Connect with us
Tuesday,04-August-2020

سیاست

کانپور:شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو 1-1 کروڑروپئے کا مالی تعاون

Published

on

اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کو کانپور میں شہیدہونےو الے 8پولیس اہلکار کے اہل خانہ کے لئےمالی تعاون کے طور پر ایک۔ایک کروڑ روپئے اور اہل خانہ میں سے ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا ہے۔
مالی تعاون کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ اس واردات کے مجرمین کو کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ایک کروڑ روپئے کے ساتھ ہر ایک کے اہل خانہ کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائے اور انہیں غیر معمولی پنشن بھی دیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ ہم شہیدوں کےا ہل خانہ کے ساتھ ہیں اور ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
یہ اعلان جمعہ کو یہاں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ پولیس لائن میں شہیدوں کو تعزیت پیش کرنے کے بعد کیا۔جوپولیس والے مارے گئے ہیں ان میں ایک ڈی ایس پی، تین سب انسپکٹر شامل ہیں۔اس موقع پر وزیر اعلی نے کہا کہ پولیس نے ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور اس واردات میں ملوث مجرمین کو جلد ہی گرفتار کرلیا جائےگا۔
وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ‘مجرمین میں سے دو پولیس کے ساتھ ہوئے مڈھ بھیڑ میں مارے گئے اور کچھ ہتھیار جوکہ پولیس اہلکار سے لوٹے گئے تھے اسے برآمد کیا گیا ہے۔وزیر اعلی نے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ،انڈسٹری کے وزیر ستیش مشرا کے ساتھ شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کی ڈھارس بندھائی۔
پولیس لائن پہنچنے نے پہلے وزیر اعلی نے اسپتال کو دورہ کیا جہاں انہوں نے اس واردات میں زخمی 6پولیس اہلکار اور ایک ہوم گارڈ کی عیادت کی ۔شہید ہونے والے پولیس جوانوں میں سرکل افسر دیویندر مشرا،جو وکاس دوبے کے مکان پر چھاپہ مارنے والی ٹیم کی قیادت کررہے تھے۔اس کے علاوہ سب انسپکٹر مہیش چندرا یادو، انیپ کمار سنگھ،نیبولال اور کانسٹیبل جتیندر، سکتان سنگھ، ببلو اور راہل شامل ہیں۔

جرم

ملک میں کورونا وائرس کے 52 ہزار سے زیادہ نئے کیسز

Published

on

ملک میں کورونا وائرس کے حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں اورگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 52 ہزار سے زیادہ نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 18.5 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ 803 افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 39 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔
منگل کو مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں52050 افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد مجموعی تعداد بڑھ کر 1855746 ہوگئی۔راحت کی بات یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران 44،306 افرادکورونا سے شفایاب ہوئے ہیں ، جس سے صحت مند افراد کی کل تعداد 12،30،510 ہوگئی ہے۔ زیادہ تر ریاستوں میں صحت مند افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے فعال کیسز میں صرف 6،941 عدد کا اضافہ ہوا ہے ، جس کی وجہ سے ان کی تعداد 5،86،298 ہوگئی ہے۔ اسی دوران مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 38،938 ہوگئی ہے۔
ملک میں کورونا وائرس سے سب زیادہ متاثر مہاراشٹر ہے جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مریضوں کی تعداد میں 1519 تک کمی آئی ہے ، جس سے ایکٹیوکیسز 1،47،324 رہ گئے اور 266 اموات کے ساتھ ہلاک شدگان کی تعداد 15،842 ہو گئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران 10،221 افراد جان لیوا وبا سے شفایاب ہوئے ہیں ، جس سے صحت مند افراد کی تعداد 2،87،030 ہوگئی۔ ملک میں اب تک سب سے زیادہ فعال کیسز اسی ریاست میں ہیں۔

Continue Reading

سیاست

سوشانت کیس کی تحقیقات کرنے گیا افسر کوارینٹائین میں، نیروپم نے کہا- ایسا لگتا ہے کہ ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے

Published

on

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت پر مہاراشٹر میں سیاست شروع ہوگئی ہے۔ بی ایم سی کے ذریعہ پٹنہ کے ایس پی ونئے تیواری کی کوارینٹائین کیے جانے کے بعد، اب کانگریس، جو اقتدار کی شیئر ہولڈر ہے، نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے رہنما سنجے نیروپم نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔
ممبئی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے سنجے نیروپم نے ایک ٹویٹ میں کیا، ‘لگتا ہے، بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔ سوشانت سنگھ کیس کی تحقیقات کرنے آئے آئی پی ایس آفیسر تیواری کو 15 اگست تک کورینٹائین کیا گیا۔ انکوائری کیسے ہوگی؟ وزیر اعلی کو فوری مداخلت کرنی چاہئے۔ تیواری کو رہا کریں اور تحقیقات میں مدد کریں ورنہ ممبئی پولیس کا شکوہ بڑھتا جائے گا۔


