Connect with us
Wednesday,12-May-2021

(جنرل (عام

مہاراشٹر میں اپریل کے آغاز کے ساتھ ہوسکتا ہے لاک ڈاؤن کا اعلان

Published

on

ریاست مہاراشٹر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر نائٹ کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ تاہم ، اگر نئے معاملات میں کوئی کمی نہیں آتی ہے تو پھر حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر کورونا کی رفتار اور لوگوں کی غفلت کم نہ ہوئی تو اپریل کے شروع میں ہی لاک ڈاؤن نافذ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ، اب تک لاک ڈاؤن کے بارے میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے آپسی حلقوں کے درمیان باہمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ این سی پی اور کانگریس نے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی ہے۔ اگر کابینی وزیر اسلم کی مانیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

لاک ڈاؤن کے لئے تیار رہنے کا مطلب لاک ڈاؤن لگ گیا ، ایسا بھی نہیں ہے۔ حکومت کے لئے معیشت اور لوگوں کی زندگی دونوں ہی اہم ہیں۔ لہذا ، جو بھی فیصلہ لیا جائے گا ان دونوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے لیا جائے گا۔ تاہم ، اگر لاک ڈاؤن لگتا ہے تو ، اس بار اس کی شکل مختلف ہوگی۔ یہ امکان بھی موجود ہے کہ صنعت کے کاروبار کو کچھ مراعات دی جاسکتی ہیں۔ کورونا وباء کی وجہ سے ، ریاست کی مالی حالت انتہائی زوال پذیر ہوگئی ہے۔ کل ایسے لوگوں اور کارخانوں کی حفاظت پر بھی حکومت توجہ دے گی۔ تو آئیے جانتے ہیں کہ اس بار نیا لاک ڈاؤن کیسے ہوسکتا ہے!

1 دفاتر میں 10 فیصد کی حاضری ہوسکتی ہے۔ (2) – وہ ملازمین جو پہلے ہی کسی دوسری بیماری کے مریض ہیں اور جنہیں جلد ہی انفیکشن ہونے کا خدشہ ہے ، ان کو دفتر نہ بلاکر اور گھر سے کام کرانے کی ہدایت دی جاسکتی ہے ۔ (3) – سبزی منڈیوں میں ہجوم کو قابو کرنے کے لئے کوئی سخت منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔ (4) – اس وقت کے لاک ڈاؤن میں ، سرکاری اور نجی دفاتر میں کام کرنے والے افراد کی حاضری کو %50 سے گھٹا کر %10 کی جاسکتی ہے۔ (5) فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی نقل و حمل کو روکنے کے لئے ، ان سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی فیکٹری میں یا اس کے آس پاس رہائش , کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کے محفوظ انتظام کرنے کو کہا جاسکتا ہے ، تاکہ وہ انفیکشن کا شکار ہو ۔ (6) بازاروں میں ہجوم پر قابو پانے کے لئے ، تمام دکانوں کو بیک وقت کھولنے کے بجائے مختلف چیزوں کی دکانوں کو مختلف دنوں میں کھولنے کے لئے کہا جاسکتا ہے۔ (7) بیوپاریوں کو ایک بار پھر صرف آن لائن آرڈرز لینے اور ہوم ڈلیوری کے لئے کہا جاسکتا ہے۔

(جنرل (عام

بھیما کورے گاؤں کیس : گوتم نولکھا کو ‘ڈیفالٹ’ ضمانت نہیں ملی

Published

on

supream court

سپریم کورٹ نے بھیما کورے گاؤں کیس میں قید سماجی کارکن گوتم نولکھا کی ‘ڈیفالٹ’ ضمانت کی درخواست بدھ کے روز خارج کر دی۔

جسٹس ادے امیش للت اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے اس معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے گوتم نولکھا کی درخواست کو خارج کر دیا۔

مسٹر گوتم نولکھا نے درخواست کی تھی کہ 2018 میں انسداد غیر قانونی سرگرمی ایکٹ کے تحت چارج شیٹ داخل کرنے کی مدت شمار کرتے وقت 34 دنوں کی غیر قانونی حراست کی مدت بھی شامل کیا جائے۔ اس سے قبل 26 مارچ کو بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

