Connect with us
Monday,06-July-2020

قومی خبریں

راہل، مودی كوونداور کی جانب سے جلیانوالہ باغ کے شہیدوں کو خراج عقیدت

Published

on

صدر رام ناتھ كووند، وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت مختلف پارٹی کے لیڈروں نے جلیانوالہ باغ کے قتل عام کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر ہفتہ کو اس سانحہ کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کی۔
مسٹر كووند نے ٹوئٹر پر لکھا-’’100 سال پہلے آج ہی کے دن، ہمارے پیارے مجاہدین آزادی جلیانوالہ باغ میں شہید ہوئے تھے۔ وہ خوفناک قتل عام تہذیب پر کلنک ہے۔ قربانی کا وہ دن ہندوستان کبھی فراموش نہیں کرسکتا. ان کی مقدس یاد میں جلیانوالہ باغ کے شہیدوں کو خراج عقیدت‘‘۔
مسٹر مودی نے بھی ٹویٹ کیا’’آج، خوفناک جلیانوالہ باغ قتل عام کے 100 سال پورے ہو گئے. ملک اس دن شہید ہونے والے تمام لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے. ان کی بہادری اور قربانی کو کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا. ان کی یاد ہمیں ایسے ہندوستان کی تعمیر کے لئے زیادہ محنت کرنے کی ترغیب دیتی ہے جس پر انہیں فخر ہو‘‘۔
اس موقع پر، مسٹر گاندھی نے پنجاب میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں واقع یادگار پر شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کی۔ اس دوران مسٹر گاندھی کے ساتھ پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو بھی موجود تھے۔
قابل ذکر ہے کہ سو سال پہلے آج ہی کےدن یعنی 13 اپریل 1919 کوامرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ایک پرامن طریقے سے اجتماع کر رہے ہزاروں ہندوستانیوں پر برطانوی افسر بریگیڈیئر جنرل ریجنالڈ ڈائر اور لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈائر نے گوليا ں چلوائی تھیں. اس واقعہ میں ہزاروں لوگ شہید ہوگئے تھے۔

جرم

دہلی میں کوروناکے معاملے ایک لاکھ سے زیادہ

Published

on

راجدھانی میں 1379نئے معاملات سامنے آنے پیر کو کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی۔
دہلی حکومت کی وزارت صحت کی طرف سے آج جاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1379نئے معاملات سے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 823ہوگئی۔
مہاراشٹر اور تملناڈو کے بعد دہلی تیسری ریاست ہے جہاں متاثرین کی تعداد لایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
اس دوران 48مزید مریضوں کی موت سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 3115ہوگئی ہے۔
اس دوران پابندی والے علاقوں کی تعداد ایک کم ہوکر 455رہ گئی۔فعال معاملات کی تعداد 25260ہے۔

Continue Reading

قومی خبریں

بھیما کوریگاؤں: سپریم کورٹ نے گوتم نولکھا کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کا حکم ردکیا

Published

on

supream

سپریم کورٹ نے پیر کے روز مہاراشٹر کے بھیما کوریگاؤں معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو رد کردیا، جس میں اس نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو ملزم گوتم نولکھا کو دہلی سے ممبئی منتقل کرنے سے متعلق پیشی وارنٹ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔
عدالت عظمی نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کو اپنے دائرہ اختیار سےتجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا۔
جسٹس ارون مشرا، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس اندرا بنرجی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے 27 مئی کے حکم کو چیلنج کرنے والی این آئی اے کی اپیل منظور کرتے ہوئے تحقیقاتی ایجنسی کے خلاف کیے جانے والے غیر ضروری تبصرے کو بھی ہٹانے کی ہدایت دی۔
تفتیشی ایجنسی نے دہلی اور ممبئی میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں جاری کارروائیوں کا وہ ریکارڈ طلب کرنے کے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس کی بنیاد پر گوتم نولکھا کو دہلی سے ممبئی منتقل کیا گیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی نے یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا تھا کہ اس کیس کی سماعت دہلی ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ این آئی اے نے گوتم نولکھا کو ممبئی لے جانے کے لئے غیر ضروری جلد بازی کی تھی جبکہ ان کی عبوری ضمانت کی درخواست زیر التواء تھی۔

Continue Reading

سیاست

ہندوستان اور چین ایل اے سی سے فوجی دستے پیچھے ہٹانے پر متفق

Published

on

لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر ہندوستانی اور چینی افواج کے مابین گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصہ سے جاری تعطل اور محدود جھڑپوں کے بعد اتوار کے روز پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان ٹیلیفون پر خصوصی نمائندوں کی سطح کی بات چیت ہوئی، جس میں چین نے بھارت کے سخت موقف کے سامنے اعتراف کیا کہ ایل اے سی پر آمنے سامنے کھڑے فوجی دستوں کو مکمل طور پر پیچھے ہٹانا اور سرحدی علاقوں میں امن کی بحالی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
سرحدی معاملے پر ہندوستان اور چین کے خصوصی نمائندوں؛ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کے روز ہند- چین سرحد کے مغربی سیکٹر میں حالیہ واقعات کے بارے میں کھلے طورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں مسٹر ڈوبھال نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ چینی فوج کو ہر حال میں ایل اے سی کا احترام کرنا ہوگا۔
وزارت خارجہ کی طرف سے آج جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ انہیں سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لئے دونوں ممالک کے لیڈروں وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ کے درمیان قائم اتفاق رائے کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے سرحد پر قیام امن ضروری ہے۔ یہ بات بھی واضح کی گئی کہ انہیں اختلاف رائے کو تنازعہ نہیں بننے دینا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ سرحد پر مکمل امن کے لیے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) سے متصل علاقوں سے فوج کو پیچھے ہٹانا اور سرحد پر کشیدگی کو کم کرنا ضروری ہے۔ دونوں فریقوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سرحد پر تناؤ کو کم کرنے کے لئے مرحلہ وار طریقے سے قدم اٹھائے جائيں”۔
بیان کے مطابق انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں فریقین کو لائن آف ایکچول کنٹرول کا سختی سے احترام کرنا چاہئے اور جوں کی توں حالت کو تبدیل کرنے کے لئے یکطرفہ اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں۔ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہئے جس سے سرحد پر بد امنی پیدا ہو۔
دونوں خصوصی نمائندوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں طرف کے سفارتی اور فوجی حکام کو مقررہ چینلوں کے ذریعے بات چیت جاری رکھنی چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں خصوصی نمائندے دو طرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کے مطابق سرحد پرمکمل امن بحالی کے لئے بات چیت جاری رکھیں گے۔
دریں اثناء، ذرائع کے مطابق 29 جون کو دونوں افواج کے کورکمانڈروں کے درمیان ہونے والی بات چیت اور شرطوں کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی دستوں نے آج وادی گلوان سے پیچھے ہٹنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com