Connect with us
Saturday,19-June-2021

(جنرل (عام

نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف اور پاورلوم مزدوروں کو مہاراشٹر حکومت ماہانہ پانچ ہزار نقد اور مفت راشن دے : مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ

Published

on

malegaon-lum

مالیگاؤں (خیال اثر ) مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو جی ٹھاکرے صاحب کو ایک مکتوب بھیجا گیا ہے. جس میں نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف اور پاورلوم مزدوروں کو مہاراشٹر حکومت ماہانہ پانچ ہزار نقد اور مفت راشن دینے کی مانگ کی گئی ہے.

کورونا وباء اور مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ریاست مہاراشٹر بری طرح متاثر ہوچکا ہے. حکومت کے پل پل بدلتے فیصلے اور فرمان سے عوام ذہنی طور پر پریشان حال ہے. ایک جانب ریاست مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مزدوروں کو مالی تعاون اور مفت راشن تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری جانب ایسے بہت سے لاک ڈاؤن سے متاثر مستحق افراد کو اس سے محروم کردیا گیا ہے

ریاست مہاراشٹر کے مسلم اقلیتی شہر مالیگاؤں میں کورونا مرض , مسلسل لاک ڈاؤن اور کارپوریشن انتظامیہ کی ناکارہ کارکردگی کی وجہ سے ہزاروں افراد کی وفات ہوگئی. نیز بے روزگاری میں بے انتہا اضافہ ہوا, ہزاروں لوگ بھکمری کا شکار , سینکڑوں کی تعداد میں خودکشی اور وقت پر طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں نے بند ہسپتالوں کے باہر دم توڑ دیا. عام لوگوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی اور لوگ مقروض ہونے لگے. اب تو عالم یہ ہے کہ بحالت مجبوری روٹی روزی اور بال بچوں کی بھوک مٹانے کے خاطر مزدور آدمی چاہے وہ کسی بھی شعبہ میں کام کرتا ہوں در در بھٹکنے پر مجبور ہے.

مالیگاؤں شہر کا دارومدار پاورلوم صنعت پر ہی منحصر ہے جس سے لاکھوں مزدوروں کو روزگار ملتا ہے. لیکن ابتک ریاستی و مرکزی سرکار کی جانب سے ان مستحق مزدوروں کو کوئی مالی تعاون نہیں مل سکا. دوسری جانب مالیگاؤں شہر میں نجی و ماینارٹی اداروں, پرائیویٹ اسکول و کالج , انگلش میڈیم اسکولوں اور سرکار سے منظور شدہ تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دینے والے نان گرانٹ اساتذہ کو بھی حکومت مہاراشٹر نے اور مقامی کارپوریشن نے نظر انداز کردیا۔

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ حکومت مہاراشٹر سے اپیل کرتی ہے کہ پاورلوم مزدوروں کے ساتھ نان گرانٹ اساتذہ کو بھی ماہانہ پانچ ہزار اور مفت راشن فراہم کرے. پاورلوم صنعت سے منسلک ہر طرح کے مزدوروں کو جلد از جلد مدد فراہم کی جائے. اس طرح سے نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کی معلومات اداروں سے جمع کرکے انھیں فوری طور پر مالی مدد اور مفت راشن تقسیم کیا جائے.

یاد رہے شہر مالیگاؤں میں پاورلوم مزدوروں کو ماضی میں کبھی بھی لیبر ایکٹ کے تحت سہولیات نہیں ملی اور یہ مزدور یونہی کئی کئی سال تک ایمانداری, وفاداری اور محنت کے ساتھ کارخانوں میں کام کرتے رہے. ایسے بھی مزدور ہیں جنھوں نے دس سال, بیس سال اور یہاں تک کے اپنی پوری زندگی کارخانہ داروں کی خدمت کرنے میں گزار دی. لیکن انھیں بھی لاک ڈاؤن میں کچھ نہیں ملا.

