Connect with us
Tuesday,29-September-2020

(جنرل (عام

آئندہ مالی سال کے لیے زراعت پرالگ سے بجٹ پیش کیا جائے گا : راہل

Published

on

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر ملک کے عوام کے ساتھ بار بار جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) کی قیادت والی حکومت کی تمام خامیوں کو جڑ سے ختم کیا جائے گا اور آئندہ مالی سال کے لیے زراعت پر الگ سے بجٹ پیش کیا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روزکرناٹک کے کولار میں انتخابی مہم کے تحت ’پریورتن یاترا‘ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ملک کے عوام اس چیزکو سمجھیں کہ کیسے ان برسوں کے دوران مسٹر مودی نے انھیں بے وقوف بنایا۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران جن غلط اقدامات نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے اور محض مالداروں کو فائدہ ہوا، ان میں اصلاحات کی جائیں گی۔

(جنرل (عام

مہاراشٹر و دہلی سمیت ملک کی 24 ریاستوں اور مرکزکے زیر کنٹرول علاقوں میں کورونا کے فعال کیسز کم ہوگئے

Published

on

ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر مہاراشٹر ، دہلی ، اترپردیش ، آندھرا پردیش اور کرناٹک سمیت 24 ریاستوں اور مرکزکے زیر کنٹرول علاقوں میں کورونا کے فعال کیسز میں کمی آئی ہے ۔
ریاست مہاراشٹرجو ملک میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے ،میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8191 مریض کم ہوئے ہیں جس سے ریاست میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 2،65،455 رہ گئی ہے ، جبکہ دہلی میں اسی عرصہ کے دوران 2105 فعال کیسز کم ہوئے ہیں ، جس کے بعد کورونا کیسز کی تعداد 27123 ہوگئی ۔ اترپردیش میں 1650 ، آندھرا پردیش 1760،اور کرناٹک میں673 ، انڈمان اور نکوبارجزائر میں 20 ، بہار میں 163 ، چنڈی گڑھ میں 103 ، دادر نگر حویلی اور دمن دیو میں 19، گوا میں 180 ، ہریانہ میں 815 ، ہماچل پردیش میں سات ، جموں و کشمیر میں 598 ، جھارکھنڈ میں 307 ، مدھیہ پردیش میں 519 ، میگھالیہ میں 32 ، میزورم میں 36 ، ناگالینڈ میں 40 ، اڈیشہ میں 795 ، پڈو چیری میں 225، پنجاب میں 810 ، تمل ناڈو میں 35 ، تلنگانہ میں 196 اور اتراکھنڈ میں کورونا کے 733 ایکٹیو کیسز کم ہوئے ہیں۔
منگل کے روز صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 84،877 کورونا مریض صحتمند ہوئے ہیں جس سے شفایاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 51،01،398 ہو گئی۔ کورونا وائرس کے 70،589 نئے کیسز سامنے آنے سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 61،45،292 ہوگئی ہے ۔اس کے مقابلے میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 15،064 ہوگئی جس سے اب یہ مجموعی طور پر 9،47،576 ہوگئی ہے۔
وزارت صحت کی جانب سے آج جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر کنٹرو علاقوں میں کورونا متاثرین کی تعداد مندرجہ ذیل ہے:
ریاست ……………ایکٹیو کیسز ……… شفایاب …………. ہلاکتیں
انڈمان نکوبار …….. 168 ………… 3582 …………. 53
آندھرا پردیش ………….. 63116 ……… 612300 …….. 5745
اروناچل پردیش ……. 2725 ……….. 6592 …………. 15
آسام ………………. 30662 ……… 142300 ………. 667
بہار ………………. 12664 ………. 166276 ……… 892
چنڈی گڑھ ……………. 2200 ………… 9325 ……….. 153
چھتیس گڑھ …………. 33044 ……….. 74537 ……… 877
دادرنگر حویلی اور دامان ڈیو …….. 133 ………… 2877 ………….. 02
دہلی ……………… 27123 ……… 240703 ……. 5272
گوا ……………… 4917 ……….. 27072 ………. 407
گجرات …………. 16689 ………. 114344 ……… 3428
ہریانہ ………… 15670 ………. 108411 ……… 1331
ہماچل پردیش …. 3650 ………… 10627 ……….. 180
جموں کشمیر …… 17601 ………. 54267 ……….. 1146
جھارکھنڈ ……….. 12126 ……… 68603 ………… 688
کرناٹک ………… 104067 ……. 469750 …….. 8641
کیرالہ …………… 57957 ……….. 3032 …………. 697
مدھیہ پردیش ……. 21912 ………. 100012 ……….. 2242
مہاراشٹر …….. 265455 ……. 1049947 ……. 35751
منی پور ………… 2431 ………… 7982 …………. 64
میگھالیہ ………. 1448 ……….. 3868 ………….. 46
میزورم ………… 499 ……….. 1459 …………… 00
ناگالینڈ ……… 1002 ………. 4938 …………… 17
اوڈیشہ ……….. 34211 ……. 177585 ……….. 813
پڈوچیری …………. 5014 …….. 21156 ………… 515
پنجاب ……….. 17746 ……… 90345 ……….. 3284
راجستھان ……. 20043 …….. 109472 ………. 1456
سکم ………. 698 ………… 2164 …………. 34
تمل ناڈو ……. 46306 ……. 530708 ……… 9383
تلنگانہ ……… 29477 …….. 158690 ……… 1116
تری پورہ ………… 5874 ……… 19203 ……….. 276
اتراکھنڈ …….. 10066 ……. 36856 ……….. 580
اتر پردیش …… 53953 ……. 331270 …….. 5652
مغربی بنگال..25899 ……. 219844 ……… 4837
مجموعی …………. 947576 ….. 5101397 ……. 96318

