Connect with us
Sunday,05-July-2020

(جنرل (عام

راہل کو وزیراعظم کا امیدواراتحادی ہی نہیں مانتے : مودی

Published

on

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز کانگریس کے صدر راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اتحادکے رہنما ہی انھیں وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار قبول نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ سب کے سب وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
مسٹر مودی نے اے آئی ڈی ایم کےاور بی جے پی کی مشترکہ انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ہفتے کے روز یہاں کہا،’کچھ روز قبل ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن نے ’نام دار‘ کو وزیراعظم کے عہدے کے امیداوارہونے کی تجویز رکھی لیکن کوئی اسے ماننے کو تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ان کے’مہا ملاوٹی‘ دوست بھی اس پر رضامند نہیں ہوئے کیونکہ وہ سب وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس، ڈی ایم کے اور ان کے دیگر ’مہا ملاوٹی‘ دوست کبھی ملک کو ترقی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب باپ ملک کا وزیر خزانہ بنا تو بیٹے (کیرتی چدمبرم) نے ملک کو لوٹا‘۔ انہوں نے کہا،’جب وہ لوگ اقتدار میں تھے تو ہمیشہ لوٹنے میں مصروف تھے۔ اب تمام بدعنوان اکٹھا ہوکر مجھے ہرانے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔
وزیراعظم نےدعویٰ کیا کہ کانگریس اور بے ایمانی سب سے اچھے دوست ہیں لیکن ٖغلطی سے پارٹی نے سچ بول دیا ہے۔ انہوں نے کہا،’اب وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ’اب ہوگا نیائے‘ یعنی وہ اب یہ مان رہے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے ’نیائے‘ نہیں کیا۔
انہوں نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ پر غریبوں کے پیسے انتخابی تشہیر پر خرچ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت ان کے (کانگریس کے) لیے اے ٹی ایم مشین بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا،’وہ لوگ غریبوں اور بچوں کے فلاح و بہبود پر خرچ ہونے والے پیسے کو انتخابی تشہیر میں خرچ کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا،’یہ ’تغلق روڈ اسکینڈل‘ کے نام سے مشہور ہوگیا ہے اور یہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ نئی دہلی میں واقع تغلق روڈ پر کانگریس کا کون رہنما رہتا ہے‘۔

سیاست

ممبئی میں نقل و حرکت پر 2 کلومیٹر کے دائرے کی پابندی ہٹائی گئی

Published

on

مہانگر میں نقل مکانی کے لئے 2 کلومیٹر رداس کی پابندی ختم کردی گئی ہے۔ ممبئی شہر اور ممبئی مضافاتی شہر کے رضاعی وزراء اسلم شیخ اور آدتیہ ٹھاکرے کو ریاستی حکومت نے ممبئی کے لئے واضح طور پر واضح ہدایت نامہ طے کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
دونوں وزراء خود سے مشورہ کریں گے اور اگلے 2 دن میں ممبئی کے لئے واضح ہدایات مرتب کریں گے اور حکومت اس کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ یہ فیصلہ ہفتے کے روز وزیر اعلی کے ساتھ ممبئی میٹروپولیٹن بلدیہ اور ضلعی انتظامیہ کے رضاعی وزراء اور سینئر عہدیداروں کی ایک میٹنگ میں کیا گیا۔
اس ملاقات کے بعد، ممبئی شہر کے رضاعی وزیر اسلم شیخ نے بتایا کہ، ‘کورونا کی وبا کے دوران کئی بار رہنما اصول بنائے گئے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ کوئی الجھن نہ ہو، حکومت نے ممبئی میٹرو پولیٹن بلدیہ کے علاقے میں لاگو شرائط، ضوابط، پابندیوں اور مراعات سے متعلق واضح رہنما اصول جاری کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔
شیخ نے کہا، “نئی ہدایات میں ٹریفک، پبلک ٹرانسپورٹ، دکانوں کے کھلنے اور بند ہونے سے متعلق ہر چیز کا واضح طور پر تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آخری 2 کلومیٹر کے دائرے میں پولیس کے جاری کردہ آرڈر میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ممبئی پولیس کا 2 کلومیٹر کے دائرے میں خریداری کرنے کا فیصلہ حکومت میں تنازعہ کا باعث تھا۔ اس فیصلے کے تحت پولیس نے ہزاروں گاڑیاں ضبط کرلی ہیں اور متعدد افراد کو جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اسی لئے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی گئی۔ اب اپوزیشن نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ضبط شدہ گاڑیوں اور جرمانے کی بازیافت کا کیا بنے گا۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ملک میں کورونا ریکوری شرح 60.81 فیصد