پاورلوم صنعت سے منسلک مزدوروں میں لوم کاریگر , راشن بھرنے والے, رچ بھر, بھیم جوڑنے والے, میتھا, مقادم, گھڑی لگانے والے, گانٹھ پریس مزدور, رنگاڑی, سائزنگ مزدور, حمال, چرخہ بھرنے والے, بابن کوئین بنانے والے, سائزنگ کی بھٹی جلانے والے, ورکشاپ اور ٹیکسٹائل میں کام کرنے والے کاریگر, ساڑی کاریگر, سوت, کپاس اور پھولکا میں کام کرنے والے اور دیگر کئی طرح کے مزدور شامل ہیں.

اسی طرح سے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف میں ہیڈ ماسٹر, سپر وائزر, لیکچرار, کلاس ٹیچر, ڈی ایڈ و بی ایڈ اساتذہ, پیون, کلرک, لیب اسسٹنٹ, صاف صفائی کامگار, سیکورٹی گارڈ, ڈرائیور وغیرہ شامل ہیں. ان میں ایسے خودار اورغیرتمند اساتذہ بھی ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سالوں کو بس اس آس میں کاٹ دیئے کہ انھیں بھی سرکار سے گرانٹ ملے گی. لیکن لاک ڈاؤن کے حالات نے یہ بھی منظر دکھایا کہ تعلیمی اداروں کے خود غرض منیجمنٹ نے انہیں چھٹی پر بھیج دیا اور بغیر تنخواہ سال بھر سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کی معاونت تک نہیں کی.

یہ بھی حقیقت ہے کہ شہر مالیگاؤں میں موجود نام نہاد فعال شکشھ سنگھٹنا بھی ہیں جنھوں نے نان گرانٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کیلئے بھی تگ و دو نہیں کی. البتہ ایسی شکشھ سنگھٹناوں نے ان اساتذہ کیلئے مہم و تحریک چلائی جنھوں نے ڈونیشن کی موٹی رقم بھر کر نوکری حاصل کی. ان کی بیس ,چالیس, ساٹھ اور سو فیصد گرانٹ منظوری کو لیکر ہلا مچایا. افسوس! نان گرانٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کی جانب توجہ تک نہیں دی گئی بلکہ انھیں سماج میں حکارت کی نظر سے دیکھا جانے لگا. ان مزدوروں اور اساتذہ خصوصی طور پر خواتین کا مسلسل استحصال بھی کیا جاتا رہا اور اب لاک ڈاؤن کے شنگین حالات میں آج ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں!

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ شہر کے تمام کارخانہ مالکان سے گزارش کرتی ہے کہ وہ بھی اس کار خیر میں پہل کرے تاکہ مستحق محنت کشوں اور ضرورت مندوں کو ان کا حق ملے. اس طرح سے ایسے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے بھی گزارش کیجاتی ہے کہ وہ بھی اپنے ان خودار و عزت دار اساتذہ و نان ٹیچنگ اسٹاف کا ساتھ دیں. شہر کے تمام ہی سیاسی, سماجی و فلاحی تنظیموں سے بھی گزارش کی جاتی ہے کہ پاورلوم مزدوروں اور نان گرانٹ اساتذہ و دیگر اسٹاف کے حق میں آواز بلند کریں.

