علاوہ بے شمار تعمیری و تعلیمی اور بنکروں و مزدوروں کے فلاحی کام شیخ آصف نے انجام دیئے۔

اب وہ کس پارٹی میں جاتے ہیں یا اپنی خود کی سیاسی پارٹی کا اعلان کرتے ہیں اس پر نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں آصف شیخ رشید؟ سابق کارپوریٹر شکیل جانی بیگ، ایڈووکیٹ ہدایت اللہ، حافظ انیس اظہر، عبدالطیف باغبان، خالد معین، اجو لہسن والا، واحد لالہ، فیروز گولڈن، عتیق بیٹری والا، مزمل پاٹنے والے، فرید قریشی، ندیم ہھنی والا، محمود شاہ، نیدر لینڈز خطیب وغیرہ شریک تھے۔

خصوصی

کیریئر کونسلر محمّد فیصل محمد ابو للٔیث کی سیٹ امتحان میں نمایاں کامیابی

Published

on

Muhammad-Faisal

کھام گاؤں : (نامہ نگار)

محمّد فیصل نے سیٹ امتحان میں 300 میں 194 نمبرات حاصل کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے پولٹیکل سائنس میں یہ کامیابی حاصل کی۔ سیٹ کا امتحان ہر سال حکومت مہاراشٹر پونا یونیورسٹی کی جانب سے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ امتحان پورے مہاراشٹر میں 20 دسمبر 2020 کو لیا گیا۔ 7 اپریل 2021 کو سیٹ امتحان کے نتائج کا اعلان کیا گیا، جس میں محمّد فیصل نے 64,66 فی صد نمبرات حاصل کر کے شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا۔ محمّد فیصل جلگاؤں جامود نگر پریشد میں تدریسی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ طلباء کی سرکاری جاب اور مقابلاجاتی امتحانات کی تیاری کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

پیپل گاؤں راجہ تعلقہ کھام گاؤں کے رہنے والے فیصل نے MPSC MAINS اور انٹرویو میں کئی مرتبہ امتحان دیا۔ مگر بدقسمتی سے کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

ہمیشہ محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں محمّد فیصل اپنے ہنر اور قابلیت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی۔

انکی اس کامیابی پر انکے اہل خانہ، عزیز احباب اور انکے طلباء انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں، اللہ اسی طرح کامیابیوں سے ہم کنار کرے، اور قوم و ملت کے فلاح کے کام آتے۔ امین

Continue Reading

خصوصی

ممبئی میں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لئے نئی گائیڈ لائن

Published

on

بی ایم سی نے بیرون ملک ممبئی آنے والے مسافروں کو کورونا قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے روکنے کے لئے نظر ثانی شدہ ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ نئی گائیڈ لائن کے تحت، انگلینڈ، یورپ، مشرق وسطی کے ممالک، جنوبی افریقہ اور برازیل سے آنے والے مسافروں کو کسی بھی صورت میں 7 دن تک ہوٹل میں انسٹیٹیوشنل کوارنٹائن میں رہنا ہوگا۔ اب تمام 24 وارڈوں میں ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی جو نگرانی کریں گی کہ بیرون ملک سے آنے والا مسافر ہوٹل میں کوارنٹائن کی پیروی کر رہا ہے یا نہیں۔ یہ ٹیم ہوٹلوں کا دورہ کرے گی اور چیک کرے گی کہ متعلقہ شخص وہاں ہے یا نہیں۔ ممبئی میں ایسے بہت سے واقعات کی اطلاع ملی ہے کہ بیرون ملک سے آنے والا مسافر ہوٹل سے غائب ہے۔ اس میں، ہوٹل مالکان اور بی ایم سی ملازمین کی ملی بھگت کا انکشاف ہوا ہے۔ بی ایم سی کمشنر آئی ایس چہل نے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ہوائی اڈے پر تعینات عملہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی فہرست تیار کرے گا۔ تمام 24 وارڈوں کی فہرست بھی تیار کی جائے گی، تاکہ ہر وارڈ کے ہوٹلوں کو استعمال کیا جاسکے۔ ہوائی اڈے کے ملازمین روزانہ مسافروں کی فہرست اسسٹنٹ کمشنر اور ایگزیکٹو ہیلتھ آفیسر کو ای میل کے ذریعے بھیجیں گے۔ عملہ مسافروں کو ہوٹل تک لے جانے کے لئے بیسٹ بس کا انتظام کرے گا۔ نیز، بس ڈرائیور کو مسافروں کی ایک فہرست دی جائے گی۔ بس ڈرائیور ہوٹل پہنچنے کے بعد مسافروں کو ہوٹل میں چھوڑنے کے بعد ہوٹل سے مسافروں کے پہنچنے کی رسید لے گا۔ بس ڈرائیور ہوائی اڈے پر واپس آئے گا، اور اس فہرست کو وہاں تعینات عملے کے حوالے کرے گا۔ ہوائی اڈے پر تعینات ملازمین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مسافر ہوٹل پہنچ گئے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والے مسافر ہوٹل میں موجود ہیں یا نہیں اس کی جانچ کے لئے ہر اسسٹنٹ کمشنر اپنے وارڈوں میں ایک ٹیم تشکیل دے گا، جو ہوٹل میں جاکر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مسافر ہوٹل میں ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر وقتاً فوقتاً اپنی ٹیم کے کام کا جائزہ لیں گے۔ ائیرپورٹ پر تعینات عملہ وارڈ کے ذریعہ مقرر کردہ ٹیم کی فہرست پیش کرے گا۔ یہ ٹیم مسافروں کے پہنچنے کے دوسرے دن اور چھٹے دن ہوٹل جاکر یہ چیک کرے گی کہ لوگ وہاں موجود ہیں اور قواعد پر عمل پیرا ہیں۔ وارڈ کی ٹیم قرانطین مرکز کی تحقیقات کی ہفتہ وار رپورٹ تیار کرے گی اور اسے ایڈیشنل کمشنر (پروجیکٹ) اور سرکل ڈپٹی کمشنر کو بھیجے گی۔

