Connect with us
Wednesday,12-May-2021

سیاست

اب صبح 7 سے 11 بجے تک ہی کھلے گی گروسری شاپس ، کرانہ دکانوں سے متعلق مہاراشٹر حکومت کا نیا حکم

Published

on

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار کے مطابق ، اب ریاست میں گروسری اسٹورز کو صبح 7 بجے سے صبح 11 بجے تک کھلے رہنے کی اجازت ہوگی۔ خود اجیت پوار نے ٹوئیٹر کے ذریعے ریاست کے لوگوں کو یہ معلومات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سبزیاں خریدنے کے بہانے غیر ضروری طور پر ہجوم اکٹھا کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے کورونا کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب ریاست میں گروسری اور دیگر دکانیں صبح کے سات بجے سے صبح گیارہ بجے تک یعنی صرف چار گھنٹوں کے لئے ہی کھلیں گی ۔ اس حکم کا نفاذ 20 اپریل کی شام 8 بجے ہوگا اور یہ یکم مئی تک نافذ ہوگا۔ ان دکانوں میں تمام گروسری ، سبزی ، پھل ، دودھ ، بیکری ، چکن – مٹن ، انڈے اور زرعی دکانیں شامل ہیں۔

مہاراشٹر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ، ریاستی حکومت آنے والے دنوں میں ریاست کے لوگوں پر کچھ اور سخت قواعد لاگو کرسکتی ہے۔ فی الحال ، ریاست میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ اس کے باوجود ، کورونا معاملات میں کوئی خاص کمی نہیں آرہی ہے۔ ریاست میں ضروری خدمات سے منسلک دکانیں اور ادارے کھلے ہیں۔ تاہم ، لوکل باڈی کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ان کے علاقے میں کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں تو وہ خود ہی اپنے حساب سے فیصلہ لے سکتے ہیں ۔ جس کے تحت صرف ممبئی کے بہت سے علاقوں میں سبزیوں ، پھلوں جیسی دکانوں کو دوپہر تک کھلے رہنے کی اجازت دی گئی ہے ، جبکہ طبی سہولیات پہلے کی طرح شروع ہوں گی۔

موجودہ قواعد کو لاگو کرنے یا ان پر عمل کرنے کے لئے۔ اس سلسلے میں ، آج شام ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جس میں اس موضوع پر فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم کی زیرصدارت یہ اجلاس سہ پہر ساڑھے تین بجے طلب کیا گیا ہے۔ ریاست کے متعدد وزراء نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر مکمل لاک ڈاؤن کے حق میں بیانات دیئے ہیں۔ جس میں وزیر صحت راجیش ٹوپے ، کابینہ کے وزیر وجے وڈیٹیٹوار ، چھگن بھجبل جیسے بہت سے لیڈران نے لاک ڈاؤن کی حمایت کی ہے۔ فی الحال ، لاک ڈاؤن کے بارے میں حتمی فیصلہ مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کریں گے۔ تاہم ، ریاستی حکومت نے متعدد بار اشارہ کیا ہے کہ کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملے کے پیش نظر ریاست میں مکمل لاک ڈاؤن کا واحد آپشن بچا ہے۔

سیاست

ہندوستان متوازن تجارتی نظام کے حق میں ہے : پیوش

Published

on

Piyush

مرکزی وزیر صنعت و تجارت پیوش گویل نے بدھ کے روز کہا کہ ہندوستان تجارت اور سرمایہ کاری کے تحفظ پر ایک متوازن، بلند نظر، وسیع اور باہمی طور پر سود مند معاہدے کے لیے مذاکرہ شروع کرنے کے حق میں ہے۔

مسٹر گویل نے عالمی معاشی اسٹیج کے عالمی تجارت سیشن سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) ایک متوازن معاہدہ نہیں تھا، کیونکہ اس سے ہندوستان کے کسانوں، چھوٹی صنعتوں-ایم ایس ایم ای، ڈیری صنعت کو نقصان ہوگا اور اس لیے حکومت کے لیے آر سی ای پی میں شامل نہ ہونا ایک سمجھ داری تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک کے عوام کے لیے معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے مذاکرات اور امکانات کے لیے تیار ہے۔ ہندوستان، برطانیہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک اور ادارے جمہوریت، شفافیت، قانون کی حکمرانی، عدالتوں کی آزادی، سرمایہ کاری کے قواعد، وغیرہ کے معاملے میں یکساں ہیں، نیز ان ممالک کے ساتھ ہندوستانی تجارت متوازن ہے۔

