Connect with us
Tuesday,04-August-2020

ممبئی پریس خصوصی خبر

محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد

Published

on

دھولیہ شہر میں تعلیمی اداروں میں لاکھوں کا غبن کیا جارہا ہے۔ تعلیمی معیار کی سطح کم سے کم ہوتی جارہی ہے، تعلیم گاہوں کو بدعنوانی کا اڈا بنانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی انجام دی جانی چاہیے۔ اردو اسکولوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ بدعنوانی کو انجام دینے کے لیے ایک ہی اسکول میں کئی مینجمنٹ باڈی کی تشکیل دی گئی ہے۔ اب تک صرف کچھڑی کی بدعنوانی منظر عام پر آئی تھی لیکن اب اس سے بھی بڑی بدعنوانی کا دعویٰ سماجی خدمتگار مناف شیخ عبدالرحمٰن نے کیا ہے۔ ممبئی پریس سے بات چیت کرتے ہوئے مناف شیخ نے کہا کہ ینگ بوائز انڈسٹریل وایجوکیشنل سرکل کے زیرانصرام اسکولوں میں زبردست بدعنوانیوں کو انجام دیا گیا ہے۔ انہوں نے بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس ادارے میں مینجمنٹ باڈی ہی نہیں ہے، لیکن ٹیچر اور ملازمین کی بھرتی کرائی گئی ہے۔2012 سے اب تک جتنے بھی ٹیچرس اور دیگر عملہ ینگ بوائز انڈسٹریل وایجوکیشنل سرکل میں ملازمت پر ہیں وہ غیر قانونی ہیں۔ حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر غلط طریقہ کار اپنا کر اساتذہ ودیگر لوگوں کو ملازمت دی گئی ہے۔ مناف شیخ نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ چیئریٹی کمیشنر کے پاس فائل پہنچائی گئی ہے، وہاں کیس چلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ (2019) 363 نمبر کی فائل پر نتیجہ آئے گا اور مجرمین کو دھوکے بازی کرکے بھرتی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ آر ٹی آئی قانون کے تحت مناف شیخ نے معلومات فراہم کرنا چاہا لیکن انہیں ہیڈماسٹر نیز پرنسپل نے معلومات فراہم کرنے میں ٹال مٹول کی، پہلی اپیل داخل کرنے پر بھی انہیں معلومات فراہم نہ ہوسکی تو انہوں نے ناسک میں راجیہ ماہتی آیوگ میں دوسری اپیل داخل کی۔ راجیہ ماہتی آیوگ نے یونس بشیر پٹل کو ملزم مان کر 5000 روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 دنوں کے اندر مناف شیخ کو معلومات فراہم کی جائے۔ اتنی بڑی بدعنوانی سالوں سے پس پردہ تھی لیکن مناف شیخ نے انہیں منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔

سیاست

سوشانت کیس کی تحقیقات کرنے گیا افسر کوارینٹائین میں، نیروپم نے کہا- ایسا لگتا ہے کہ ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے

Published

on

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت پر مہاراشٹر میں سیاست شروع ہوگئی ہے۔ بی ایم سی کے ذریعہ پٹنہ کے ایس پی ونئے تیواری کی کوارینٹائین کیے جانے کے بعد، اب کانگریس، جو اقتدار کی شیئر ہولڈر ہے، نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے رہنما سنجے نیروپم نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔
ممبئی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے سنجے نیروپم نے ایک ٹویٹ میں کیا، ‘لگتا ہے، بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔ سوشانت سنگھ کیس کی تحقیقات کرنے آئے آئی پی ایس آفیسر تیواری کو 15 اگست تک کورینٹائین کیا گیا۔ انکوائری کیسے ہوگی؟ وزیر اعلی کو فوری مداخلت کرنی چاہئے۔ تیواری کو رہا کریں اور تحقیقات میں مدد کریں ورنہ ممبئی پولیس کا شکوہ بڑھتا جائے گا۔