جب اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی بہار پولیس کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، ریاست میں سیاسی پارا بھی بڑھتا جارہا ہے۔ بہار اسمبلی میں سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ سوشانت کے کزن اور بی جے پی کے ممبر اسمبلی نیرج سنگھ ببلو نے معاملہ اٹھایا اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ادھر اپوزیشن لیڈر تیجشوی یادو نے بھی سوشانت کیس کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بہار حکومت کے وزیر جئے سنگھ نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کا رویہ وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔

Continue Reading

جرم

مالیگاؤں میں جنونی بھیڑ نے پھر کیا مسلم نوجوانوں پر جان لیوا حملہ، پولس نے کیا مآب لنچنگ سے انکار، 3 افراد پولس کی گرفت میں مزید گرفتاریاں باقی

Published

on

کرائم اسٹوری : وفا ناہید
اس وقت پورے ملک حالات خراب چل رہے ہیں. 4 ماہ تک کورونا نے سب اس قدر خود میں مصروف رکھا کہ کورونا اور اس سے ہونے والی اموات , لاک ڈاؤن, تالی بجانا , دیا جلانا اور کورونا کو مسلمانوں جوڑ کر تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا ہی اس کا مصرف تھا. اب جب کہ کورونا 5 ماہ مکمل کرکے چھٹے ماہ قدم رکھ چکا ہے وہیں عوام کے دلوں سے کورونا کا خوف تھوڑا کم ہوا اور غیرقانونی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا. کوارٹنائن سینٹر میں کووڈ پیشنٹ کی آبروریزی سے لے کر قتل و خودکشی اور انکاؤنٹر کے بعد شرپسندوں کا پسندیدہ مشغلہ مآب لنچنگ تک پہنچ گیا. یوں تو لاک ڈاؤن میں چھوٹے موٹے کرائم کا سلسلہ جاری تھا مگر ادھر گذشتہ کچھ دنوں سے مالیگاؤں کے مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے. ابھی پچھلے دنوں جلگاؤں ضلع کے پارولہ شہر میں کچھ نوجوانوں کی مآب لنچنگ کا ویڈیو شوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا. جس کے بعد شہر میں تناؤ کا ماحول پیدا ہوگیا تھا. وہ تو مالیگاؤں کے مسلمان صبر و جمیل کا پیکر ہے لہذا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا. اس واردات کی ابھی مذمت ہی جاری تھی کل یعنی عیدالاضحیٰ کے دن مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کی حد میں دوبارہ کچھ مسلم نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اس واردات کے تعلق سے جب نمائندۂ ممبئی پریس نے مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کے پی آئی نریندر بھدانے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ مالیگاؤں کے 4 افراد آٹو رکشا سے جارہے تھے . اتنے میں جو کہ ایک بائی اپنی بھیڑ بکریاں لے کر جارہی تھیں , ان نوجوانوں کے ہارن بجانے کے بعد بھی اس نے راستہ نہیں دیا. جس کی وجہ سے وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گالی گلوچ کی. جس کے بعد اس بائی کے افراد خانہ نے بائیک کے ذریعہ ان نوجوانوں کی رکشا کا تعاقب کیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی. پی آئی بھدانے کے مطابق یہ مآب لنچنگ نہیں تھی. بلکہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ گالی گلوچ کی تھی. بائیک سے آٹو رکشا کا پیچھا کیا گیا. جب وہ نوجوان اپنی جاں بچا کر بھاگنے لگے تو ان پر پتھراؤ کیا. بڑے بڑے پتھر پھینکے گئے جس کی وجہ ایک نوجوان زخمی ہوگیا اور ساتھ ہی ان مشتعل افراد نے ان کی آٹو رکشا MH41 AT 0757 کو بھی پتھر سے توڑ پھوڑ دیا . پی آئی بھدانے نے مزید بتایا کہ ہم نے اس واردات میں 3 افراد کو حراست میں لیا ہے. مزید گرفتاریاں ہونی باقی ہیں. اس کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے. ان افراد پر تعزیرات ہند کی دفعات 324 اور 341 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.
اس واردات کا بھی ویڈیو وائرل ہوا جس میں صاف دکھائی دے رہا ہے بڑے بڑے پتھروں سے آٹو رکشا کی توڑ پھوڑ کی گئی . کہا جارہا ہے کہ جب مسلم نوجوان ان شرپسندوں سے جان بظاہر بھاگ رہے تھے. تب ان پر پتھر برسائے گئے. جنونی ہجوم کی طرف سے یہ ایک جان لیوا حملہ تھا. اگر یہ مسلم نوجوان خدانخواستہ ان کے ہاتھ لگ جاتے تو شاید ان کی لاشیں گھر آتیں. ایک معمولی تکرار کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی. اس کے باوجود پولس اسے مآب لنچنگ ماننے کو تیار نہیں. اگر ان نوجوانوں کی غلطی تھی تو پولس سے رجوع کیا جاسکتا تھا. قانون ہاتھ میں لے کر اس طرح تانڈو کرنے کی ضرورت نہیں تھی.

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com