مسٹر گویل نے کہا کہ ہم یقینی طور پر کچھ ممالک کے محدود ایجنڈے کو قبول نہیں کرسکتے کیونکہ تجارتی نظام، سبسڈی نظام اور فائدہ جو ترقی یافتہ دنیا اٹھا رہی ہے‘ اسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن میں زیادہ سنجیدگی اور زیادہ ایمانداری کے ساتھ حل کیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ایجنڈے کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن کے حقیقی جذبے سے غیر جانبدار، منصفانہ طور پر تیار کرنا ہوگا۔

کووڈ۔19 کے مسئلے پر مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان آج وباء کی دوسری لہر کا سامنا کر رہا ہے، اور اس لہر کی ہولناکی سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بلا روک ٹوک اس وباء کا مقابلہ کر رہا ہے۔ حکومت اہم سپلائی کی خریداری، ریاستوں میں آکسیجن کی سپلائی کی تقسیم اور اصل وقت کی نگرانی کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیہم جدد وجہد کے ساتھ، ہم جلد ہی اس عالمی چیلنج سے نمٹ لیں گے اور مضبوط بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان لچیلا عالمی سپلائی چین کا ایک لازمی حصہ بننا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ وباء کی پہلی لہر کے دوران بھی‘ ملک نے اپنے تمام بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کیا۔

Continue Reading

سیاست

یوگی حکومت بڑی آبادی کو کورونا ویکسینیشن سے محروم رکھنا چاہتی ہے : اکھلیش

Published

on

akhilesh

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ اتر پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کورونا ویکسینیشن کے آن لائن اندراج کے بہانے ایک بڑی آبادی کو حفاظتی ٹیکوں سے محروم کرنا چاہتی ہے۔

مسٹر یادو نے بدھ کو کہا کہ بی جے پی حکومت جس نے ڈاٹا کو جوڑ توڑ کر کے ڈبلیو ایچ او کی طرف سے تعریف حاصل کی تھی، بی جے پی کو گنگا میں بہتی لاشوں کی تصاویر پریشان نہیں کرتی ہیں۔

مسٹر یادو نے بدھ کو کہا کہ بی جے پی حکومت نے آن لائن رجسٹریشن پر ہی ویکسینیشن کی سہولیات مہیا کی ہیں۔ غریب، مزدور اور گاؤں کی آبادی ویکسینیشن سے کس طرح فائدہ اٹھا سکے گی۔ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہئے، کہ تمام مراکز پر مفت ویکسین کیوں دستیاب نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ آن لائن کے بہانے ریاست کی بڑی آبادی کو ویکسین سے محروم کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت تمام لوگوں کو مفت میں ویکسین نہیں لگائے گی تو سماج وادی پارٹی کی حکومت 2022 میں ہر شخص کو یہ سہولت فراہم کرائے گی۔ دنیا میں کوئی بھی ویکسین جو سب سے زیادہ موثر ہوگی، اور جس کا عمل آسان ہے اسے دستیاب کرایا جائے گا۔ سماج وادی حکومت میں ہیلتھ خدمات کارگر ثابت ہوں گی۔ دوا علاج کے بغیر کوئی نہیں رہے گا۔ ہر ایک کے زندہ رہنے کے حق کا پورا احترام کیا جائے گا۔ سماج وادی حکومت میں ہر شہری کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائے گی۔

Continue Reading

جرم

دکان میں آگ لگنے سے لاکھوں کا نقصان

Published

on

fire

اترپردیش کے شہر پریاگراج شہر کے مٹھی گنج میں منگل کو ایک موبائل شاپ میں آگ لگنے سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کر تباہ ہوگیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ راجیش گپتا عرف پپو نے مٹھی گنج کے علاقے میں سلکی چوراہے کے قریب رام جانکی مارکیٹ کے نزدیک اپنے گھر میں ایک الیکٹرونک اور موبائل کی دکان کررکھی تھی۔ بدھ کی صبح دکان سے اچانک دھواں اٹھتے دیکھ کر محلے کے لوگوں نے پولیس اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی۔ جلد ہی شعلے نکلنا شروع ہوگئے۔ اس دوران پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکار جائےواقع پر پہنچ گئے اور کافی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایاگیا۔ دکاندار کے مطابق آگ لگنے کی وجہ سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی نظر میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ لگتی ہے۔ آگ لگنے سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com