Connect with us
Tuesday,19-January-2021

(جنرل (عام

راہل کو وزیراعظم کا امیدواراتحادی ہی نہیں مانتے : مودی

Published

on

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز کانگریس کے صدر راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اتحادکے رہنما ہی انھیں وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار قبول نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ سب کے سب وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
مسٹر مودی نے اے آئی ڈی ایم کےاور بی جے پی کی مشترکہ انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ہفتے کے روز یہاں کہا،’کچھ روز قبل ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن نے ’نام دار‘ کو وزیراعظم کے عہدے کے امیداوارہونے کی تجویز رکھی لیکن کوئی اسے ماننے کو تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ان کے’مہا ملاوٹی‘ دوست بھی اس پر رضامند نہیں ہوئے کیونکہ وہ سب وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس، ڈی ایم کے اور ان کے دیگر ’مہا ملاوٹی‘ دوست کبھی ملک کو ترقی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب باپ ملک کا وزیر خزانہ بنا تو بیٹے (کیرتی چدمبرم) نے ملک کو لوٹا‘۔ انہوں نے کہا،’جب وہ لوگ اقتدار میں تھے تو ہمیشہ لوٹنے میں مصروف تھے۔ اب تمام بدعنوان اکٹھا ہوکر مجھے ہرانے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔
وزیراعظم نےدعویٰ کیا کہ کانگریس اور بے ایمانی سب سے اچھے دوست ہیں لیکن ٖغلطی سے پارٹی نے سچ بول دیا ہے۔ انہوں نے کہا،’اب وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ’اب ہوگا نیائے‘ یعنی وہ اب یہ مان رہے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے ’نیائے‘ نہیں کیا۔
انہوں نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ پر غریبوں کے پیسے انتخابی تشہیر پر خرچ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت ان کے (کانگریس کے) لیے اے ٹی ایم مشین بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا،’وہ لوگ غریبوں اور بچوں کے فلاح و بہبود پر خرچ ہونے والے پیسے کو انتخابی تشہیر میں خرچ کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا،’یہ ’تغلق روڈ اسکینڈل‘ کے نام سے مشہور ہوگیا ہے اور یہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ نئی دہلی میں واقع تغلق روڈ پر کانگریس کا کون رہنما رہتا ہے‘۔

(جنرل (عام

قومی تعلیمی پالیسی نئے ہندوستان کی ضروریات کے مطابق ہے : وزیر تعلیم

Published

on

Ramesh-Pokhriyal

مرکزی وزیر تعلیم ڈاکٹر رمیش پوکھریال ‘نشانک’ نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت تمام چیلنجوں کے حل کے لئے ایک انتہائی منظم اور ٹھوس کوشش کی گئی ہے تاکہ تعلیمی شعبے کی مجموعی تنظیم نو کو نئے ہندوستان کی ضروریات کے مطابق بنایا جاسکے۔

ڈاکٹر نشانک نے لندن میں واقع نہرو سینٹر کے زیر اہتمام منعقدہ ویبنار میں آج نئی قومی تعلیمی پالیسی کی پہنچ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کورونا کی عالمی وباء کے دوران ہندوستان نے چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرتے ہوئے اس پالیسی کو لایا ہے۔ یہ پالیسی وزیر اعظم سے لے کر گرام پردھان تک کی تجاویز کے بعد لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 34 سال بعد آئی ہے۔ اس میں تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک نہایت منظم اور ٹھوس کوشش کی گئی ہے، تاکہ اعلی تعلیم کے میدان میں مجموعی تنظیم نو کو نئے ہندوستان کی ضروریات کے مطابق بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قومی تعلیمی پالیسی طلبہ کو 21ویں صدی کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل بنائے گی۔ اس کی مدد سے وہ اپنی تعلیم کو مزید تجرباتی، جامع و مربوط، تلاش اور مباحثہ پر مبنی، لچکدار اور لذت بخش بنا سکیں گے۔ نصاب میں سائنس اور ریاضی کے علاوہ بنیادی فنون، دستکاری، کھیل، زبان، ادب، ثقافت اور اقدار شامل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے اعلی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو نیا ہندوستان بنانے کے سلسلے میں اپنے کردار کی تعریف طے کرنے کی آزادی ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ “نئی قومی تعلیمی پالیسی تعلیم کے تمام شعبوں میں اصلاحات کی وضاحت کرتی ہے۔ اس پالیسی کا ایک بنیادی مقصد تکنیکی تعلیم کو اسکول کی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم تک میں شامل کرنا ہے۔

