Connect with us
Saturday,12-June-2021

(جنرل (عام

لاک ڈاؤن سے بے روزگاری, بھکمری, معاشی تنگی, تعلیمی نقصان اور ذہنی تناؤ کا شکار ہے عام آدمی

Published

on

مالیگاؤں (نامہ نگار ) ملک بھر میں بار بار لاک ڈاؤن کو لیکر عوام انتہائی پریشان ہوچکی ہے. لاک ڈاؤن کا فائدہ کسے اور نقصان کسے ہو رہا ہے یہ بات عوام جان چکی ہے.
شہر کے مشکل ترین حالات کو محسوس کرتے ہوئے مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے مقامی ایڈیشنل کلکٹر کو میمورنڈم دیا گیا اور ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی و دیگر منسٹرس کو بذریعہ میل مکتوبات بھیجے گئے. جس میں نہ صرف مالیگاؤں بلکہ ریاست مہاراشٹر میں لاک ڈاؤن کو لیکر نرمی کی گزارش کی گئی اور ساتھ ہی مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد, روزانہ کام کرنے والے تہاڑی مزدوروں, نان گرانٹ اساتذہ, سال بھر سے زائد عرصے سے بے روزگار لوگوں کے سنگین حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی اس جانب توجہ مرکوز کرائی گئی کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سارے نقصانات اور پریشانیاں پیدا ہورہی ہیں. نیز ماہ رمضان کے پیش نظر انتظامیہ سے نرمی برتنے کی گزارش بھی کی گئی ہے.

ایم ڈی ایف کے صدر احتشام بیکری والا نے کہا کہ گزشتہ سال کےسنگین حالات سے جھونجنے کے بعد حالات معمول پر آرہے ہیں اور لوگوں نے کورونا وباء کے ساتھ جینا سیکھ لیا. حالانکہ کورونا کو لیکر اب بھی تشویش برقرار ہے کہ یہ وباء کیا واقعی صرف عام آدمی کیلئے ہے کیونکہ سرکار کے ہر پل بدلتے ہوئے فیصلوں سے ایسا ہی لگتا ہے.

ایم ڈی ایف کے نائب صدر عمران راشد نے کہا کہ جب کورونا ویکسین آگئی ہے تو پھر لاک ڈاؤن کیوں؟ حکومت اور سرکاری افسران کو شاید عوامی تکالیف کا اثر نہیں کیوں کہ انکی تنخواہ جو جاری ہے۔ اثر عام عوام پر ہورہے ہیں۔

ایم ڈی ایف کے ترجمان اسامہ اعظمی نے کہا کہ اب پانی سر کے اوپر ہوچکا ہے۔ اگر لاک ڈاؤن لگایا گیا تو لوگ بھکمری کا شکار اور خودکشی کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں۔

مہاراشٹر کے مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں میں لاک ڈاؤن کیخلاف سیاسی جماعتوں نے سیاسی کھیل شروع کر دیا ہے. جب ایک عام مکتوب اعلی آفیسران کو دے کر مطالبات منوائے جاسکتے ہیں تو اتنا ہنگامہ اور ڈھونگ کیوں ؟ اس طرح کا بیان مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے اہم رکن قاری رئیس عثمانی نے کیا.

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے سینکڑوں نوجوانوں نے گذشتہ سال لاک ڈاؤن میں سماجی و فلاحی خاموش خدمات انجام دی تھی اور ایم ڈی ایف کا قیام اس وقت کے سنگین حالات کو دیکھتے ہوئے ہوا تھا. آج اگر پھر سے حکومت لاک ڈاؤن لگانے کیلئے تیار ہے تو ایم ڈی ایف کے نوجوان بھی خدمت خلق کیلئے تیار ہیں.

اگر ضرورت محسوس ہوئی تو شہر کی سیاست سے ہٹکر عامی مفاد میں نرالے انداز سے حکومت و انتظامیہ پر دباؤ بنانے کے لئے ایم ڈی ایف زبردست احتجاج کرسکتی ہے۔

میمورنڈم کے وقت ایم ڈی ایف کے سیکریٹری صابر سر موبائل والے، پروفیسر وسیم بیگ، ابوذر غفاری، ببو ماسٹر، پروفیسر حبیب الرحمن، و دیگر اراکین موجود تھے۔

