Connect with us
Saturday,12-June-2021

(جنرل (عام

اسرائیل مظلوم فلسطینیوں سے ان کے جینے کا حق چھین رہا ہے، حالیہ بربریت پرعالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش کیوں؟ مولانا ارشد مدنی

Published

on

maulana-arshad-madni

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مظلوم فلسطینیوں پر، مسجد اقصی میں ہوئے حالیہ اسرائیل حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت اور اسے ظلم وبربریت کی انتہا قرار دیتے ہوئے ان حملوں کو انسانیت پر ایک سنگین حملے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں جاری ایک بیان کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ عالمی برادری اور خاص طور پر مسلم ممالک کی خاموشی سے شہہ پاکر اسرائیل اب نہتے اور لاچار فلسطینی عوام سے ان کے جینے کا حق چھین لینے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس تاریخی سچائی سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی کہ اسرائیل ایک غاصب ملک ہے، جس نے فلسطین کی سر زمین پر بعض عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے جبرا قبضہ کر رکھا ہے، اور اب وہ اسی خاموشی کے نتیجہ میں اس سر زمین سے فلسطینی عوام کے وجود کو ختم کر دینے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قبضہ کے بعد سے ہی اسرائیل فلسطینی عوام کو مسلسل ظلم و جبر کا نشانہ بنائے ہوئے ہے، اس دوران مصالحت اور مفاہمت کی لا تعداد کوششیں ہوئیں، لیکن سب کا سب بے سود رہیں، بعض طاقتور ملکوں کی در پردہ حمایت کے نتیجہ میں اسرائیل فسلطین کے تعلق سے اقوام متحدہ سے وقت وقت پر منظور ہوئی قراردادوں کو بھی اپنے پیروں تلے روندتا رہا ہے، اور اب تو مسلم ملکوں سے سفارتی تعلقات قائم ہونے بعد اس کے ناپاک حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں، کہ مسجد اقصی میں عبادت میں مصروف فسلطینی مرد وخواتین یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی اپنی بربریت کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کر رہا ہے۔

مولانا مدنی نے کہاکہ اس میں ہماری بے حسی اور خاموشی کا دخل کچھ زیادہ ہے، اگر ہم نے یعنی مسلم ممالک نے اس مسئلہ کی اہمیت اورسنگینی کا ابتداہی میں اندازہ کر کے کوئی مؤثر مشترکہ حکمت عملی فسلطین کے تعلق سے تیار کر لی ہوتی تو آج اسرائیل اس طرح فلسطینی شہریوں کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنانے کا خوصلہ نہیں کر سکتا تھا، انہوں نے تازہ حملوں کو انسانی حقوق پر ہونے والا سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی وہ مہذب دنیا بھی اس پر خاموش ہے، جو عالمی امن اور اتحاد کی نقیب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، انسانی حقوق کا مسلسل ورد کرنے والے عالمی ادارے بھی چپ ہیں، انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس کا مذاکرات کے ذریعہ کوئی حل نہ نکالا جاسکے، عالمی برادری بالخصوس دنیا کے وہ طاقتور ملک جو اقوام متحدہ کے مستقل ممبر ہیں، اگر مخلص ہوتے تو اس مسئلہ کا بھی کوئی پر امن اور قابل قبول حل نکال سکتے تھے، مذاکرات کی میز پر بات چیت کا ڈھکوسلا تو کئی بار ہوا، مگر افسوس اس مسئلہ کا کوئی حتمی اور پائیدار حل نکال نے کی کوئی ذمہ دارانہ کوشش کبھی نہیں ہوئی۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے لئے بربریت انتہا پسندی اور اس کی مستقبل کی خطرناک منصوبہ بندی ظاہر کر دیتی ہے، کہ یہ صہیونیت اور اسلام کی ایک جنگ ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ یورپین یونین ہو، عالمی ادارے ہو یا پھر دنیا کے باثر ممالک کوئی بھی کھل کر فلسطینیوں کے حقوق کی بات نہیں کرتا، بلکہ ان کی طرف سے اگر کوئی بیان بھی جاری ہوتا ہے، تو نپے تلے لفظ ہوتے ہیں، اور در پردہ اس میں اسرائیل کی حمایت بھی شامل ہوتی ہے، دوسرے اس طرح کے اسرائیلی اقدامات سے اس پورے خطہ میں قیام امن کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، انہوں نے اقوام متحدہ یورپین یونین، ورلڈ مسلم لیگ، حکومت ہند اور تمام انصاف پسند بین لاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی جارحانہ ہشت گردی کے خلاف پختہ قدم اٹھائیں، ساتھ ہی اسرائیلی فوج کو بلا تاخیر مسجد اقصی کی حدود سے باہر کیا جائے، اور مشرقی یروشلم میں اس کی مداخلت کو روکا جائے۔ مولانا مدنی نے آخر میں یہ کہہ کر مسلم ممالک کی غیروحمیت کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی کہ اگر وہ اب بھی خاموش رہے، تو پھر یہ معاملہ فلسطین کی حدود تک ہی محدود نہیں رہے گا، مسلم ممالک اگر اب بھی نہ جاگے تو کل تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