اس ویبنار میں ہندوستانی ثقافتی رابطہ کونسل کے صدر ڈاکٹر ونئے سہستربودھے، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جو جانسن، وزیر مملکت برائے تعلیم سنجے دھوترے، اور لندن کے نہرو سینٹر کے ڈائریکٹر اور نامور مصنف امیش ترپاٹھی بھی موجود تھے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

کار اور نجی بس کی ٹکر میں ایک ہی فیملی کے چار افراد ہلاک

Published

on

accident

ہریانہ میں مہندر گڑھ ضلع کے کنینا میں کل ایک کار اور ایک نجی بس کی ٹکر میں کار میں سوار ایک ہی فیملی کے چار اراکین ہلاک ہوگئے۔

پولس نے بتایا کہ فرید آباد سے تین بھائی اور ایک بہن مہندر گڑھ گئے ہوئے تھے۔ لوٹتے وقت مہندر گڑھ ۔ کنینا روڈ پر کار کی ایک نجی بس سے ٹکر ہوگئی، جس میں چاروں کی موت ہوگئی۔ ان کی شناخت سریش چھابڑا، یوگیش، جتیندر اور سنتوش کے طور پر ہوئی ہے۔ پولس نے معاملہ درج کر لیا ہے، اور جانچ جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

میڈیا ٹرائل بمبئے ہائی کورٹ کا فیصلہ : ریپبلک ٹی وی اورٹائمزناؤ کی کوریج بادی النظرمیں توہین آمیز؛ تاہم کسی بھی کاروائی سے اجتناب

Published

on

SUSHANT

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق معاملے میں ممبئی پولیس کی شبیہ کو خراب کرنے والے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج آج بامبے ہائی کورٹ نے بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا، تاہم اس ضمن میں کسی بھی کاروائی سے اجتناب کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ مستقبل میں کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹنگ کے لئے رہنما اصول جاری کیے جائیں گے۔

بامبے ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار، سوشانت سنگھ راجپوت کیس کی موت سے متعلق رپورٹس کے تناظر میں میڈیا ٹرائل کے خلاف دائر عوامی مفادات کی درخواستوں کی سماعت کے بعد 6 نومبر 2020 کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ آج اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس جی ایس کلکرنی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ میڈیا کو مجرمانہ تفتیش سے متعلق مباحثوں سے گریز کرنا چاہئے اور عوامی مفاد میں ایسے معاملات میں صرف معلوماتی رپورٹس تک ہی محدود رہنا چاہئے۔
عدالت نے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج کو بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا ہے تاہم، بینچ نے نیوز چینلز کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ اور صرف مستقبل میں رپورٹنگ کے لئے رہنما اصول جاری کرنے کی بات کی ہے۔

گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس معاملے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے “میڈیا ٹرائل” کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس نے میڈیا سے کہا کہ وہ اپنی حدود کو عبور نہ کریں، اور اشارہ کیا کہ وہ رہنما اصول اور ہدایت نامہ مرتب کرے گا۔

واضح ریے کہ بنچ نے ریپبلک ٹی وی کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں سے کہا تھا کہ “اگر آپ ہی تفتیشی آفیسر، استغاثہ اور جج بن جاتے ہیں تو ہمارا کیا فائدہ؟ ہم یہاں کیوں ہیں؟” اور “عوام سے یہ پوچھنا کہ کس کو گرفتار کیا جائے، کیا یہ تحقیقاتی صحافت کیا ہے؟”

بامبے ہائی کورٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت میں میڈیا ٹرائل کیس میں ریپبلک ٹی وی کے وکیل ایڈووکیٹ مالویکا تریویدی سے پوچھا تھا کہ “کیا یہ تحقیقاتی صحافت کا حصہ ہے؟ عوام سے ان کے بارے میں رائے پوچھنا کہ کون گرفتار کیا جائے؟ جب کسی معاملے کی تفتیش جاری ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ آیا وہ قتل ہے یا خودکشی؟ جس پر ایک چینل کہہ رہا ہے کہ یہ قتل ہے، کیا یہ تحقیقاتی صحافت ہے؟ بنچ نے چینل کے وکیل کو بتایا کہ “پولیس کو سی آر پی سی کے تحت تفتیشی اختیارات دیئے گئے ہیں۔”

میڈیا ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران بمبئے ہائی کورٹ نے کہا کہ میڈیا میں اب انتہائی درجہ کی صف بندی ہوگی ہے، ماضی میں صحافی حضرات ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوا کرتے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com