کورونا مریضوں کے بڑھتے ہوئے گراف کو کنٹرول کرنے کے لئے ممبئی سمیت پوری ریاست میں، لازمی خدمات کے علاوہ، سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ اس پابندی کے ساتھ ہی ممبئی میں کم کورونا مریضوں کے ساتھ ہفتہ کی شروعات ہوئی ہے۔ اتوار کی نسبت دوسرے دن منگل کے روز بھی کورونا کے بہت کم مریض پائے گئے ہیں۔ منگل کو ممبئی میں 10030 نئے کورونا مریض پائے گئے ہیں اور 31 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ اتوار کے روز، ممبئی میں کورونا مریضوں کی تعداد 11 ہزار کو عبور کرچکی تھی، لیکن پیر کو یہ تعداد کم ہوگئی۔ پیر کے روز ممبئی میں 9857 نئے کورونا مریض پائے گئے اور 21 افراد کی موت ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں کورونا کے 55469 نئے مریض پائے گئے اور 297 افراد فوت ہوگئے۔

Continue Reading

خصوصی

12 سال کے بعد دھولیہ فساد سن 2008 کے تمام ملزمین کے لیے راحت، تمام ملزمین ہوے الزامات سے بری

Published

on

All the accused in the riots

دھولیہ : (نامہ نگار)
واضح ہو کہ بد قسمتی سے 5 اکتوبر 2008، شہر دھولیہ میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا۔ اس فساد میں 10 مسلمان شہید ہوے، اور کثیر تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔ ساتھ ہی کروڑوں کی املاک کا نقصان ہوا۔ روزِ اول سے ہی جمعیۃ علماء دھولیہ مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے نیز شہداء کے ساتھ انصاف دلانے اور زخمیوں کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تگ و دو کرتی رہی۔

فساد پھوٹ پڑنے کے بعد پولس کی جانب سے کامبنگ آپریشن کا سلسلہ ہوا اور کثیر تعداد میں بے قصور مسلمانوں پر فساد بھڑکانے کا الزام عائد کر دیا گیا۔

ملزمین کی قانونی چارہ جوئی کے لیے پھر جمعیۃ علماء ہی میدان میں اتری، لوگوں کو ایف۔ آئی۔ آر درج کرنے پر آمادہ کیا، اور اس مقدمے کو لڑنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری طرف فرقہ پرست تنظیمیں اس محنت میں لگی رہیں کہ شہر کے نامور وکلاء کو مسلمانوں کے کیس کی پیروی کرنے سے روکیں۔ بڑی دقتیں پیش آئیں۔ عجیب و غریب حالات کا سامنا ہوا۔ جیسے جیسے دن گزرتا رہا نئی نئی مصیبتیں مقابلے کے لیے تیار تھیں۔

ایسے حالات میں اکابرینِ جمعیۃ بالخصوص حضرت مولانا ابوالعاص نوراللہ مرقدہ اور حضرت حافظ شمس الحق (چھوٹے حاجی) نوراللہ مرقدہ کی بصیرت و ذکاوت اور ان کے مشورے سے قانونی امداد کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی، اور اس کیس کو لڑنے کا بیڑا اٹھایا گیا۔ قانونی چارہ جوئی کے لیے جواں سال وکیل ایڈوکیٹ اشفاق شیخ اور ان کی ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی۔ وقت گزرتا رہا، حالات کے نشیب و فراز آتے رہے، لیکن حالات کے ان تھپیڑوں کا مقابلہ کرتے ہوے نہایت استقامت کے ساتھ مقدمے کی کارروائیاں انجام دی گئیں۔

