Connect with us
Friday,03-July-2020

(Lifestyle) طرز زندگی

12 اپریل کواولین پلے بیک سنگر شمشاد بیگم پر ڈاکیومینٹری

Published

on

’’میرے پیا گئے رنگون، وہاں سے کیا ہے ٹیلی فون‘‘ جیسے مشہور نغموں کو اپنی سریلی آواز سے آراستہ کرنے والی پلے بیک سنگر شمشاد بیگم کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر 12 اپریل کو یہاں اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹ میں ایک ڈاکیومینٹری پیش کی جائے گی۔
جلیانوالہ باغ سانحہ کے اگلے دن 14 اپریل 1919 کو شمشاد بیگم کی پیدائش لاہور میں ہوئی تھی ۔ ان پر یہ فلم مشہور فلم صحافی راجیو شریواستو نے بنائی ہے۔ وہ جے پرکاش نارائن اور مکیش پر بھی فلم بنا چکے ہیں۔ اس ڈاکیومینٹری فلم میں ’پدم بھوشن‘ سے سرفراز شمشاد بیگم کا ایک انٹرویو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سال 1940 سے 1960 کے درمیان چھ ہزار گیت گا چکی اس گلوکارہ پر بنی فلم میں آواز مشہور اناؤنسر امین سایانی نے دی ہے۔ شمشاد بیگم کی شخصیت اور تخلیقی صلاحیت پر مبنی اس ایک گھنٹے کی فلم میں ’نیشنل فلم میوزیم‘ سے تعاون سے لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر شریواستو نے يواین آئی کو بتایا کہ فلم میں گلوکارہ شمشاد بیگم بذات خود اپنی زندگی کے اہم واقعات بیان کئے ہیں۔ ان دنوں آکاشوانی ریڈیو کے لاہور، جالندھر، دہلی اور لکھنؤ مراکز پر گاتے ہوئے ان کی انتہائی مقبولیت کی بدولت ہی انہیں فلموں میں گانے کی دعوت ملی۔ انهوں نے راج کپور، مدن موہن، کشور کمار جیسے فنکاروں کی مدد کی۔ کس طرح ان کی ملاقات اس وقت کے سب سے بڑے اداکار۔ گلوکار کندن لال سہگل سے ہوئی اور کس طرح وہ ہندو خاندان میں محبت کی شادی کرکے ہمیشہ کے لئے ہندوستان میں بس گئیں، ان سب کی تفصیلات اس فلم میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مہاتما گاندھی کی موت پر خاص طور پر شمشاد بیگم کی آواز میں صدا بند نایاب ’خراج عقیدت کا گیت‘ اس فلم میں شامل کیا گیا ہے۔ فلم ’پاکیزہ‘ کا مقبول ترین گیت ’انہی لوگوں نے لے لينا دوپٹہ میرا‘ برسوں پہلے شمشاد گا چکی تھیں، اس کی بھی دلچسپ کہانی اس فلم میں پیش کی گئی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(Lifestyle) طرز زندگی

ساحر لدھیانوی ایک ایسے نغمہ نگار ہیں جن کی شعری اور ادبی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا

Published

on

ساحر لدھیانوی ہندی سنیما کے ایک ایسے نغمہ نگار ہیں جن کی شعری اور ادبی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا، دنیائے سخن میں انہیں امتیازی مقام حاصل ہے۔
ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی 8 مارچ 1921ء کو لدھیانہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کا حقیقی نام عبدالحئی تھا۔ ابتدائی تعلیم خالصہ اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے کالج کے زمانے سے ہی شاعری کا آغاز کردیا تھا اور وہ اپنی غزلیں اور نظمیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے جس سے انہیں کافی شہرت ملی۔
ساحر لدھیانوی کے ساتھ کالج میں مشہور مصنفہ امریتا پریتم بھی پڑھتی تھیں، جو ان کی غزلوں اور نظموں کی مرید ہوگئیں اور ان سے محبت کرنے لگیں، لیکن کچھ وقت کے بعد ہی ساحر کو کالج سے نکال دیا گیا، جس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ امریتا پریتم کے والد کو ساحر اور امریتا کے رشتے پر اعتراض تھا کیونکہ ساحر مسلمان تھے اور امریتا سکھ۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان دنوں ساحر کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