جب اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی بہار پولیس کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، ریاست میں سیاسی پارا بھی بڑھتا جارہا ہے۔ بہار اسمبلی میں سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ سوشانت کے کزن اور بی جے پی کے ممبر اسمبلی نیرج سنگھ ببلو نے معاملہ اٹھایا اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ادھر اپوزیشن لیڈر تیجشوی یادو نے بھی سوشانت کیس کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بہار حکومت کے وزیر جئے سنگھ نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کا رویہ وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔

Continue Reading

جرم

مالیگاؤں میں جنونی بھیڑ نے پھر کیا مسلم نوجوانوں پر جان لیوا حملہ، پولس نے کیا مآب لنچنگ سے انکار، 3 افراد پولس کی گرفت میں مزید گرفتاریاں باقی

Published

on

کرائم اسٹوری : وفا ناہید
اس وقت پورے ملک حالات خراب چل رہے ہیں. 4 ماہ تک کورونا نے سب اس قدر خود میں مصروف رکھا کہ کورونا اور اس سے ہونے والی اموات , لاک ڈاؤن, تالی بجانا , دیا جلانا اور کورونا کو مسلمانوں جوڑ کر تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا ہی اس کا مصرف تھا. اب جب کہ کورونا 5 ماہ مکمل کرکے چھٹے ماہ قدم رکھ چکا ہے وہیں عوام کے دلوں سے کورونا کا خوف تھوڑا کم ہوا اور غیرقانونی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا. کوارٹنائن سینٹر میں کووڈ پیشنٹ کی آبروریزی سے لے کر قتل و خودکشی اور انکاؤنٹر کے بعد شرپسندوں کا پسندیدہ مشغلہ مآب لنچنگ تک پہنچ گیا. یوں تو لاک ڈاؤن میں چھوٹے موٹے کرائم کا سلسلہ جاری تھا مگر ادھر گذشتہ کچھ دنوں سے مالیگاؤں کے مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے. ابھی پچھلے دنوں جلگاؤں ضلع کے پارولہ شہر میں کچھ نوجوانوں کی مآب لنچنگ کا ویڈیو شوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا. جس کے بعد شہر میں تناؤ کا ماحول پیدا ہوگیا تھا. وہ تو مالیگاؤں کے مسلمان صبر و جمیل کا پیکر ہے لہذا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا. اس واردات کی ابھی مذمت ہی جاری تھی کل یعنی عیدالاضحیٰ کے دن مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کی حد میں دوبارہ کچھ مسلم نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اس واردات کے تعلق سے جب نمائندۂ ممبئی پریس نے مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کے پی آئی نریندر بھدانے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ مالیگاؤں کے 4 افراد آٹو رکشا سے جارہے تھے . اتنے میں جو کہ ایک بائی اپنی بھیڑ بکریاں لے کر جارہی تھیں , ان نوجوانوں کے ہارن بجانے کے بعد بھی اس نے راستہ نہیں دیا. جس کی وجہ سے وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گالی گلوچ کی. جس کے بعد اس بائی کے افراد خانہ نے بائیک کے ذریعہ ان نوجوانوں کی رکشا کا تعاقب کیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی. پی آئی بھدانے کے مطابق یہ مآب لنچنگ نہیں تھی. بلکہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ گالی گلوچ کی تھی. بائیک سے آٹو رکشا کا پیچھا کیا گیا. جب وہ نوجوان اپنی جاں بچا کر بھاگنے لگے تو ان پر پتھراؤ کیا. بڑے بڑے پتھر پھینکے گئے جس کی وجہ ایک نوجوان زخمی ہوگیا اور ساتھ ہی ان مشتعل افراد نے ان کی آٹو رکشا MH41 AT 0757 کو بھی پتھر سے توڑ پھوڑ دیا . پی آئی بھدانے نے مزید بتایا کہ ہم نے اس واردات میں 3 افراد کو حراست میں لیا ہے. مزید گرفتاریاں ہونی باقی ہیں. اس کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے. ان افراد پر تعزیرات ہند کی دفعات 324 اور 341 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.
اس واردات کا بھی ویڈیو وائرل ہوا جس میں صاف دکھائی دے رہا ہے بڑے بڑے پتھروں سے آٹو رکشا کی توڑ پھوڑ کی گئی . کہا جارہا ہے کہ جب مسلم نوجوان ان شرپسندوں سے جان بظاہر بھاگ رہے تھے. تب ان پر پتھر برسائے گئے. جنونی ہجوم کی طرف سے یہ ایک جان لیوا حملہ تھا. اگر یہ مسلم نوجوان خدانخواستہ ان کے ہاتھ لگ جاتے تو شاید ان کی لاشیں گھر آتیں. ایک معمولی تکرار کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی. اس کے باوجود پولس اسے مآب لنچنگ ماننے کو تیار نہیں. اگر ان نوجوانوں کی غلطی تھی تو پولس سے رجوع کیا جاسکتا تھا. قانون ہاتھ میں لے کر اس طرح تانڈو کرنے کی ضرورت نہیں تھی.

