Connect with us
Friday,23-April-2021

(جنرل (عام

راہل کو وزیراعظم کا امیدواراتحادی ہی نہیں مانتے : مودی

Published

on

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز کانگریس کے صدر راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اتحادکے رہنما ہی انھیں وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار قبول نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ سب کے سب وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
مسٹر مودی نے اے آئی ڈی ایم کےاور بی جے پی کی مشترکہ انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ہفتے کے روز یہاں کہا،’کچھ روز قبل ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن نے ’نام دار‘ کو وزیراعظم کے عہدے کے امیداوارہونے کی تجویز رکھی لیکن کوئی اسے ماننے کو تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ان کے’مہا ملاوٹی‘ دوست بھی اس پر رضامند نہیں ہوئے کیونکہ وہ سب وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس، ڈی ایم کے اور ان کے دیگر ’مہا ملاوٹی‘ دوست کبھی ملک کو ترقی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب باپ ملک کا وزیر خزانہ بنا تو بیٹے (کیرتی چدمبرم) نے ملک کو لوٹا‘۔ انہوں نے کہا،’جب وہ لوگ اقتدار میں تھے تو ہمیشہ لوٹنے میں مصروف تھے۔ اب تمام بدعنوان اکٹھا ہوکر مجھے ہرانے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔
وزیراعظم نےدعویٰ کیا کہ کانگریس اور بے ایمانی سب سے اچھے دوست ہیں لیکن ٖغلطی سے پارٹی نے سچ بول دیا ہے۔ انہوں نے کہا،’اب وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ’اب ہوگا نیائے‘ یعنی وہ اب یہ مان رہے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے ’نیائے‘ نہیں کیا۔
انہوں نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ پر غریبوں کے پیسے انتخابی تشہیر پر خرچ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت ان کے (کانگریس کے) لیے اے ٹی ایم مشین بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا،’وہ لوگ غریبوں اور بچوں کے فلاح و بہبود پر خرچ ہونے والے پیسے کو انتخابی تشہیر میں خرچ کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا،’یہ ’تغلق روڈ اسکینڈل‘ کے نام سے مشہور ہوگیا ہے اور یہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ نئی دہلی میں واقع تغلق روڈ پر کانگریس کا کون رہنما رہتا ہے‘۔

(جنرل (عام

ریلائنس انڈسٹریز کورونا متاثرہ ریاستوں کو روزانہ 700 ٹن آکسیجن مفت سپلائی کر رہی ہے

Published

on

Mukesh-Ambani..

ارب پتی مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ اپنی جام نگر ریل ریفائنری میں روز مرہ کی بنیاد پر 700 ٹن سے زیادہ میڈیکل گریڈ آکسیجن کی پیداوار کر رہی ہے، یہ آکسیجن کووڈ-19 سے بری طرح متاثرہ ریاستوں کو مفت سپلائی کی جا رہی ہے، کورونا کی وجہ سے ملک میں آکسیجن کی زبردست کھپت کے پیش نظر ریلائنس نے مزید آکسیجن کی پیداوار کا فیصلہ لیا ہے۔ اس کیلئے ریلائنس کو اپنے پروڈکشن کے طریقوں میں بھی تبدیلی کرنی پڑی۔ کمپنی کی گجرات میں واقع جام نگر ریفائنری نے ابتداء میں 100 ٹن میڈیکل گریڈ آکسیجن کی پیداوار کی تھی، جسے جلد ہی 700 ٹن کر دیا گیا۔

کورونا انفیکشن سے نبرد آزما گجرات، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش جیس ریاستوں کو آکسیجن کی سپلائی سے روزانہ سنگین طور پر بیمار 70,000 سے زائد مریضوں کو راحت ملے گی۔ جلد ہی کمپنی میڈیکل گریڈ کی آکسیجن کی صلاحیت بڑھا کر 1,000 ٹن کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ریلائنس کی جام نگر ریفائنری میں خام تیل سے ڈیزل، پیٹرول اور جیٹ اندھن جیسی مصنوعات بنائی جاتی ہیں، یہاں میڈیکل گریڈ آکسیجن کی پیداوار نہیں کی جاتی۔ لیکن کورونا وائرس کے معاملوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے مد نظر ریلائنس نے ایسی مشینری نصب کی ہے، جس سے میڈیکل گریڈ آکسیجن کی پیداوار ممکن ہو پاسکی ہے۔ میڈیکل گریڈ آکسیجن بنانے کیلئے انڈسٹریل آکسیجن کی پیداوار کی سہولیات استعمال کی جا رہی ہیں۔

”ملک کی ریاستوں میں روزانہ تقریباً 700 ٹن آکسیجن کی سپلائی کی جا رہی ہے۔ اس سے روزانہ70,000 سے زیادہ سنگین طور سے بیمار مریضوں کو راحت ملے گی۔“ خاص ٹینکروں میں مائنس 183 ڈگری سیلسیس پر آکسیجن کی ڈھولائی ہو رہی ہے، مزید برآں ریاستی حکومتوں کو ٹرانسپورٹ لاگت کے بغیر آکسیجن مہیا کی جا رہی ہے۔ یہ کمپنی کی سی ایس آر پہل کا ایک حصہ ہے۔

کورونا سے جنگ میں ریلائنس کے کاموں کی فہرست کافی طویل ہے۔ ریلائنس فاونڈیشن نے بی ایم ایس کے اشتراک سے ممبئی میں ملک کا پہلا کووڈ اسپتال قائم کیا تھا۔ 100 بستروں والا اسپتال صرف دو ہفتہ میں قائم کیا گیا تھا، جسے جلد ہی 250 بستروں تک بڑھایا گیا۔ ریلائنس نے لودھی ولی، مہاراشٹر میں پوری طرح سے آراستہ ایک آئسولیشن سہولت کی تعمیر اور اسے ضلع حکام کو سونپ دیا۔

