Connect with us
Tuesday,04-August-2020

جرم

مالیگاؤں : گرنا ندی میں نہانے کے شوق نے 14 سالہ محفوظ الرحمن کو غرقاب کردیا

Published

on

(وفا ناہید)
آج بروز سنیچر ساڑھے 3 سے 4 بجے کے درمیان گرنا ندی میں ڈوب جانے کی وجہ سے ایک بچے کی موت واقع ہوگئی. اس ضمن میں ملی تازہ تفصیلات کے مطابق معصوم شاہ کٹی سے آگے گرنا ندی میں کچھ بچے نہانے گئے تھے. چونکہ امسال بھی اچھی بارش کا سلسلہ جاری ہے. جس کی وجہ سے گرنا ندی اپنے شباب پر ہے. لہذا پانی کا نظارہ کرنے اور ندی میں نہانے کے شوقین گرنا ندی کا رخ کررہے ہیں. آج دوپہر میں کچھ بچے گرنا ندی میں نہانے کے لئے پہنچے. بچے ندی میں نہانے کا شوق پورا کررہے تھے کہ اسی وقت ایک بچہ پانی کے بہاؤ کی نذر ہوگیا. اس بچے کو ڈوبتا دیکھ کر اس کے ساتھی ڈر کے مارے بھاگ گئے. تب کسی نے شکیل تیراک کو اس بچے کے پانی میں ڈوبنے کی اطلاع دی. اس خبر کے ملتے ہی شکیل تیراک فورآ ہی جائے وقوع ہر پہنچ گئے اور معصوم شاہ کٹی میں واقع بھیکن شاہ درگاہ کے پاس گرنا ندی کے 8 سے 10 فٹ گہرے پانی سے اس بچے کی لاش نکالنے میں کامیابی حاصل کی. شوشل میڈیا پر بچے کی تصویر وائرل ہونے کے بعد اس کی شناخت ہوئی. 14 سالہ محفوظ الرحمان خلیل احمد, اسمعیل نانڈیری اسکول کے پاس , شبیر نگر گلی نمبر 2 کا ساکن تھا. گہرے پانی سے لاش نکالنے کے بعد شکیل تیراک اسے سول ہاسپٹل لے گئے. جہاں قانونی کاروائی کے بعد لاش وارثین کے حوالے کردی گئی.

جرم

مالیگاؤں میں جنونی بھیڑ نے پھر کیا مسلم نوجوانوں پر جان لیوا حملہ، پولس نے کیا مآب لنچنگ سے انکار، 3 افراد پولس کی گرفت میں مزید گرفتاریاں باقی