مسٹر گوتم نولکھا نے دلیل تھی کی کہ آیا 29 اگست سے یکم اکتوبر 2018 کے درمیان ان کی گرفتاری کے 34 دنوں کی مدت کو، ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 167 (2) کے تحت ڈیفالٹ ضمانت دینے کے لئے حراست کی مدت میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بمبئی ہائی کورٹ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سی آر پی سی کی دفعہ167 (2) کے تحت ڈیفالٹ ضمانت کی منظوری کے لئے مقررہ 90 دنوں کی مدت میں “غیر قانونی حراست” کے تحت گزرنے والا وقت شمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی فساد میں ملوث مزید چارنوجوانوں کی ضمانت منظور، اب تک92 کی ضمانت، جمعیۃعلماء ہند کا مقصد باعزت بری کرانا ہے۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

maulana-arshad-madni

جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مزید چار مسلم ملزمان کی ضمانت کے ساتھ اب تک مجموعی طور پر 92 افراد کی ضمانتیں نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے منظور ہوچکی ہیں۔ جمعیۃ کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ کا مقصد صرف ضمانت پر رہا کرانا نہیں، بلکہ ان لوگوں کو باعزت بری کرانا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کی کوششوں سے گزشتہ کل مزید 4 افراد کی ضمانت کی عرضیاں منظور ہو گئیں، جو پچھلے ایک سال سے جیل میں تھے۔ اس کے ساتھ ہی اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل 92 افراد کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں، ضمانت منظور ہونے کے بعد چاروں ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے، جس سے ملزمین کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی ہے، عید سے عین قبل ملزمین کی جیل سے رہائی سے ملزمین لے اہل خانہ نے جمعتہ علماء ہند کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق دہلی ہائی کورٹ اور کار کا ڈومہ سیشن عدالت نے گذشتہ کل دہلی فساد کے معاملے میں گرفتار ملزمین راشد سیف، محمد عابد، محمد شاداب اور شمیم لالہ کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ ان ملزمین کو ایف آئی آر نمبر 101/2020 پولس اسٹیشن کھجوری خاص مقدمہ میں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان اور ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ دنیش و دیگر نے کی، ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147،148،149،436، 427 (فسادات برپا کرنا، گھروں کو نقصان پہنچانا، غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا) اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

سماعت کے بعددہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سریش کمار کیت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ استغاثہ ملزمین کے کردار کو ثابت نہیں کرپایا ہے، نیز اس معاملے میں تفتیش مکمل ہوچکی اور چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے لہٰذا ملزمین کو مزید جیل میں رکھنا ضروری نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ملزمین کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے اور ان کے خلاف گواہی دینے والے سرکاری گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے، جس سے ان کا بیان مشکوک لگتا ہے۔ عدالت نے ملزمین کو حکم دیا کہ وہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے، اور پولس اسٹیشن اور عدالت میں ضرورت پڑھنے پر حاضر رہیں گے، عدالت نے ملزمین کو موبائل میں اروگیہ سیتو اپلیکشن بھی ڈاؤنلوڈ کرنے کا حکم دیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے، امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی دوسرے معاملوں میں بھی پیش رفت ہوگی، اور غلط طریقے سے فساد میں ماخوذ کئے گئے باقی ماندہ افراد کی رہائی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔

ہائیکورٹ اور سیشن کورٹ سے چارملزمین کو ملی ضمانت کا صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد تمام ملزمین کو پہلے جیل سے رہا کرایا جائے، اور پھر اس کے بعد ان کے مقدمات لڑ کر انہیں باعزت کرایا جائے، لیکن کورونا کی وجہ سے عدالتی کام کاج نہایت سستی سے ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمعیۃ علمائے ہند کا مقصد اور اس کی اولین ترجیح ملزمین کی باعزت بری رہی ہے اور اس سمت میں جمعیۃ دل و جان سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عدالتیں خود یہ کہہ رہی ہیں کہ ملزمین کو مزید جیل میں رکھنا ضروری نہیں ہے، اس کے باوجود دہلی پولس ملزمین کی ضمانت کی عرضداشتوں کی سخت لفظوں میں مخالفت کر رہی ہے، جس سے دہلی پولس کی جانبداری واضح ہوتی ہے، دہلی فسادات میں دہلی پولس کی کار کردگی ویسے ہی جانبدارانہ رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے جیل کی بھیڑ بھاڑ کم کرنے کے لئے عدالت کہہ رہی ہے، لیکن پولیس کا رویہ مثبت نہیں ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو منصفانہ انداز میں سوچنا چاہئے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

اسرائیل مظلوم فلسطینیوں سے ان کے جینے کا حق چھین رہا ہے، حالیہ بربریت پرعالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش کیوں؟ مولانا ارشد مدنی