لاک ڈاون کے دوران ریلائنس فاونڈیشن نے مشن انّ سیوا شروع کی، جو دنیا میں کہیں بھی ایک کارپوریٹ کے ذریعہ شروع کی گئی سب سے بڑی خوراک تقسیم اسکیم تھی۔ مشن انّ سیوا میں 18 ریاستوں کے 80 اضلاع میں 5.5 کروڑ سے زیادہ میل دستیاب کرائے گئے۔

ریلائنس بھارت کے صحت اور فرنٹ لائن مزدوروں کیلئے روزانہ 1,00,000 پی پی ای اور فیس ماسک کا پروڈکشن کرتا ہے۔ گزشتہ سال ملک گیر لاک ڈاون کے دورانہ ایمرجنسی سروسیز کو بلارکاوٹ چالو رکھنے کیلئے ریلائنس نے 18 ریاستوں کے 249 اضلاع میں 14,000 سے زیادہ ایمولینس میں 5.5 لاکھ لیٹر مفت ایندھن فراہم کیا تھا۔

Continue Reading

(جنرل (عام

کورونا بحران کا شاخسانہ : کشمیری طلباء و دیگر لوگ واپس گھر لوٹ رہے ہیں

Published

on

Kashmiri-Students

کورونا کیسز میں روز افزوں ہو رہے بے تحاشا اضافے کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء نے وادی واپس آنا شروع کیا ہے۔

تاہم جموں وکشمیر انتظامیہ کی طرف سے کورونا کی روک تھام کے لئے مختلف النوع پابندیاں عائد کرنے کے باوجود بھی غیر مقامی مزدور و دوسرے پیشہ ور لوگ وادی میں ہی ٹھہرے ہوئے ہیں۔

دریں اثنا جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن نے بیرون وادی کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کی مدد کے لئے ایک ہیلپ لائن قائم کی ہے۔

طرفہ بشیر نامی ایک طالبہ جو اتر پردیش کے ایک کالج میں انجینئرنگ کی پڑھائی کر رہی ہیں، نے یو این آئی کو بتایا کہ ہمارے کالج اور ملحقہ علاقوں میں کورونا کے کئی کیسز آنے کے بعد کالج کے سبھی طلباء اپنے اپنے گھر واپس چلے گئے۔

انہوں نے کہا: ’میں اپنے کالج کے بیس دیگر طلباء کے ساتھ اتوار کو کشمیر پہنچی اور جس جہاز میں ہم دلی سے کشمیر آئے وہ ان طلباء سے بھرا ہوا تھا، جو ملک کے مختلف حصوں کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔‘

اطہر شاہ نامی ایک طالب علم نے کہا کہ وہ پندرہ دیگر طلباء کے ساتھ پونے سے گھر واپس لوٹا۔
انہوں نے کہا: ’ہمیں سال گذشتہ کے لاک ڈاؤن کا تلخ تجربہ یاد تھا جب ٹرانسپورٹ کے تمام وسائل کو راتوں رات بند کر دیا گیا تھا ہم نے اس سال لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے سے پہلے ہی اپنے گھر واپس آنے کا فیصلہ لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دلی اور ممبئی کے ہوائی اڈے طلباء اور دوسرے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں، جو واپس کشمیر آ رہے ہیں۔ موصوف نے کہا کہ بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک میں زیر تعلیم طلبا بھی واپس گھر آ رہے ہیں۔

جموں وکشمیر اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہم نے بیرون وادی زیر تعلیم طلباء کو در پیش مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک ہیلپ لائن قائم کی ہے، اور ہم نے محتاجوں کی مدد کے لئے رضاکاروں کی ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

یوپی کے پانچ شہروں میں تالا بندی کے فیصلے پر سپریم کورٹ کی پابندی

Published

on

SUP

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کی عالمی وباء کے تیزی سے پھیلنے کے سبب اترپردیش کے پانچ شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر منگل کے روز روک لگا دی۔

ہائی کورٹ نے حکومت اتر پردیش کو کورونا وائرس کی سنگین صورتحال کے پیش نظر پریاگراج، لکھنؤ، کانپور، بنارس اور گورکھپور میں 26 اپریل تک مکمل تالا بندی نافذ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رما سبرمنیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سالیسٹر جنرل تشارمہتا کے دلائل سننے کے بعد ہائي کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد روک دی، اور دو ہفتوں کے بعد معاملے کی سماعت کا فیصلہ کیا۔

حکومت اترپردیش کی جانب سے پیش ہونے والے مسٹر تشار مہتا نے دلیل دی کہ عدالتی حکم کے ذریعے پانچ شہروں میں مکمل تالا بندی انتظامی مشکلات کا سبب بنے گی۔

دریں اثناء، عدالت عظمی نے ریاستی حکومت کو اگلی سماعت تک کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔

مسٹر تشار مہتا نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے آج صبح اس معاملے کا خصوصی ذکر کرکے اس کی جلد سماعت کرنے کی درخواست کی تھی، جسے بنچ نے قبول کرلیا اور پہلے سے درج تمام مقدموں کی سماعت کے بعد ریاستی حکومت کی اپیل پر غور کیا۔ بنچ نے سینئر ایڈووکیٹ پی ایس نرسمہا کو اس معاملے میں رفیق عدالت مقرر کیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com