(جنرل (عام

شفایابی کی شرح بڑھ کر 95 فیصد سے تجاوز، ایکٹو کیسز کی شرح میں کمی

Published

on

india-corona

ملک میں کورونا کی رفتار دھیمی پڑنے سے اور اس وبا کو شکست دینے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے کی وجہ سے شفایابی کی شرح 95.7 فیصد ہوگئی ہے، وہیں ایکٹو کیسز کی شرح 3.68 فیصد ہوگئی ہے ۔
دریں اثنا جمعہ کو 34 لاکھ 33 ہزار 763 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ۔ ملک میں اب تک 24 کروڑ 96 لاکھ 304 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں ۔
وزارت صحت کی طرف سے ہفتہ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 84،332 نئے کیسزسامنے آنے سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ 93 لاکھ 59 ہزار 155 ہوگئی ۔ اس دوران ایک لاکھ 21 ہزار 311 مریض صحتاب ہوئےہیں ، جس سے ملک میں اب تک صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دو کروڑ 79 لاکھ 11 ہزار 384 ہو گئی ۔ ایکٹو کیسز 40 ہزار 981 کم ہو کر 10 لاکھ 80 ہزار 690 رہ گئے ہیں ۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4002 مریضوں کی موت ہونے سے اس وباسے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 67 ہزار 81 ہوگئی ہے۔ ملک میں کورونا سے شرح اموات فی الحال 1.25 فیصد ہے۔
مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 1041 بڑھ کر 1،64،629 ہو گئے ہیں ۔ اس دوران ریاست میں مزید 8104 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کوروناسے نجات پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 5616857 ہوگئی ہے ۔ وہیں مزید 2619 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 106367 ہوگئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایمس-آئی این آئی سی ای ٹی 2021 کے امتحان ایک ماہ کے لئے ملتوی

Published

on

Supreme-Court

سپریم کورٹ نے جمعہ کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کو آئی این آئی سی ای ٹی 2021 کا امتحان ایک ماہ کے لئے ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے، یہ امتحان پہلے 16 جون کو ہونے والا تھا۔ جج اندرا بنرجی اورجج ایم آرشاہ کی بنچ نے 23 ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے گروپ، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن، میڈیکل اسٹوڈنٹ نیٹ ورک (چھتیس گڑھ چیپٹر) اور کووڈ مریضوں کے علاج میں مصروف 35 دیگر ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی درخواستوں پر سماعت کرنے کے بعد یہ حکم دیا۔

عدالت نے کہا، ’’امیدواروں نے جن مراکز کو منتخب کیا ہے، وہ ان سے کافی دور کووڈ ڈیوٹی کررہے ہیں۔ انہیں تیاری کرنے کا مناسب وقت نہیں ملا ہے، اس کے پیش نظر ہمارا ماننا ہے کہ 16 جون کی تاریخ امتحان کے لئے مقرر کرنا من مانی ہے۔ ہم ایمس کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ اس امتحانات کو کم از کم ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دیں۔

درخواست گزاروں نے 16 جون کو امتحان کروانے کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بیشتر ڈاکٹر مختلف اسپتالوں میں کووڈ ڈیوٹی کر رہے ہیں، اور انہیں امتحان کے تیاری کا مناسب وقت نہیں ملا ہے۔
انہوں نے درخواست میں پوسٹ گریجویٹ کورس میں داخلہ کے لئے ہونے والے امتحانات کو ملتوی کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بارے میں ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل اروند داتارنے کہا کہ جب مئی میں ہونے والے نیٹ امتحانات اگست تک ملتوی کئے جاسکتے ہیں، تو آئی این آئی سی ای ٹی کے امتحانات کیوں نہیں ملتوی کئے جاسکتے۔

ایمس کے وکیل دشینت پراشار نے بنچ سے کہا کہ مئی میں پراسپکٹس جاری کر دیا تھا، اور یکم مئی کو امیدوار کو امتحان کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ اگر امتحان روک دیا جائے گا تو ڈاکٹروں کی کمی ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 32 ریاستوں میں امتحان کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس انفیکشن کی صورت حال میں بہتری ہوگئی ہے۔

عدالت نے حالانکہ زور دیا کہ امتحان کم ازکم ایک ماہ کے لئے ملتوی کیا جانا چاہیے۔ ایمس کے وکیل نے ہدایت لینے کے لیے پیر تک کا وقت دینے کا مطالبہ کیا، لیکن بنچ نے یہ کہتے ہوئے اس سے انکار کر دیا کہ امتحان کی تاریخ کافی نزدیک ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ای ایم آئی میں کوئی راحت نہیں، لون موریٹوریم آگے بڑھانے سے سپریم کورٹ کا انکار

Published

on

SUPREAM COURT

کورونا کی دوسری لہر میں معاشی بحران کا سامنا کرنے والے اور ای ایم آئی میں راحت کی امید رکھنے والے افراد کو جمعہ کو اس وقت دھچکا لگا، جب سپریم کورٹ نے قرضوں کی روک تھام اسکیم اور سود میں چھوٹ سے متعلق درخواست خارج کر دی۔ جسٹس اشوک بھوشن کی سربراہی میں بنچ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی کا معاملہ ہے، اور عدالت حکومت کی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔

عدالت عظمی نے کہا کہ درخواست گزاروں کو اپنے مطالبے کے لئے مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) سے رجوع کرنا چاہئے۔

درخواست میں قرضوں کی تنظیم نو کی اسکیم کے تحت نیا موریٹوریم، وقت میں توسیع اور بینکوں کے ذریعہ غیر اعلانیہ اثاثوں (این پی اے) کے اعلامیے پر عارضی موریٹوریم مانگنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست میں عدالت سے فوری امداد کا مطالبہ کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ مرکز اور آر بی آئی کی جانب سے عام آدمی کے لئے جو ابھی تک انتہائی مالی بحران کا شکار ہیں، کے لئے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے فوری ریلیف طلب کیا کیونکہ مرکز اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے عام آدمی کی مدد کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں، جو اس وقت انتہائی مالی دباؤ میں ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com