Connect with us
Wednesday,30-September-2020

(جنرل (عام

ممبئی میں کورونا وائرس کے انفیکشن سے 45 افراد ہلاک، 1236 صحت یاب ہوئے

Published

on

ممبئی میں 862 نئے معاملے آنے کے ساتھ کورونا وائرس متاثر کے معاملوں کی تعداد بڑھ کر جمعہ کو 121027 ہوگئی۔ برہمومبائی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے بتایا کہ ممبئی میں کورونا وائرس کے انفیکشن سے 45 اور لوگوں کی موت ہوگئی جس سے اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 6690 ہوگئی ہے۔
شہری ادارہ نے کہا کی کوویڈ-19 کے 1236 اور مریض صحت یاب ہونے کے بعد اسپتالوں سے اپنے گھر چلے گئے۔ اس کے ساتھ ہی میٹروپولیس میں صحت یاب ہوئے مریضوں کی کل تعداد 93897 ہوگئی ہے اس نے کہا کی ممبئی میں کوویڈ-19 کے مریضوں کے صحت یاب ہونے کی شرح77 فیصد ہے اور 20143 مریض اس وقت زیر علاج ہے۔ وہی شہری ادارے نے جمعہ کو کہا کی ممبئی ہوائی اڈّے پر اترنے والے کسی بھی مسافر کو گھر پر الگ تھلگ رہائش سے تب تک چھٹی نہیں دی جائے گی جب تک کی اس شخص کے پاس بی ایم سی سے لکھے اجازت نامہ نہ ہو۔ بی ایم سی نے تین اگست کو ہوائی اڈّے کے آفیسر کو بھی یہ ہدایات جاری کی۔

(جنرل (عام

امیر کویت صباح الاحمد الصباح کا انتقال

Published

on

امیر کویت صباح الاحمد الجابر الصباح کا آج 91 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، وہ طویل عرصے سے علیل تھے اور امریکہ کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔
عرب نیوز اور الجزیرہ نیوز کی رپورٹوں کے مطابق امیر کویت صباح الاحمد الصباح کو جولائی میں علاج کے لیے امریکہ کے ایک اسپتال میں بھرتی کرایا گيا تھا، جہاں علاج کے دوران بروز منگل ان کا انتقال ہوگیا۔
سن 1929 میں پیدا ہونے والے شیخ صباح الاحمد الصباح کو جدید کویت کی خارجہ پالیسی کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے 1963 سے 2003 تک تقریبا 40 سال تک کویت کے وزير خارجہ کے بطور خدمات انجام دینے کے بعد ملک کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا تھا۔
اگست 2019 میں انہیں شدید طبی عارضہ لاحق ہوا اور انہیں طویل عرصے تک اسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔ پھر جولائی 2020 میں انہیں فوری طبی علاج کے لیے امریکہ لے جایا گیا جہاں ان کی سرجری کی گئی تھی۔
امیر کویت کی وفات کے بعد آئین کے مطابق ولی عہد نواف الاحمد الصباح ملک کے نئے امیر ہوں گے۔
امیر کویت کا انتقال ایسے وقت میں ہوا ہے جب کویت عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ-19) کا سامنا کررہا ہے، جہاں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ کے پار ہوچکی ہے۔ کویتی وزارت صحت کے مطابق 95 ہزار متاثرین صحتیاب ہوچکے ہیں، اور 605 افراد جاں بحق ہوئے ہيں۔

Continue Reading

سیاست

ادھو حکومت نے عوام سے کی اپیل، اس سال نہ منائیں گربا اور ڈانڈیا

Published

on

مہاراشٹر میں اس بار گربا اور ڈانڈیا کی حکومت آرڈر نہیں دیں گی۔ ریاست میں کرونا کا بحران ایک جیسے ہی ہے۔ ریاست کے دیہی حصے اب بھی اس وبا کے شکار ہیں۔ حکومت اس سے نمٹنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کوششیں کر رہی ہے لیکن کورونا قابو میں نہیں آرہا ہے۔ کرونا کی وجہ سے، تمام تہوار بھی انتہائی سادگی سے منائے جارہے ہیں۔
مہاراشٹرا کی حکومت نے شہریوں کو آئندہ آنے والی نوراتری کے بارے میں ہدایات پہلے ہی جاری کردی ہیں تاکہ اس تہوار کے موسم میں کورونا کا پھیلاؤ بڑھ نہ سکے۔ مہاراشٹر میں گنپتی کے بعد نوراتری اور گربا منایا جاتا ہے۔ ماتا رانی کے پنڈال کو جگہ جگہ سجایا جاتا ہے اور اس کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔ اس عرصہ کے دوران بڑے پیمانے پر گربا اور ڈانڈیا کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ جس کو لوگ دور دراز سے کھیلنے اور دیکھنے آتے ہیں۔ لیکن کرونا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر، مہاراشٹرا حکومت نے اس سال کے لئے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔
حکومت نے حالیہ گنیش اتسو کے لئے جو اصول بنائے تھے وہی اس بار نوراتری میں بھی لاگو ہوں گے۔ یعنی منڈلوں کے لئے بتوں کی اونچائی 4 فٹ ہوگی جبکہ گھر میں لائے جانے والے بت کی اونچائی 2 فٹ ہوگی۔ نیز، عوامی نوراتری منڈل کو مقامی بلدیات کی منظوری لینا ہوگی اور ان کے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ بھیڑ بڑھ نہ پائے۔ اس کے علاوہ، اشتہارات لگانے ہوگے کہ کس طرح کورونا کو روکنا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

