Connect with us
Friday,03-July-2020

(Lifestyle) طرز زندگی

موسیقی کے ایل سہگل درد بھرے نغموں کے شہشاہ تھے

Published

on

K.L.-Sahgal

شہنشاہ موسیقی کےایل سہگل نے15سال کے عرصے میں 185 نغموں کے لیے اپنی آواز دی اور 36 فلموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے اور جنوری 1947 اس دنیا سے کوچ کرگئے ۔ سہگل 1930 کی دہائی میں فلمی دنیا کے نقشے پر نظرآئے جب نیو ٹھیٹر کلکتہ کے مالک بی این سرکارنے سامعین کے سامنے پیش کیا اور انہیں زبردست شہرت حاصل ہوئی۔ سہگل کا پورا نام کندن لال سہگل تھا۔ ان کا جنم 11 اپریل 1904 میں ہوا تھا۔
معروف گلوکار اور اداکارکے مقامِ پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جموں میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد تحصیلدار تھے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جالندھر میں پیدا ہوئے۔
ان کے بعض سوانح نگاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی استاد سے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ موسیقی کے کسی معروف گھرانے سے ان کا تعلق تھا لیکن جب وہ جموں میں تھے تووالدہ کے ساتھ مذہبی تقاریب اور مندروں میں بھجن کی محفلوں میں شرکت کرتے اور والدہ کے ساتھ مل کر بھجن خود گایا بھی کرتے۔
بعض سوانح نگاروں کا کہنا ہے کہ جموں کے ایک غیر معروف صوفی بزرگ سلمان یوسف کے آستانے پر حاضری بھی دیتے تھے اور بھجن یا عارفانہ کلام سناتے۔ یہ بزرگ خود بھی گاتے تھے اس لیے عین ممکن ہے کہ انہیں موسیقی میں کچھ درک رہا ہو اور انہوں نے سہگل کی اس سلسلے میں کچھ ابتدائی تربیت کی ہو۔
موسیقی اور گائکی سہگل کی رگ رگ میں رچی بسی ہوئی تھی جو ان کا ذریعہ معاش نہیں تھا ، نہ ہی انہوں نے اسے روزی کا ذریعہ بنانے کا کوئی منصوبہ بنایا تھا اور بنا بھی نہیں سکتے تھے، اس لیے کہ اس زمانے میں موسیقی اور پہلوانی دونوں صرف جاگیرداروں اور رجواڑوں کی سرپرستی میں فروغ پاتی تھیں اور سہگل ایک آزاد انسان تھے جن کے لئے درباروں کے آداب سے مطابقت پیدا کرنا یقیناً مشکل تھا۔ چنانچہ سہگل کلکتہ چلے گئے اور وہاں انہیں ٹائپ رائٹر بنانے والی کمپنی میں 80 روپے ماہانہ کی سیلز مین کی نوکری مل گئی۔ کلکتہ میں ہی ان کی ملاقات نیو تھئیٹر کے بانی بی۔ این ۔ سرکار سے ہوگئی۔ سرکار کو سہگل کی آواز بہت پسند آئی اور انہوں نے نیو ٹھیئٹر میں سہگل کو گلوکار کے طور پر دو سو روپے ماہانہ ملازمت پر رکھ لیا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(Lifestyle) طرز زندگی

ساحر لدھیانوی ایک ایسے نغمہ نگار ہیں جن کی شعری اور ادبی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا

Published

on

ساحر لدھیانوی ہندی سنیما کے ایک ایسے نغمہ نگار ہیں جن کی شعری اور ادبی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا، دنیائے سخن میں انہیں امتیازی مقام حاصل ہے۔
ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی 8 مارچ 1921ء کو لدھیانہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کا حقیقی نام عبدالحئی تھا۔ ابتدائی تعلیم خالصہ اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے کالج کے زمانے سے ہی شاعری کا آغاز کردیا تھا اور وہ اپنی غزلیں اور نظمیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے جس سے انہیں کافی شہرت ملی۔
ساحر لدھیانوی کے ساتھ کالج میں مشہور مصنفہ امریتا پریتم بھی پڑھتی تھیں، جو ان کی غزلوں اور نظموں کی مرید ہوگئیں اور ان سے محبت کرنے لگیں، لیکن کچھ وقت کے بعد ہی ساحر کو کالج سے نکال دیا گیا، جس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ امریتا پریتم کے والد کو ساحر اور امریتا کے رشتے پر اعتراض تھا کیونکہ ساحر مسلمان تھے اور امریتا سکھ۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان دنوں ساحر کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