بالی ووڈ میں ابھیشیک بچن کو سخت مشقت کے بعد کامیابی حاصل ہوئی

Published

on

بالی ووڈ اداکار ابھیشیک بچن بدھ کو 44 سال کے ہو گئے. ممبئی میں 5 فروری 1976 کو ابھیشیک بچن کی پیدائش ہوئی۔ ان کو اداکاری کے فن وراثت میں ملے۔ ابھیشیک کے والد امیتابھ بچن اداکارہ ماں جیا بہادری معروف اداکارہ ہیں۔ گھر میں فلمی ماحول رہنے کی وجہ ابھیشیک کا رجحان بھی فلموں کی طرف ہو گیا اور وہ اداکار بننے کا خواب دیکھنے لگے۔
ابھیشیک نے اپنے کیریئر کا آغاز سال 2000 میں ریلیز فلم جسے جے پی دتہ نے ڈائریکٹ کیا تھا، فلم ریفیوجی سے کیا تھا۔ اسی فلم میں ان کے اپوزٹ کرینہ کپور تھی جو ان کی بھی پہلی فلم تھی. اگرچہ یہ فلم باکس آف پر کوئی خاص کمال نہیں دکھا سکی لیکن ابھیشیک کی اداکاری کو ضرور پسند کیا گیا۔ اس فلم کے بعد ابھیشیک نے تیرا جادو چل گیا، ڈھائی اکشر پریم کے، بس اتنا سا خواب ہے، ہاں میں نے بھی پیار کیا ہے، شرارت، ممبئی سے آیا میرا دوست، میں پریم کی دیوانی ہوں، اوم جے جگدیش، ایل او سی کارگل، کچھ نہ کہو جیسی فلموں میں کام کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں رہی۔
سال 2003 میں ابھیشیک کی زمین ریلیز ہوئی. اس فلم میں ابھیشیک کے علاوہ اجے دیوگن کے بھی اہم کردار تھے۔ فلم کو باکس آفس پر اوسط کامیابی ملی. سال 2004 میں آئی فلم یوا، ابھیشیک بچن کے کیریئر کی اہم فلم ثابت ہوئی. اس فلم میں ابھیشیک کا کردار گرے شڈکس لیے ہوئے تھا لیکن وہ ناظرین کو مسحور کرنے میں کامیاب رہے. اس فلم کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی دیا گیا۔

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

وطن پرست رام چندر دویدی عرف ‘ پردیپ ‘ حب الو طنی کے نغمے لکھنے کے لئے مشہور تھے

Published

on

یوں تو ہندوستانی سنیما کی دنیا میں بہادروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اب تک نہ جانے کتنے گیتوں کی تخلیق ہوچکی ہے، لیکن ’اے میرے وطن کے لوگوں، ذرا آنکھ میں بھر لو پانی، جو شہید ہوئے ہیں ان کی، ذرا یاد کرو قربانی‘ جیسے گیت لکھنے والے وطن پرست رام چندر دویدی عرف پردیپ کے اس گیت کی بات ہی کچھ خاص ہے۔
سال 1962 میں جب ہندستان اور چین کی جنگ اپنے عروج پر تھی تب شاعر پردیپ ‘پرم ویر میجر شیطان سنگھ’ کی بہادری اور قربانی سے کافی متاثر ہوئے اور ملک کے بہادروں کو خراج عقیدت دینے کے لیے انہوں نے اے میرے وطن کے لوگوں، ذرا یاد کرو قربانی گانا لکھا۔ سری رام چندر کی موسیقی سے سجے اس گیت کو سن کر اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے تھے۔ اے میرے وطن کے لوگوں آج بھی ہندستان کے عظیم محب وطن گیت کے طور میں یاد کیا جاتا ہے۔
چھ فروری، 1915 کو پیدا ہوئے متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے پردیپ کو بچپن سے ہی ہندی شاعری لکھنے کا ایک جذبہ تھا، سال 1939 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے استاد بننے کی کوشش کی، لیکن اسی دوران انہیں ممبئی میں ہو رہے ایک مشاعرے میں حصہ لینے کی دعوت ملی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com