Connect with us
Sunday,27-September-2020

سیاست

لوک سبھا انتخابات -جب ایک سیٹ پر 480 امیدواروں نے لڑا الیکشن

Published

on

جمہوریت میں انتخاب لڑنے کی آزادی کی وجہ سے آندھرا پردیش کے نلگونڈا لوک سبھا سیٹ پر ایک بار ریکارڈ 480 امیدواروں کے انتخابی میدان میں اترنے سے نہ صرف الیکشن کمیشن کے لئے نئی مصیبت پیدا کر دی تھی بلکہ اس میں بہتری کے لئے اس کے بہت سے اقدامات کرنے کے لیے مجبور کیا تھا۔
آندھرا پردیش کے نل گونڈا سیٹ پر (اب تیلنگانہ میں ) 1996 کے عام انتخابات میں 480 امیدواروں کے انتخاب لڑنے کی وجہ سے ووٹنگ کے لئے بیلٹ پیپر کی جگہ’بیلٹ بک‘ کا استعمال کرنا پڑا تھا. اس الیکشن میں ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے دھرم بھكشم نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار اندرسین ریڈی کو شکست دی تھی۔مسٹر بھكشم کو کل 282904 ووٹ اور مسٹر ریڈی کو 205579 ووٹ پڑے تھے۔ کانگریس تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ انتخابات میں 851118 ووٹ پڑے تھے۔

سیاست

اے پی ایم سی کے باہر پیداوار فروخت کرنے سے کاشتکاروں کو فائدہ: مودی

Published

on

پنجاب، ہریانہ اور ملک کے دیگر حصوں میں زرعی بل کی مخالفت کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ زرعی پیداوار مارکیٹنگ کمیٹی منڈی سے باہر اپنی فصلیں فروخت کرنے پر کسانوں کو فائدہ ہورہاہے اور وہ لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل کررہے ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے آکاشوانی پر اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں ملک کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے اس دور میں ملک کے زرعی شعبے نے ایک بار پھر طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک کا زرعی شعبہ، کاشتکار، گاؤں، خود کفیل ہندوستان کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ مضبوط ہوں گے تو پھر خود کفیل ہندوستان کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ ماضی قریب میں ان شعبوں نے خود کو بہت سی پابندیوں سے آزاد کیا ہے اور کئی غلط تصورات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر مودی نے ہریانہ کے سونی پت کے کسان کنور چوہان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں منڈی کے باہر اپنے پھل اور سبزیاں فروخت کرنے میں دشواری پیش آتی تھی۔ اگر وہ بازار سے باہر اپنے پھل اور سبزیاں فروخت کرتے تھے تو کئی بار اس کے پھل، سبزیاں اور گاڑیاں ضبط ہوجاتی تھیں۔ لیکن 2014 میں پھلوں اور سبزیوں کو اے پی ایم سی قانون سے باہر کردیا گیا جس سے انہیں اور اس کے آس پاس کے ساتھی کسان کو فائدہ ہوا۔ چار سال پہلے انہوں نے اپنے گاؤں میں ساتھی کسانوں کے ساتھ مل کر ایک کسان پروڈیوسر گروپ تشکیل دیا تھا۔ آج گاؤں کے کسان سوئٹ کارن اور بیبی کارن کی کاشت کرتے ہیں۔ ان کی مصنوعات آج براہ راست دہلی کی آزاد پور منڈی، بڑی دکانوں اور ہوٹلوں میں جا رہی ہیں۔ آج گاؤں کے کسان اپنی کاشت سے سالانہ ڈھائی سے تین لاکھ فی ایکڑ کمائی کررہے ہیں۔ صرف یہی نہیں، اسی گاؤں کے 60 سے زیادہ کاشتکار نیٹ ہاؤس اور پالی ہاؤس بناکر ٹماٹر، ککڑی، شملہ مرچ، اس کی مختلف اقسام تیار کرکے ہر سال فی ایکڑ 10 سے 12 لاکھ روپے آمدنی حاصل کررہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کاشت کاروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پھل اور سبزیاں کہیں بھی کسی کو بھی فروخت کرسکتےہیں اور یہی طاقت ہی ان کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اب ملک کے دوسرے کسانوں کو بھی وہی طاقت ملی ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے لئے ہی نہیں اپنے کھیتوں میں وہ جو پیداوار کر رہے ہیں۔ وہ دھان، گندم، سرسوں، گنے، جو پیدا کر رہے ہیں، ان کی خواہش کے مطابق، جہاں انہیں زیادہ قیمت ملے وہیں فروخت کرنے کی اب انہیں آزادی ملی ہے۔