انڈونیشیائی تبلیغی جماعت کے 12 افراد باندرہ عدالت سے باعزت بری

Published

on

( پریس ریلیز )
انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ 12 احباب جن پر پاسپورٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی طریقہ سے ہندوستان میں داخل ہونے، کرونا وائرس پھیلانے، اقدام قتل دفعہ 307 اور دفعہ(2 ) 304 انڈین پینل کورڈ دفعہ 14 اور سیکشن کوڈ 19 سینٹرل ایکٹ کے الزام میں گرفتار انڈونیشائی جماعت کے تمام افراد کو باندرہ مجسٹریٹ عدالت نے باعزت بری کردیا ہے اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ باندرہ عدالت کے جج جے دیو وائی گھلے کے ذریعہ انڈونیشائی جماعت کے ساتھیوںکی با عزت رہائی کا فیصلہ آنے کے بعد ممبئی تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں مولانا اسعد قاسمی گوونڈی، پرویز بھائی باندرہ و دیگرنے راحت کی سانس لی اور خدائے وحدہ لا شریک کا شکر ادا کیا کہ بیرونی جماعت کے بے گناہ ساتھیوںکو اذیت ناک سزاء سے نجات ملی۔ مولانا ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صداقت اور سچائی کی جیت ہے انشاء اللہ اسی طرح دیگرمقدمات میں گرفتار نو جوان بھی عدالت سے با عزت بری ہو نگے،جمعیۃ علماء مہا راشٹر گذشتہ کئی سالوں سے عدالتوں میں بے گناہوں کی لڑائی لڑ رہی ہےاور کئی بے گناہ باعزت بری ہو رہے ہیں اور انشاللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے مولانا ندیم صدیقی نے بتایا کہ 29 فروری 2020 کو تبلیغی جماعت کے طریقہ کار کو دیکھنے کے لئے انڈونیشا کا ایک وفد (جن میں 6 ؍ مرد اور 6 ؍خواتین شامل تھیں) انڈیا کے مرکز نظام الدین دہلی آیاچند دن قیام کے بعد 6 مارچ کو انڈو نیشاء کا وہ وفد بذریعہ ٹرین ممبئی پہونچا اور نوی ممبئی کے مختلف علاقوں میںقیام پذیر رہا، ملک میںاچانک لاک ڈائون کے اعلان اور پھر مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں حراست میں لے کرکے باندرہ میں کورنٹائن کر دیا گیاتھا،ا ن کا ٹسٹ کرایا گیا جن میں سے10 لوگوں کی رپورٹ نگیٹیو آئی،کورنٹائن کی مدت مکمل ہوتے ہی پولیس نے انہیں گرفتار کرکے ان پر مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ جمعیۃ لیگل سیل نےممبئی سیشن کورٹ نے ان کی ضمانت بھی منظور کرائی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک ،ممبئی ہائی کورٹ( اورنگ آباد اور ناگپو بنچ ) کا تبلیغی جماعت کے حق میں تاریخی فیصلہ آ نے کے بعد ہماری لیگل ٹیم نے مذکورہ بالا عدالتوں کے فیصلوں کوبنیاد بناتے ہوئے انڈونیشائی جماعت کے 12 افراد پر ممبئی میں دائر کردہ مقدمات کو ڈسچارج کر نے کے لئے باندرہ عدالت میں درخواست داخل کی تھی کیو نکہ پولیس نے اس معاملے میں باندرہ کورٹ میں جو چارج شیٹ داخل کی تھی وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اس میں لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور کوئی ایسا خاطر خواہ ثبوت نہیں ہے جس کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے اراکین کو قصور وار ٹھرایا جاسکے ، اسی آج عدالت نے جمعیۃ علما مہا راشٹر کی جہد و مسلسل اور کوششوں کے نتیجہ میں ان احباب کی باعزت رہائی عمل میں آئی اور کیس کو بنیادی طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جا نب سے اس مقدمہ کی پیروی جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہورخان کی نگرانی میں ایڈوکیٹ عشرت علی خان و دیگر کررہے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com