Published

on

ملک میں کورونا وائرس کووڈ 19 سے متاثرہ مریضوں کی صحت یابی( ریکوری ) کی شرح 60.81 فیصد ہوگئی ہے۔
مرکزی وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود نے ہفتے کو یہ اطلاع دی کہ ملک میں کورونا متاثرین کی صحت یابی کی شرح بڑھ کر 60.81 فیصد ہوگئی ہے۔ ملک میں فی الحال کورونا وائرس کے 2،35،433 ایکٹو کیسز ہیں اور 3،94،226 کورونا سے متاثرہ مریض اب تک مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں جس سے صحت یابی کی شرح 60.81 فیصد ہو گئی ۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14.335 کورونا کے مریض صحت یاب ہوئے ہیں ۔ صحت یاب مریضوں اور ایکٹو معاملوں کا فاصلہ بڑھ کر اب 1،58،793 ہو گیا ہے۔
کورونا متاثرین کی شناخت کے لئے جانچ سہولت مہیاکرانےوالی لیباٹریوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی ہوئی 1,087 ہو گئی ہے۔ جس سے نمونوں کی جانچ کرنے میں بھی تیزی آئی ہے ۔ملک میں فی الحال اب تک 95،40،132 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایس آئی او نے لاک ڈاؤن کے دوران اسکول اور کالج کی  فیس میں رعایت کا مطالبہ کیا

Published

on

(نامہ نگار)
ایسی صورتحال میں جہاں ریاست کےعوام کی زندگی کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہے، اسکولوں اور کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس  میں کمی کی جائے، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او)  نے مطالبہ کیا ہے.
اس ضمن میں ریاستی حکومت اور  فی ریگولیٹنگ اتھارٹی (ایف آر اے)  کو لکھے گئے خط میں ایس آئی او نے تجویز پیش کی ہے کہ ریاست کے تمام اسکولوں کی فیسوں میں ۳۰ فیصد کمی کی جائے تاوقتیکہ  اسکولوں میں باقاعدہ کلاس لینا ممکن  ہو۔ تنظیم نے تمام اعلیٰ، تکنیکی، طبی اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی سالانہ فیس  ۱۵ فیصد کم کرنے کی  تجویز بھی پیش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایس آئی او نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس بات کو  یقینی بنائے  کہ اسکولی عملے کے تمام افراد کی ملازمت  برقرار رہے  اور انہیں بر وقت تنخواہیں ادا کی جاتی رہے۔
ایس آئی او جنوبی مہاراشٹر کے صدرمحمد سلمان احمد  نے کہا،”لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سارے والدین اپنے معمول کے اخراجات (جن  میں ان کے بچوں کی اسکول اور کالج کی فیس بھی شامل ہے)  کو پورا کرنے میں بہت مشکلات محسوس کررہے ہیں ۔معاشرے کی ہمہ جہت ترقی کے لئے تعلیم ایک لازمی ضرورت ہے۔لہذاموجودہ بحران کے علی الرغم اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ریاست کے تمام  طلباء کو بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم فراہم کی  جاتی رہے “۔
تنظیم کے مطالبے کو جواز فراہم کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی  نشاندہی کی کہ ریاست کے بیشتر طلباء  کے لئےاگلے چند مہینوں میں فزیکل  کلاسیز شروع نہیں ہوں گی۔  انہوں نے کہا، ” اس کے بجائے اسکول اور کالجز آن لائن یا  کسی اور ذریعے سے کلاس لیں گے ۔ یہ ان کے  لئے معمول کے  کئی اخراجات کی بچت کا سبب ہوگا۔ اس  بچت  کو طلباء کی فیس میں کچھ رعایت فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ”
ریاستی  محکمہ برائے اسکولی تعلیم  نے تعلیمی سال 2020-21  میں اسکولوں کو فیس میں اضافے سے روکنے اور فیس  کی قسطوں میں  ادائیگی  کی اجازت دینے بابت ایک حکومتی قرار داد (جی آر) جاری کیا ہے۔تاہم اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لئے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔ایس آئی او نے اپنے خط میں یہ بات بھی کہی  ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی فیس کو منضبط کرنے والےادارہ  اسٹیٹ فیس ریگولیٹنگ اتھارٹی (ایف آر اے) نے پہلے ہی ان کالجوں کے لئے فیس کا ڈھانچہ متعین کردیا  ہے، جس کی رو سے بیشتر انسٹی ٹیوٹ کو ۵ سے لے کر ۱۵ فیصد کے درمیان  فیس  میں اضافے  یا گذشتہ سال (2019-20) کی طرح فیس وصول کرنے کی اجازت ہے۔ تنظیم کا حکام سے مطالبہ ہے کہ ان اضافوں کو واپس لیا جائے   اور ان کی جگہ فیس میں کٹوتی کی جائے۔
ایس آئی او نے متوجہ  کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہ روکنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے، خاص طور پر عارضی بنیادوں پر مقرر کیے جانے والے اسٹاف کو فیس  میں رعایت کے بہانے سے ملازمت سے فارغ نہ کیا جائے۔
فیس میں رعایت کے علاوہ، ایس آئی او نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقلیتی، او بی سی، وی جے / این ٹی، ایس ای بی سی اور ای بی سی طلباء کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپ کی رقم میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ خط میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں وصول کی جانے والی فیس کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com