Published

on

کرائم اسٹوری : وفا ناہید
اس وقت پورے ملک حالات خراب چل رہے ہیں. 4 ماہ تک کورونا نے سب اس قدر خود میں مصروف رکھا کہ کورونا اور اس سے ہونے والی اموات , لاک ڈاؤن, تالی بجانا , دیا جلانا اور کورونا کو مسلمانوں جوڑ کر تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا ہی اس کا مصرف تھا. اب جب کہ کورونا 5 ماہ مکمل کرکے چھٹے ماہ قدم رکھ چکا ہے وہیں عوام کے دلوں سے کورونا کا خوف تھوڑا کم ہوا اور غیرقانونی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا. کوارٹنائن سینٹر میں کووڈ پیشنٹ کی آبروریزی سے لے کر قتل و خودکشی اور انکاؤنٹر کے بعد شرپسندوں کا پسندیدہ مشغلہ مآب لنچنگ تک پہنچ گیا. یوں تو لاک ڈاؤن میں چھوٹے موٹے کرائم کا سلسلہ جاری تھا مگر ادھر گذشتہ کچھ دنوں سے مالیگاؤں کے مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے. ابھی پچھلے دنوں جلگاؤں ضلع کے پارولہ شہر میں کچھ نوجوانوں کی مآب لنچنگ کا ویڈیو شوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا. جس کے بعد شہر میں تناؤ کا ماحول پیدا ہوگیا تھا. وہ تو مالیگاؤں کے مسلمان صبر و جمیل کا پیکر ہے لہذا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا. اس واردات کی ابھی مذمت ہی جاری تھی کل یعنی عیدالاضحیٰ کے دن مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کی حد میں دوبارہ کچھ مسلم نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اس واردات کے تعلق سے جب نمائندۂ ممبئی پریس نے مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کے پی آئی نریندر بھدانے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ مالیگاؤں کے 4 افراد آٹو رکشا سے جارہے تھے . اتنے میں جو کہ ایک بائی اپنی بھیڑ بکریاں لے کر جارہی تھیں , ان نوجوانوں کے ہارن بجانے کے بعد بھی اس نے راستہ نہیں دیا. جس کی وجہ سے وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گالی گلوچ کی. جس کے بعد اس بائی کے افراد خانہ نے بائیک کے ذریعہ ان نوجوانوں کی رکشا کا تعاقب کیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی. پی آئی بھدانے کے مطابق یہ مآب لنچنگ نہیں تھی. بلکہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ گالی گلوچ کی تھی. بائیک سے آٹو رکشا کا پیچھا کیا گیا. جب وہ نوجوان اپنی جاں بچا کر بھاگنے لگے تو ان پر پتھراؤ کیا. بڑے بڑے پتھر پھینکے گئے جس کی وجہ ایک نوجوان زخمی ہوگیا اور ساتھ ہی ان مشتعل افراد نے ان کی آٹو رکشا MH41 AT 0757 کو بھی پتھر سے توڑ پھوڑ دیا . پی آئی بھدانے نے مزید بتایا کہ ہم نے اس واردات میں 3 افراد کو حراست میں لیا ہے. مزید گرفتاریاں ہونی باقی ہیں. اس کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے. ان افراد پر تعزیرات ہند کی دفعات 324 اور 341 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.
اس واردات کا بھی ویڈیو وائرل ہوا جس میں صاف دکھائی دے رہا ہے بڑے بڑے پتھروں سے آٹو رکشا کی توڑ پھوڑ کی گئی . کہا جارہا ہے کہ جب مسلم نوجوان ان شرپسندوں سے جان بظاہر بھاگ رہے تھے. تب ان پر پتھر برسائے گئے. جنونی ہجوم کی طرف سے یہ ایک جان لیوا حملہ تھا. اگر یہ مسلم نوجوان خدانخواستہ ان کے ہاتھ لگ جاتے تو شاید ان کی لاشیں گھر آتیں. ایک معمولی تکرار کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی. اس کے باوجود پولس اسے مآب لنچنگ ماننے کو تیار نہیں. اگر ان نوجوانوں کی غلطی تھی تو پولس سے رجوع کیا جاسکتا تھا. قانون ہاتھ میں لے کر اس طرح تانڈو کرنے کی ضرورت نہیں تھی.

Continue Reading

جرم

یدیورپا کے بعد ان کی بیٹی بھی کوروناکی زد میں آئی

Published

on

کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدیورپا کے بعدان کی بیٹی بھی کورونا مثبت پائی گئی ہیں اور انہیں بنگلور کے منی پال اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
اس سے قبل مسٹر یدیورپا کواتوار کے روز کورونا پازیٹو آنے پر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
مسٹر یدیورپا نے اپنے ٹویٹرہینڈل پر لکھا’’میری کورونا کی رپورٹ مثبت آئی ہے ، حالانکہ میں ٹھیک ہوں۔ میں ڈاکٹروں کے مشورے پر اسپتال میں داخل ہورہاہوں۔ میں درخواست کروں گا کہ جو بھی میرے رابطے میں آنے ہیں اپنا ٹسٹ کرائیں اورخود آئسو لیشن میں چلے جائیں‘‘ ۔
وزیراعلیٰ نے دو دن قبل کوروناکاٹسٹ کرایا تھا۔
مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور کرناٹک کے سابق وزیراعلی اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے رہنما سدارمیا سمیت متعدد رہنماؤں نے ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔

