Connect with us
Saturday,19-June-2021

سیاست

کانگریس کا اترپردیش حکومت سے انتخابی ڈیوٹی میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کی امداد کا مطالبہ

Published

on

congress

اترپردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے پنچایتی انتخابی ڈیوٹی کے دوران اپنی جان گنوانے والے ٹیچروں کے ساتھ شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کیلئے یکساں امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وباء میں پنچایتی انتخابی ڈیوٹی کے دوران اپنی جان گنوانے والے سبھی لوگوں کو یکساں پالیسی کے تحت انصاف ملنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کے لواحقین کو بھی سرکاری ملازمتیں دی جائیں۔

للو سنگھ نے بتایا کہ پنچایت الیکشن ڈیوٹی میں ٹیچروں اور دیگر اہلکاروں کے علاوہ 200شکشا متر، 99 انسٹرکٹرز اور تقریباً 100 باورچیوں کورونا وائرس ہوا اور وہ پنچایت انتخابی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اساتذہ اور دیگر ریاستی ملازمین کے لئے ریاستی حکومت نے ہرایک کے لواحقین کو 30 لاکھ روپے گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن اس میں شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کے لئے کسی قسم کی ریلیف دینے کا اعلان نہیں کیا گیا، جس سے ہلاک شدگان کے لواحقین کے سامنے معاش کا بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے دوران جان گنوانے والے شکشا متروں، باورچیوں اور انسٹرکٹرز کیلئے امداد کا اعلان نہ کیا جانا بنیادی یکساں انسانی برابری کے خلاف اور ناانصافی ہے۔

متوفیوں پرانحصار کرنے والوں کے سامنے روی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اسلئے یوگی حکومت نابرابری اور ناانصافی کے بجائے جان گنوانے والے شکشا متروں، انسٹرکٹروں اور باورچیوں کے لواحقین کے گھروں میں ایک ایک شخص کو نوکری دے جس سے معاش کا راستہ کھل جائے۔

مسٹر للو نے مطالبہ کیا ہے کہ جاں بحق اساتذہ کے لواحقین کے لئے ایک کروڑ روپئے کی گرانٹ کے ساتھ نوکری دی جانی چاہئے۔ اسی طرح شکشا متروں، انسٹرکٹرز اور باورچیوں کے اہل خانہ کو بھی یکساں امداد دی جانی چاہئے، اور ہر متوفی کے گھر کے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمت میں دی جانی چاہئے۔

جرم

اوریا : سڑک حادثے میں دو کی موت، 3 زخمی

Published

on

accident

اترپردیش کے ضلع اوریا کے صدر علاقے میں بے قابو موٹر سائیکل کے سڑک کنارے کھڑے ٹینکر میں ٹکرانے سے اس پر سوار ایک ہی کنبے کے دو اراکین کی موت ہو گئی، جبکہ دیگر تین شدید طور سے زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ محلہ بنارسی داس باشندہ مہیش چندر کی بیٹی سنگیتا (30) اپنے شوہر راہل، دو بچوں ریا (06)، روہن (04)اور پھوپھی کے بیٹے سنجے (28) کے ساتھ ایک بائیک پر سوار ہو کر اپنی سسرال کاندھی کانپور دیہات کے لئے جا رہی تھیں۔ ان کی موٹر سائیکل نیشنل ہائی وے پر صدر علاقے کے گاوں جنیت پور دھوریرا کے سامنے پہنچی کہ بے قابو ہو کر سڑک کنارے کھڑے ایک ٹینکر میں پیچھے سے ٹکرا گئی۔

اس حادثے میں بائیک ڈرائیور سنجے اور معصوم روہن کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ سنگیتا، راہل اور ریا شدید طور سے زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی علاج کے بعد تینوں زخمیوں کو میڈیکل یونیورسٹی سیفئی کے لئے ریفر کر دیا۔

Continue Reading

سیاست

اَن لاک کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لاپرواہی : وزارت داخلہ