Continue Reading

خصوصی

ممبئی: سوشانت سنگھ معاملے کی تفتیش کے لئے پہنچنے والے پٹنہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ، کوارینٹائین سینٹر پر بھیجے گئے، ہاتھ پر لگائی مہر

Published

on

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے میں بہار پولیس کے ذریعہ کی جارہی تحقیقات کی رہنمائی کے لئے ممبئی پہنچنے والے پٹنہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ونئے تیواری کو بی ایم سی نے الگ تھلگ رہائش پر بھیج دیا ہے۔ برہمومبائی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے عہدیداروں نے بھی تیواری کے ہاتھ پر مہر لگا دی ہے، جس سے یہ اشارہ ہوتا ہے کہ وہ 15 اگست تک الگ رہیں گے۔
ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ تیواری اتوار کو ممبئی پہنچے تھے اور بی ایم سی کے عہدیداروں نے انہیں حال ہی میں گورگاؤں میں اسٹیٹ ریزرو پولیس فورس کے گیسٹ ہاؤس میں ایک علیحدہ رہائش گاہ پر 14 دن کے لئے بھیجا تھا۔ اتوار کے روز بہار کے ڈائریکٹر جنرل پولیس گپتیشور پانڈے نے الزام لگایا کہ تیواری کو ممبئی میں بی ایم سی کے عہدیداروں نے زبردستی الگ رہائش گاہوں میں بھیجا تھا۔
پانڈے نے کل ٹویٹ کیا، “آئی پی ایس آفیسر ونئے تیواری پولیس ٹیم کی سربراہی کے لئے سرکاری ڈیوٹی پر آج پٹنہ سے ممبئی پہنچے، لیکن بی ایم سی کے عہدیداروں نے انہیں زبردستی رات 11 بجے کوارینٹائین پر بھیج دیا۔ “سوشانت سنگھ راجپوت (34) 14 جون کو اپنے باندرا اپارٹمنٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ اتوار کے روز ممبئی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد، تیواری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ یہاں اپنی ٹیم کی قیادت کرنے آئے ہیں اور ہر ممکن زاویوں سے معاملے کی تحقیقات کریں گے۔
انہوں نے کہا، “ممبئی پولیس اپنے انداز میں اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ہم اپنے طریقے سے تفتیش کریں گے۔” اگر ضرورت پڑی تو ہم بالی ووڈ کی مشہور شخصیات کے بیانات بھی ریکارڈ کریں گے جن کے بیانات ممبئی پولیس نے ریکارڈ کروائے ہیں۔ انہوں نے کہا، “تحقیقات صحیح راہ پر گامزن ہیں اور ہم صحیح سمت میں گامزن ہیں۔” ہماری ٹیم یہاں کیس سے متعلق تمام اہم دستاویزات حاصل کرنے آئی ہے۔
ممبئی پولیس نے ابھی تک سوشانت راجپوت کیس میں 40 کے قریب لوگوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں، جن میں اداکار کا کنبہ، کک اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ بہشت پولیس پچھلے ہفتے سوشانت کے والد کرشنا کمار سنگھ کی طرف سے ‘خودکشی کے لیے اکسانے’ کے معاملے میں درج کی گئی شکایت کی بنیاد پر پٹنہ میں الگ تفتیش کررہی ہے۔ بہار پولیس نے راجپوت کی موت کے معاملے میں اب تک 10 افراد کے بیان قلمبند کیے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com