Continue Reading

جرم

کورونا سے سب سے زیادہ متاثر چار ریاستوں میں 61 فیصد فعال کیسز

Published

on

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرملک کی چار ریاستوں میں اس وبا کے 3.54 لاکھ سے زیادہ کیسز ہیں جو ملک بھر میں ایسے کیسز کا تقریبا 61 فیصد ہے۔
کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ریاست مہاراشٹر میں وائرس کے سب سے زیادہ 148843 فعال کیسز ہیں جبکہ جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں 74598 ، آندھرا پردیش میں 74404 اور تمل ناڈو میں 56998 ہیں ۔ ان چار ریاستوں میں کورونا کیسز کی تعداد 354،843 ہیں جو ملک بھر میں سرگرم 579،357 کیسز کا 61 فیصد سے زیادہ ہے۔
مرکزی وزارت صحت کی جانب سے پیر کے روز جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 52،972 نئے کیسز درج ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 18 لاکھ سے تجاوز کرکے 18،03،696 ہوگئی اور اب تک اس وبا سے 38،135 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ، جبکہ مجموعی طور پر 11،86،203 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ فی الحال اس وقت ملک میں کورونا کے 579357 فعال کیسز ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر کنٹرول علاقوں میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد مندرجہ ذیل ہے۔
ریاست ………………——–ایکٹیو کیسز …… شفایاب ………. ہلاک شدگان
انڈمان نکوبار —- 484 —— 242 ———- 8
آندھرا پردیش ———– 74404 —– 82886 —— 1474
اروناچل پردیش ——- 699 ——- 996 ——— 3
آسام —————— 10415 —– 32384 —– 105
بہار —————— 20306 —– 36389 —– 329
چنڈی گڑھ —————- 400 ——- 698 ——- 19
چھتیس گڑھ ————– 2482 —— 6991 —– 58
دادرا نگر نگر حویلی دمن دیو ————– 416 ——- 766 ——– 2
دہلی —————— 10356 —– 123317 —- 4004
گوا ——————– 1809 —— 4668 —— 53
گجرات —————– 14572 —– 46504 —- 2486
ہریانہ —————- 6396 —— 29690 —- 433
ہماچل پردیش ———- 1130 ——- 1559 —– 14
جموں۔کشمیر ———– 7893 ——– 13127 — 396
جھارکھنڈ —————– 7723 ——- 4682 —— 118
کرناٹک —————- 74598 —— 57725 —– 2496
کیرالہ —————— 11366 ——- 14463 —– 82
لداخ —————— 351 ——– 1108 ——– 7
مدھیہ پردیش ————– 9099 ——– 23550 —— 886
مہاراشٹر ————— 148843 —— 276809 —– 15576
منی پور —————- 1087 ———- 1737 ——- 7
میگھالیہ —————- 605 ———- 264 ——— 5
میزورم ————— 224 ———– 258 ——— 5
ناگالینڈ —————- 1282 ———- 648 ——— 5
اوڈیشہ —————- 12761 ——– 21955 —— 197
پڈوچیری ————— 1445 ——— 2309 ——- 52
پنجاب —————– 5964 ———- 1146 —— 423
راجستھان ————– 12391 ——— 30710 ——- 703
سکم ————— 368 ———— 289 ——— 1
تمل ناڈو ———— 56998 ———- 196483 —— 4132
تلنگانہ ————– 18547 ———- 47590 —— 540
تری پورہ —————- 1742 ———— 3605 ——- 27
اتراکھنڈ ———— 3070 ————- 4437 ——- 86
اتر پردیش ———– 38023 ———- 53168 —– 1730
مغربی بنگال ———- 21108 ———– 52730 —— 1678
مجموعئ —————— 579357 ———- 1186203 —- 38135

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com