بالی ووڈ میں ابھیشیک بچن کو سخت مشقت کے بعد کامیابی حاصل ہوئی

Published

on

بالی ووڈ اداکار ابھیشیک بچن بدھ کو 44 سال کے ہو گئے. ممبئی میں 5 فروری 1976 کو ابھیشیک بچن کی پیدائش ہوئی۔ ان کو اداکاری کے فن وراثت میں ملے۔ ابھیشیک کے والد امیتابھ بچن اداکارہ ماں جیا بہادری معروف اداکارہ ہیں۔ گھر میں فلمی ماحول رہنے کی وجہ ابھیشیک کا رجحان بھی فلموں کی طرف ہو گیا اور وہ اداکار بننے کا خواب دیکھنے لگے۔
ابھیشیک نے اپنے کیریئر کا آغاز سال 2000 میں ریلیز فلم جسے جے پی دتہ نے ڈائریکٹ کیا تھا، فلم ریفیوجی سے کیا تھا۔ اسی فلم میں ان کے اپوزٹ کرینہ کپور تھی جو ان کی بھی پہلی فلم تھی. اگرچہ یہ فلم باکس آف پر کوئی خاص کمال نہیں دکھا سکی لیکن ابھیشیک کی اداکاری کو ضرور پسند کیا گیا۔ اس فلم کے بعد ابھیشیک نے تیرا جادو چل گیا، ڈھائی اکشر پریم کے، بس اتنا سا خواب ہے، ہاں میں نے بھی پیار کیا ہے، شرارت، ممبئی سے آیا میرا دوست، میں پریم کی دیوانی ہوں، اوم جے جگدیش، ایل او سی کارگل، کچھ نہ کہو جیسی فلموں میں کام کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں رہی۔
سال 2003 میں ابھیشیک کی زمین ریلیز ہوئی. اس فلم میں ابھیشیک کے علاوہ اجے دیوگن کے بھی اہم کردار تھے۔ فلم کو باکس آفس پر اوسط کامیابی ملی. سال 2004 میں آئی فلم یوا، ابھیشیک بچن کے کیریئر کی اہم فلم ثابت ہوئی. اس فلم میں ابھیشیک کا کردار گرے شڈکس لیے ہوئے تھا لیکن وہ ناظرین کو مسحور کرنے میں کامیاب رہے. اس فلم کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی دیا گیا۔

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

وطن پرست رام چندر دویدی عرف ‘ پردیپ ‘ حب الو طنی کے نغمے لکھنے کے لئے مشہور تھے

Published

on

یوں تو ہندوستانی سنیما کی دنیا میں بہادروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اب تک نہ جانے کتنے گیتوں کی تخلیق ہوچکی ہے، لیکن ’اے میرے وطن کے لوگوں، ذرا آنکھ میں بھر لو پانی، جو شہید ہوئے ہیں ان کی، ذرا یاد کرو قربانی‘ جیسے گیت لکھنے والے وطن پرست رام چندر دویدی عرف پردیپ کے اس گیت کی بات ہی کچھ خاص ہے۔
سال 1962 میں جب ہندستان اور چین کی جنگ اپنے عروج پر تھی تب شاعر پردیپ ‘پرم ویر میجر شیطان سنگھ’ کی بہادری اور قربانی سے کافی متاثر ہوئے اور ملک کے بہادروں کو خراج عقیدت دینے کے لیے انہوں نے اے میرے وطن کے لوگوں، ذرا یاد کرو قربانی گانا لکھا۔ سری رام چندر کی موسیقی سے سجے اس گیت کو سن کر اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے تھے۔ اے میرے وطن کے لوگوں آج بھی ہندستان کے عظیم محب وطن گیت کے طور میں یاد کیا جاتا ہے۔
چھ فروری، 1915 کو پیدا ہوئے متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے پردیپ کو بچپن سے ہی ہندی شاعری لکھنے کا ایک جذبہ تھا، سال 1939 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے استاد بننے کی کوشش کی، لیکن اسی دوران انہیں ممبئی میں ہو رہے ایک مشاعرے میں حصہ لینے کی دعوت ملی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com