(جنرل (عام

شفایابی کی شرح بڑھ کر 95 فیصد سے تجاوز، ایکٹو کیسز کی شرح میں کمی

Published

on

india-corona

ملک میں کورونا کی رفتار دھیمی پڑنے سے اور اس وبا کو شکست دینے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے کی وجہ سے شفایابی کی شرح 95.7 فیصد ہوگئی ہے، وہیں ایکٹو کیسز کی شرح 3.68 فیصد ہوگئی ہے ۔
دریں اثنا جمعہ کو 34 لاکھ 33 ہزار 763 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ۔ ملک میں اب تک 24 کروڑ 96 لاکھ 304 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں ۔
وزارت صحت کی طرف سے ہفتہ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 84،332 نئے کیسزسامنے آنے سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ 93 لاکھ 59 ہزار 155 ہوگئی ۔ اس دوران ایک لاکھ 21 ہزار 311 مریض صحتاب ہوئےہیں ، جس سے ملک میں اب تک صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دو کروڑ 79 لاکھ 11 ہزار 384 ہو گئی ۔ ایکٹو کیسز 40 ہزار 981 کم ہو کر 10 لاکھ 80 ہزار 690 رہ گئے ہیں ۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4002 مریضوں کی موت ہونے سے اس وباسے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 67 ہزار 81 ہوگئی ہے۔ ملک میں کورونا سے شرح اموات فی الحال 1.25 فیصد ہے۔
مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 1041 بڑھ کر 1،64،629 ہو گئے ہیں ۔ اس دوران ریاست میں مزید 8104 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کوروناسے نجات پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 5616857 ہوگئی ہے ۔ وہیں مزید 2619 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 106367 ہوگئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایمس-آئی این آئی سی ای ٹی 2021 کے امتحان ایک ماہ کے لئے ملتوی

Published

on

Supreme-Court

سپریم کورٹ نے جمعہ کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کو آئی این آئی سی ای ٹی 2021 کا امتحان ایک ماہ کے لئے ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے، یہ امتحان پہلے 16 جون کو ہونے والا تھا۔ جج اندرا بنرجی اورجج ایم آرشاہ کی بنچ نے 23 ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے گروپ، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن، میڈیکل اسٹوڈنٹ نیٹ ورک (چھتیس گڑھ چیپٹر) اور کووڈ مریضوں کے علاج میں مصروف 35 دیگر ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی درخواستوں پر سماعت کرنے کے بعد یہ حکم دیا۔

عدالت نے کہا، ’’امیدواروں نے جن مراکز کو منتخب کیا ہے، وہ ان سے کافی دور کووڈ ڈیوٹی کررہے ہیں۔ انہیں تیاری کرنے کا مناسب وقت نہیں ملا ہے، اس کے پیش نظر ہمارا ماننا ہے کہ 16 جون کی تاریخ امتحان کے لئے مقرر کرنا من مانی ہے۔ ہم ایمس کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ اس امتحانات کو کم از کم ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دیں۔

درخواست گزاروں نے 16 جون کو امتحان کروانے کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بیشتر ڈاکٹر مختلف اسپتالوں میں کووڈ ڈیوٹی کر رہے ہیں، اور انہیں امتحان کے تیاری کا مناسب وقت نہیں ملا ہے۔
انہوں نے درخواست میں پوسٹ گریجویٹ کورس میں داخلہ کے لئے ہونے والے امتحانات کو ملتوی کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بارے میں ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل اروند داتارنے کہا کہ جب مئی میں ہونے والے نیٹ امتحانات اگست تک ملتوی کئے جاسکتے ہیں، تو آئی این آئی سی ای ٹی کے امتحانات کیوں نہیں ملتوی کئے جاسکتے۔

ایمس کے وکیل دشینت پراشار نے بنچ سے کہا کہ مئی میں پراسپکٹس جاری کر دیا تھا، اور یکم مئی کو امیدوار کو امتحان کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ اگر امتحان روک دیا جائے گا تو ڈاکٹروں کی کمی ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 32 ریاستوں میں امتحان کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس انفیکشن کی صورت حال میں بہتری ہوگئی ہے۔

عدالت نے حالانکہ زور دیا کہ امتحان کم ازکم ایک ماہ کے لئے ملتوی کیا جانا چاہیے۔ ایمس کے وکیل نے ہدایت لینے کے لیے پیر تک کا وقت دینے کا مطالبہ کیا، لیکن بنچ نے یہ کہتے ہوئے اس سے انکار کر دیا کہ امتحان کی تاریخ کافی نزدیک ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ای ایم آئی میں کوئی راحت نہیں، لون موریٹوریم آگے بڑھانے سے سپریم کورٹ کا انکار

Published

on

SUPREAM COURT

کورونا کی دوسری لہر میں معاشی بحران کا سامنا کرنے والے اور ای ایم آئی میں راحت کی امید رکھنے والے افراد کو جمعہ کو اس وقت دھچکا لگا، جب سپریم کورٹ نے قرضوں کی روک تھام اسکیم اور سود میں چھوٹ سے متعلق درخواست خارج کر دی۔ جسٹس اشوک بھوشن کی سربراہی میں بنچ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی کا معاملہ ہے، اور عدالت حکومت کی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔

عدالت عظمی نے کہا کہ درخواست گزاروں کو اپنے مطالبے کے لئے مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) سے رجوع کرنا چاہئے۔

درخواست میں قرضوں کی تنظیم نو کی اسکیم کے تحت نیا موریٹوریم، وقت میں توسیع اور بینکوں کے ذریعہ غیر اعلانیہ اثاثوں (این پی اے) کے اعلامیے پر عارضی موریٹوریم مانگنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست میں عدالت سے فوری امداد کا مطالبہ کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ مرکز اور آر بی آئی کی جانب سے عام آدمی کے لئے جو ابھی تک انتہائی مالی بحران کا شکار ہیں، کے لئے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے فوری ریلیف طلب کیا کیونکہ مرکز اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے عام آدمی کی مدد کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں، جو اس وقت انتہائی مالی دباؤ میں ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com