Published

on

ministry

مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو آگاہ کیا ہے کہ پورے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر کیے جانے والے اَن لاک کے دوران کسی بھی طرح کی لاپرواہی یا نرمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، لہٰذا مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹمنٹ اور ٹیکہ کاری کی پانچ نکاتی پالیسی کو مکمل طور پر اختیار کیے جانے کی سخت ضرورت ہے۔

مرکزی ہوم سکریٹری اجے بھلّا نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہفتے کے روز خط لکھ کر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر مختلف شعبوں کو کھولا جانا جتنا ضروری ہے‘ اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ اس دوران مکمل احتیاط برتی جائے، اور زمینی صورتحال کے اندازے کی بنیاد پر ہی فیصلے کیے جائیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اَن لاک کے دوران پانچ نکاتی پالیسی کو سختی سے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اس میں مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ کورونا ٹیسٹ، متاثرہ شخص کے رابطوں کا پتہ لگانا، متاثرین کا علاج اور ٹیکہ کاری ضروری ہے۔

Continue Reading

سیاست

بی جے پی اقتدار میں کسانوں کا برا حال : اکھلیش

Published

on

akhilesh

سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نےآج کہا کہ کسانوں جیسی بری حالت بی جے پی کے ساڑھے چار سالہ اقتدار میں ہوئی ویسی گذشتہ پچاس سالوں میں بھی نہیں ہوئی تھی۔

گیہوں خرید کی تاریخ بڑھا کر کسانوں کو دھوکہ دینے کی سازش رچی گئی ہے۔ کسان کو نہ فصل کی قیمت مل رہی ہے اور نہ ہی معاوضہ مل رہا ہے۔ اوپر سے مہنگائی کی مار نے اس کی قمر توڑ دی ہے۔ حکومت وہائٹ پیپر جاری کرے تاکہ کسانوں سے گیہوں خرید کی سچائی سامنے آ سکے۔

کاغذوں میں گیہوں خرید کی تاریخ بڑھانے کا اعلان تو ہوا ہے جبکہ حقیقت میں خرید مراکز بند ہیں۔سرکاری خرید پورٹل کام نہیں کر رہا ہے۔ کسان کا کھلہان میں رکھا گیہوں بھیگنے سے خراب ہو رہا ہے، تو کچھ خرید مراکز میں کھلے میں پڑا سڑ رہا ہے۔ ویسے بارش کے دنوں میں تمام خرید مراکز پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ کسان مایوس ہیں۔

رامپور میں خرید مراکز پر کسان بھٹک رہے ہیں۔ گیہوں کی تول میں پش وپیش سے کام لیا جا رہا ہے۔ رانی پور میں پورٹل بند ہونے سے کسانوں کو تمام پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ اٹاوہ میں خرید مراکز کی تاریخ میں توسیع کی گئی، لیکن مراکز پر تول بند ہے۔ ریاست میں کہیں بھی کسانوں کو ایم ایس پی پر گیہوں خرید کا فائدہ نہیں ملا ہے۔

بی جے پی اقتدار میں کسانوں کو نہ تو اخراجات کا ڈیڑھ گنا دام ملا نہ ہی دھان 1888 اور گیہوں 1935 روپئے فی کوئنتل ایم ایس پی پر فروخت ہوا۔ کسانوں کو راحت نہیں ملی الٹے اس کی کھیتی میں کام آنے والا ڈیزل مہنگا ہوگیا۔ بجلی کی شرحوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ کھاد کی بوری کی قیمتوں میں اضافہ تو ہوا، لیکن کھاد کی مقدار کو کم کر دیا گیا۔ کسانوں کو آسانی سے قرض بھی نہیں مل رہا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ کسانوں سے گیہوں کی سست رفتار خریداری سرکاری اشارے پر کی گئی ہے، تاکہ وہ اپنا گیہوں دلالوں کو فروخت کرنے کو مجبور ہوں۔ افسران کوالٹی کے نام پر خرید کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ چمک اور سکڑن کے نام پر گیہوں خریدنے سے منع کر دیا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com