Continue Reading

جرم

ہاتراس گینگ ریپ : زبان کاٹی، ریڑھ کی ہڈی توڑی، موت سے پہلے اشارے میں بیان کی درندگی، دو صفحات میں لکھی گئی داستاں

Published

on

rape case11_0

یوپی کے ہاتراس میں اجتماعی عصمت دری کی شکار ہوئی بیٹی کی پندرہ دن کے بعد دہلی میں واقع ایمس میں موت ہوگئی. حیوانیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے، کہ درندوں نے باری باری اسے اپنی ہوس کا شکار بنایا. لڑکی اپنی زبان نہ کھول سکے اس لئے اس کی زبان کاٹ دی. چل کر اپنے گھر نہ جائے تو اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی. اتنی حیوانیت کے بعد وہ آخری سانس تک زندگی کی جنگ لڑتی رہی. اس معاملے میں پولس پر بھی لاپرواہی کا الزام لگا ہے. اس معاملے میں سیاست تیز ہونے پر پولس حرکت میں آئی.
اجتماعی عصمت دری کے بعد اسپتال میں داخل لڑکی کو 9 دن بعد ہوش آیا. ہوش میں آنے کے بعد کٹی زبان کی وجہ سے وہ کچھ بول نہ سکی۔ اپنے ساتھ ہوئی درندگی بیان کی۔ بیان لینے پہنچے سی او نے لڑکی کا بیان دو صفحات میں لکھا۔
بتادیں کہ یوپی کے ہاتراس کے تھانہ چنداپا علاقے کے گاؤں میں 14 ستمبر کو ایک 19 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ گاؤں کے رہنے والے چار دبنگ نوجوانوں پر اجتماعی عصمت دری کا الزام تھا۔ متاثرہ کے ساتھ حیوانیت کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق، عصمت دری کے بعد اس کی زبان بھی کاٹ دی گئی تھی جس کے بعد متاثرہ کو علی گڑھ کے جے این میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا تھا.
مبینہ طور پر ملزموں کی شناخت گاؤں کے ہی رہنے والے سندیپ، لوکش، رامو اور روی کے روپ میں ہوئی۔ 14 ستمبر کو ہاتراس کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ سندیپ کو 14 ستمبر کو ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس واقعے کے کئی دن بعد، پولیس نے رامو اور لوکش کو گرفتار کرلیا۔ اسی دوران، 26 ستمبر کو چوتھا ملزم روی، جو مفرور تھا، اس کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔
14 ستمبر کو، ہاتراس کے علاقے چنداپا گاؤں میں، چار دبنگ نوجوانوں نے باجرے کے کھیت میں 19 سالہ دلت لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی۔ اس معاملے میں، پولیس نے لاپرواہ رویہ اختیار کیا۔ عصمت دری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج نہیں کرتے ہوئے، ایک نوجوان کو چھیڑ چھاڑ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کے خلاف دفعہ 307 (قتل کی کوشش) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
واقعے کے 9 دن بعد جب متاثرہ کو ہوش آیا تو اس نے اپنے اہل خانہ کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا۔ لڑکی کی آپ بیتی سن کر سب حیران رہ گئے۔ جب معاملہ سامنے آیا تو سیاست تیز ہوئی۔ بھیما آرمی سے لے کر بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے حکومت کو نشانے پر لیا۔

Continue Reading

سیاست

کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے رکن اسمبلی ڈاکٹر فاروق شاہ کا ریاستی وزیر برائے تعمرات اشوک چوہان سے مطالبہ

Published

on

(خیال اثر )
دھولیہ شہر میں حکومت کے مختلف مقامات پر ، یعنی تقریبا” 38 جگہوں پر مختلف دفاتر کرائے پر جاری ہیں۔ حکومت کو ان دفاتر کے کرایہ کے لئے 40 سے 50 لاکھ روپے ماہانہ ادا کرنا پڑتا ہے چونکہ یہ دفاتر شہر میں بہت دور تک بکھرے ہوئے ہیں لوگوں کو خاص کر دیہی اور دور دراز کالونیوں سے آئے والوں کو روز مرہ کے کام کرنے کے لئے مدد کا سہارا لینا پڑتا ہے جو لوگوں کا وقت اور پیسہ ضائع کرتا ہے۔ حکومت نے مختلف محکموں کے دفاتر کو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگوں کے کام ایک ہی چھت کے نیچے ہوں اور انہیں مختلف جگہوں پر منتقل نہ ہونا پڑے۔ اس کے لئے دھولیہ شہر میں سروے نمبر 3512 (بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن کے نزدیک) وسطی علاقے میں منصوبہ بند جگہ پر ہونا چاہئے تاکہ دھولیہ شہر میں کرایہ کی بنیاد پر قائم تمام سرکاری دفاتر ایک ہی چھت کے نیچے آئیں گے جس سے سرکاری رقم کی بچت ہوگی اور اس رقم کو عوامی مفاد کے دیگر کاموں کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اسی وجہ سے دھولیہ شہر میں تمام سرکاری دفاتر کو ایک ہی چھت کے نیچے کرائے کی بنیاد پر لانے کے لئے انتظامی کمپلیکس کی تعمیر کے لئے بی او ٹی کے تحت منظور کیا جائے اس طرح کا ایک مطالباتی میمورنڈم دھولیہ شہر کے رکن اسمبلی ڈاکٹر فاروق شاہ نے ریاستی حکومت کے وزیر برائے تعمیرات اشوک چوہان سے ممبئی میں ملاقات کر کے انہیں پیش کیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com