Published

on

maulana-arshad-madni

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مظلوم فلسطینیوں پر، مسجد اقصی میں ہوئے حالیہ اسرائیل حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت اور اسے ظلم وبربریت کی انتہا قرار دیتے ہوئے ان حملوں کو انسانیت پر ایک سنگین حملے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں جاری ایک بیان کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ عالمی برادری اور خاص طور پر مسلم ممالک کی خاموشی سے شہہ پاکر اسرائیل اب نہتے اور لاچار فلسطینی عوام سے ان کے جینے کا حق چھین لینے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس تاریخی سچائی سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی کہ اسرائیل ایک غاصب ملک ہے، جس نے فلسطین کی سر زمین پر بعض عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے جبرا قبضہ کر رکھا ہے، اور اب وہ اسی خاموشی کے نتیجہ میں اس سر زمین سے فلسطینی عوام کے وجود کو ختم کر دینے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قبضہ کے بعد سے ہی اسرائیل فلسطینی عوام کو مسلسل ظلم و جبر کا نشانہ بنائے ہوئے ہے، اس دوران مصالحت اور مفاہمت کی لا تعداد کوششیں ہوئیں، لیکن سب کا سب بے سود رہیں، بعض طاقتور ملکوں کی در پردہ حمایت کے نتیجہ میں اسرائیل فسلطین کے تعلق سے اقوام متحدہ سے وقت وقت پر منظور ہوئی قراردادوں کو بھی اپنے پیروں تلے روندتا رہا ہے، اور اب تو مسلم ملکوں سے سفارتی تعلقات قائم ہونے بعد اس کے ناپاک حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں، کہ مسجد اقصی میں عبادت میں مصروف فسلطینی مرد وخواتین یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی اپنی بربریت کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کر رہا ہے۔

مولانا مدنی نے کہاکہ اس میں ہماری بے حسی اور خاموشی کا دخل کچھ زیادہ ہے، اگر ہم نے یعنی مسلم ممالک نے اس مسئلہ کی اہمیت اورسنگینی کا ابتداہی میں اندازہ کر کے کوئی مؤثر مشترکہ حکمت عملی فسلطین کے تعلق سے تیار کر لی ہوتی تو آج اسرائیل اس طرح فلسطینی شہریوں کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنانے کا خوصلہ نہیں کر سکتا تھا، انہوں نے تازہ حملوں کو انسانی حقوق پر ہونے والا سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی وہ مہذب دنیا بھی اس پر خاموش ہے، جو عالمی امن اور اتحاد کی نقیب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، انسانی حقوق کا مسلسل ورد کرنے والے عالمی ادارے بھی چپ ہیں، انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس کا مذاکرات کے ذریعہ کوئی حل نہ نکالا جاسکے، عالمی برادری بالخصوس دنیا کے وہ طاقتور ملک جو اقوام متحدہ کے مستقل ممبر ہیں، اگر مخلص ہوتے تو اس مسئلہ کا بھی کوئی پر امن اور قابل قبول حل نکال سکتے تھے، مذاکرات کی میز پر بات چیت کا ڈھکوسلا تو کئی بار ہوا، مگر افسوس اس مسئلہ کا کوئی حتمی اور پائیدار حل نکال نے کی کوئی ذمہ دارانہ کوشش کبھی نہیں ہوئی۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے لئے بربریت انتہا پسندی اور اس کی مستقبل کی خطرناک منصوبہ بندی ظاہر کر دیتی ہے، کہ یہ صہیونیت اور اسلام کی ایک جنگ ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ یورپین یونین ہو، عالمی ادارے ہو یا پھر دنیا کے باثر ممالک کوئی بھی کھل کر فلسطینیوں کے حقوق کی بات نہیں کرتا، بلکہ ان کی طرف سے اگر کوئی بیان بھی جاری ہوتا ہے، تو نپے تلے لفظ ہوتے ہیں، اور در پردہ اس میں اسرائیل کی حمایت بھی شامل ہوتی ہے، دوسرے اس طرح کے اسرائیلی اقدامات سے اس پورے خطہ میں قیام امن کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، انہوں نے اقوام متحدہ یورپین یونین، ورلڈ مسلم لیگ، حکومت ہند اور تمام انصاف پسند بین لاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی جارحانہ ہشت گردی کے خلاف پختہ قدم اٹھائیں، ساتھ ہی اسرائیلی فوج کو بلا تاخیر مسجد اقصی کی حدود سے باہر کیا جائے، اور مشرقی یروشلم میں اس کی مداخلت کو روکا جائے۔ مولانا مدنی نے آخر میں یہ کہہ کر مسلم ممالک کی غیروحمیت کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی کہ اگر وہ اب بھی خاموش رہے، تو پھر یہ معاملہ فلسطین کی حدود تک ہی محدود نہیں رہے گا، مسلم ممالک اگر اب بھی نہ جاگے تو کل تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com