(جنرل (عام

مراٹھواڑہ میں کورونا کے 585 نئے کیسز، 20 اموات

Published

on

Maharashtra-corona

مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ خطے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 کے 585 نئے کیسز سامنے آئے اور 20 مریضوں کی موت ہوگئی۔ طبی حکام نے سنیچر کےروز یہ اطلاع دی۔ تمام ضلع صدرمقامات سے یواین آئی کی جانب سے جمع کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق خطے کے آٹھ اضلاع میں سے اورنگ آباد ضلع سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں انفیکشن کے 130 نئے کیسز سامنے آئے اور پانچ افراد کی موت ہوگئی۔
اس کے بعد بھیڑ میں 156 نئے کیسز اور چارکی موت، لاتور میں 39 نئے کیسز اور چار کی موت، جبکہ جالنہ میں 32 نئے کیسز اور تین افراد کی موت ہوئی ہے۔ وہیں عثمان آباد میں 141 نئے کیسز اور دو کی موت، پربھنی میں 49 نئے کیسز اور پر ایک شخص کی موت، ناندیڑ میں 26 نئے کیسز اور ایک موت شخص کی موت اور ہنگولی میں 12 نئے کیسز درج کئے گئے ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

گزشتہ 24 گھنٹوں میں 62480 نئے کیسز

Published

on

indian-corona

ملک میں کورونا وائرس (کووڈ 19) کی رفتار میں گراوٹ اور وائرس کے نئے کیسز سے زیادہ شفایاب ہونے والےمریضوں کی تعداد میں اضافہ سے ایکٹیو کیسز میں لگاتار گراوٹ آرہی ہے اور اب 73 دن بعد یہ تعداد آٹھ لاکھ رہ گئی ہے دریں اثنا جمعرات کو 32 لاکھ 59 ہزارتین افراد کو کورونا کے ویکسین دیئے گئے۔ ملک میں مجموعی طور پر اب تک 26 کروڑ 89 لاکھ 60 ہزار 399 افراد کو ویکسین لگائے جا چکے ہیں۔
جمعہ کی صبح مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 62480 نئے کیسز کی رپورٹ کے ساتھ ملک میں کوروناوائرس متاثرین کی مجموعی تعداد29762793 ہوگئی ہے۔ اس دوران 88 ہزار 977 مریض صحت مند ہوئے جس سے ملک میں اب تک دو کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار 647 افراد اس وبا کو شکست دے چکے ہیں۔ ایکٹیو کیسز 28 ہزار 84 سے گھٹ کر اس کی مجموعی تعداد سات لاکھ 98 ہزار 656 رہ گئی ہے۔ یہ گزشتہ 73 دنوں میں ملک میں کم سے کم ایکٹیو کیسز ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 1587 مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس وبا کی وجہ سے مرنے والے مریضوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 83 ہزار 490 ہوچکی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

73 دن کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے ایکٹیو کیسز کی تعداد آٹھ لاکھ سے نیچے

Published

on

corona

ملک میں کورونا وائرس (کووڈ ۔19) کی رفتار میں گراوٹ اور وائرس کے نئے کیسز سے زیادہ شفایاب ہونے والےمریضوں کی تعداد میں اضافہ سے ایکٹیو کیسز میں لگاتار گراوٹ آرہی ہے اور اب 73 دن بعد یہ تعداد آٹھ لاکھ رہ گئی ہے۔
دریں اثنا جمعرات کو 32 لاکھ 59 ہزارتین افراد کو کورونا کے ویکسین دیئے گئے۔ ملک میں مجموعی طور پر اب تک 26 کروڑ 89 لاکھ 60 ہزار 399 افراد کو ویکسین لگائے جا چکے ہیں۔
جمعہ کی صبح مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 62480 نئے کیسز کی رپورٹ کے ساتھ ملک میں کوروناوائرس متاثرین کی مجموعی تعداد29762793 ہوگئی ہے۔ اس دوران 88 ہزار 977 مریض صحت مند ہوئے جس سے ملک میں اب تک دو کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار 647 افراد اس وبا کو شکست دے چکے ہیں۔ ایکٹیو کیسز 28 ہزار 84 سے گھٹ کر اس کی مجموعی تعداد سات لاکھ 98 ہزار 656 رہ گئی ہے۔ یہ گزشتہ 73 دنوں میں ملک میں کم سے کم ایکٹیو کیسز ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 1587 مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس وبا کی وجہ سے مرنے والے مریضوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 83 ہزار 490 ہوچکی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com