نتیجتاً اللہ کے فضل اور کرم، بزرگوں، نوجوانوں اور عورتوں کی آہ سحر گاہی، نیز اراکینِ جمعیۃ بالخصوص قانونی امداد کمیٹی کی محنتوں سے آج وہ مبارک دن آہی گیا کہ تمام ملزمین کو سیشن کورٹ کے محترم جج ‘سید صاحب’ نے بفضل اللہ الزامات سے بری کرنے کا حکم سنا دیا۔
واضح ہو کہ کل 59 ملزمین میں 42 افراد کے مقدمے جمعیۃ علماء (مولانا ارشد مدنی) کی زیر نگرانی عدالت میں زیرِ سماعت تھے، اور الحمدللہ تمام ملزمین کو الزامات سے بری کردیا گیا ہے۔ تقریباً 13 سال سے ذہنی کرب میں مبتلا ملزمین نے راحت کی سانس لی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس سلسلے میں ایک مختصر استقبالیہ تقریب کا انعقاد دفتر جمعیۃ علماء، مدرسہ سراج العلوم، مولوی گنج میں کیا گیا۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ قانونی امداد کمیٹی کے فعال رکن اس مقدمے میں روزِ اول سے نہایت متحرک، الحاج غلام مصطفیٰ پپو ملا نے اجمالی طور پر شرکاء کے سامنے روئیداد بیان کی۔ نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ مفتی شفیق قاسمی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختصر، پر مغز خطاب فرمایا اور تمام ملزمین سے اللہ کی جانب رجوع ہونے اور اپنی زندگی کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین کی۔ الحاج شوال امین، نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ نے اپنی تقریر میں جمعیۃ علماء اور اکابرین کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوے جمعیۃ کے کاموں کی سراہنا کی اور تمام شرکاء سے جمعیۃ کے ساتھ قدم ملاکر چلنے کی درخواست کی۔
اخیر میں صاحبِ استقبال ایڈوکیٹ اشفاق شیخ کا جمعیۃ کی جانب سے، باعزت بری ہونے والے تمام ملزمین کی جانب سے اور خدام مرکز مسجد، جمیل وائرمین گروپ کی جانب سے یکے بعد دیگرے علماء کرام و معززین کے ہاتھوں استقبال کیا۔

سن 2008 فساد نے شہر کے علاوہ اطراف شہر اور دیہاتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ شہر کے قریب ونی نامی دیہات میں شرپسندوں نے مسجد میں گھس کر تبلیغی جماعت کے ساتھیوں پر حملہ کیا، بستی کے مسلمانوں کو تکالیف پہنچائی، اسی طرح شیروڈ نامی دیہات میں ملک کی سرحد پر حفاظتی دستے میں تعینات نوجوان عارف پٹیل کے مکان کو آگ لگادی۔ دیہات کے مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر جان بچانے کے لئے شہر میں پناہ لی۔ الحمدللہ جمعیۃ علماء دھولیہ ان مقدمات کو بھی عدالت میں دیکھ رہی ہے، ان شاء اللہ بہت جلد اس کا فیصلہ بھی ہمارے حق میں آنے کی امید ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس پورے مقدمے میں اراکینِ جمعیۃ نے جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری الحاج گلزار اعظمی صاحب (ممبئی) سے مشورہ لیتی رہی اور موصوف نے قدم قدم پر اس سلسلے میں خوب رہنمائی فرمائی، جس کی برکت سے اللہ نے اس معاملے کو حل فرما دیا۔ اللہ پاک آں محترم کو اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی خدمات انجام دینے والے تمام مخلصین و محبین کو اپنی شایان شایان دونوں جہان میں بہترین بدلہ عطا فرماے۔ اور اپنی رضا عطا فرماے۔ آمین
جمعیۃ علماء (ارشد مدنی) دھولیہ کی قانونی امداد کمیٹی کے ذمے داران عبدالسلام ماسٹر، غلام مصطفٰی پپو ملا، محمود ربانی، مشتاق صوفی وغیر ہم نیز جمعیۃ کے تمام اراکین کی انتھک کوشش و محنت سے اللہ پاک نے یہ کامیابی عطا فرمائی۔

اس تقریب کی صدارت حضرت مولانا محمد عابد قاسمی دامت برکاتہم نے فرمائی۔ نظامت کے فرائض اپنے مخصوص انداز میں محمد یوسف پاپا سر نے انجام دیے۔

تقریب میں حافظ حفظ الرحمن (صدر جمعیۃ علماء، ضلع دھولیہ)، مولانا ضیاء الرحمن (صدر جمعیۃ علماء، شہر دھولیہ)، مولانا محمد عابد، مفتی شفیق قاسمی، مولانا شعیب حنیف، مولانا غزالی، مولانا محمد ثوبان، مولانا اصغر جمیل، پپو ملا، الحاج مشتاق صوفی، الحاج شوال امین، شیخ پرویز، عبد المحیط میکانک، عارف عرش، محمد رضوان، عبدالرحمن، محمد ثوبان، سلیم بھیا، مسعود احمد، خادمین جامع مسجد مرکز، مولوی گنج، باعزت رہا ہونے، خوش نصیب افراد اور دیگر احباب موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com