Continue Reading

سیاست

گاندھی جی کے نظریات پر چلتے تو ’خود کفیل ہندوستان‘ کی ضرورت نہیں ہوتی: مودی

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام’من کی بات‘ میں بابائے قوم مہاتما گاندھی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم بابائے قوم کے نظریات پر چلے ہوتےتو آج ’آتم نربھر بھارت ابھیان‘ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2 اکتوبر ہم سب کے لئے ایک مقدس اور تحریک حاصل کرنے کا دن ہوتا ہے۔ یہ دن مادر وطن کے دو سپوتوں مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کو یاد کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا ’’قابل احترام باپو کے افکار اور نظریات آج پہلے سے زیادہ اہم ہیں۔ مہاتما گاندھی کی جو معاشی فکر تھی، اگر اس جذبے کے ساتھ چلے ہوتے، اسے سمجھا گیا ہوتا، اس راستے پر چلا گیا ہوتا تو آج آتم نربھر ابھاین کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گاندھی جی کی معاشی فکر میں ہندوستان کی رگ رگ میں سمجھ تھی، ہندوستان کی خوشبو تھی۔ قابل احترام باپو کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا ہر عمل ایسا ہونا چاہئے تاکہ غریب سے غریب شخص کی فلاح ہو۔ انہوں نے کہا کہ شاستری کی زندگی ہمیں عاجزی اور سادگی کا پیغام دیتی ہے۔

Continue Reading

جرم

مالیگاؤں میں جواں سال لڑکی کی دردناک خودکشی سے سنسنی

Published

on

(خیال اثر)
مسجدوں میناروں کے شہر مالیگاؤں میں روز بروز خودکشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں. معمولی گھریلو تنازعات , خانگی معاملات میں ناکامی اور مالی پریشانیاں بھی آئے دن کی خودکشی کا سبب بن رہی ہیں. ایسا ہی ایک دلدوز واقعہ آج بروز سنیچر تقریباً 12بجے مالدہ شیوار گٹ نمبر 178/1 مضافاتی علاقہ ہوٹل لبیک کے پچھے گھر والوں کی غیر موجودگی میں ایک 16سالہ لڑکی عائشہ شیخ محبوب نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی. بتایا جاتا ہے کہ گھر کے تمام افراد کام پر گئے ہوئے تھے اور لڑکی کی والدہ بازار گئی ہوئی تھی تبھی یہ واقعہ پیش آیا. سماجی کارکن شفیق انٹی کرپشن نے موقع واردات پر پہنچ کر نعش کو جنرل ہاسپٹل روانہ کرتے ہوئے قانونی نقاط کی تکمیل میں تعاون پیش کیا.
لڑکی کے قرب و جوار میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے حالات ٹھیک تھے. انھیں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں تھا پھر بھی لڑکی نے یہ سنگین قدم کیوں اٹھایا محمکہ پولیس اس کی تفتیش میں مصروف ہے. شہر میں خودکشی کے بڑھتے واقعات شہری ذمہ داران سوچنے پر مجبور کررہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے جو روز بروز خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں. اسی طرح شہر کے مخیر حضرات کو بھی چاہئے کہ وہ نہ صرف اپنے محلہ بلکہ خاص طور پر مضافاتی علاقوں میں رہنے والوں کی بھی مالی اعانت کا فریضہ انجام دیں. اگر غریب خاندانوان کو کسی قسم کی مالی پریشانیاں ہیں تو اس کا سدباب کریں تبھی ایسے دلدوز واقعات پر قدغن لگ سکتی ہے ورنہ آنے والے وقتوں میں مسجدوں میناروں کا یہ شہر خودکشی کی آمجگاہ بن جائے گا اور آئے دن کسی نا کسی محلے, گلیوں سے خودکشیوں کی خبریں منظر عام پر آتی رہیں گی-

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com