Connect with us
Sunday,05-July-2020

تفریح

شمشاد بیگم،مدھر اور دلکش آواز کی ملکہ

Published

on

چالیس کی دہائی میں بنی فلم پتنگا کا یہ نغمہ ’’میرے پیا گئے رنگون، وہاں سے کیا ہے ٹیلی فون‘‘ کو اپنی سریلی آواز سے آراستہ کرنے والی گلوکارہ شمشاد بیگم کی جادوئی آواز ان پر مکمل طور سے پوری اترتی ہے، انھوں نے جو بھی گانا گایا اس کی روح میں اتر گئیں۔
خوشی کا گیت گاتے ہوئے وہ ایک الہڑ دوشیزہ بن جاتی ہیں، غم کے گیت دل پر یوں اثر کرتے ہیں کہ جیسے سننے والا بھی اسی کیفیت سے دوچار ہو، قدرت نے انھیں ایسی مدھر اور دلکش آواز دی تھی جو کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔

دلکش آواز کی ملکہ کہی جانے والی شمشاد بیگم کی پیدائش 14 اپریل 1919 میں پنجاب کی امرتسر میں ہوئی تھی ۔
اس دور میں بھونپو اور گراموفون سے اگر کوئی آواز نکلتی تو وہ اسے گانے لگتی تھیں۔
انھوں نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت نہیں لی لیکن سروں کی ملکہ بن گئیں۔
موسیقار ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی میں محض 13 برس کی عمر میں شمشاد بیگم نے ایک پنجابی نغمہ ’’ہتھ جوڑیا پنکھیا دے‘‘ گایا جو کافی مقبول ہوا۔
اس کے بعد ریکارڈ کمپنی نے ان سے کئی نغمات گوائے۔

اس دور میں شمشاد بیگم کو فی نغمہ ساڑھے 12 روپے ملا کرتے تھے۔
اسی دوران پنجابی فلموں کے مشہور فلمساز دلسکھ پنچولی نے شمشاد بیگم کی صلاحیت کو پہچانا اور انہیں اپنی فلم ’یملا جٹ میں گانے کا موقع دیا۔
اس فلم میں انہوں نے آٹھ نغمے گائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی فلم سے صدی کے ویلن پران نے اپنی اداکاری کا سفر شروع کیا تھا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تفریح

ہیلی کاپٹر کے تنازعہ میں پھنس گئے اکشے کمار، مہاراشٹرا حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا

Published

on

بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی نجی ہیلی کاپٹر میں آمد کے بعد ضلع ناسک میں تنازعہ پھیل گیا۔ مہاراشٹرا حکومت کے وزیر چھگن بھجبل (مہاراشٹرا حکومت کے وزیر چھگن بھجبل) نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے کے بارے میں اب پتہ چل جائے گا، کس کی اجازت پر اکشے کمار کو وی آئی پی سہولت فراہم کی گئی تھی۔

چھگن بھجبل نے اس معاملے پر کہا کہ انہیں اندازہ نہیں ہے کہ ہوٹل کیسے شروع ہوا اور ہیلی کاپٹر کو کیسے جانے دیا گیا، لیکن وہ کچھ غلط ہوا تو وہ پوچھگے۔
اکشے کمار نے ناسک کے تری بکیشور گاؤں اجنیری کا دورہ کیا۔ اس دوران ان کا ہیلی کاپٹر یہاں آیا۔ اس بارے میں تنازعات شروع ہوگئے ہیں۔

چھگن بھجبل نے کہا، ‘اکشے کمار کو فراہم کردہ سیکیورٹی کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔’

Continue Reading

تفریح

مادھوری نہیں ہوتیں تو سروج خان بھی نہیں ہوتیں

Published

on

بالی ووڈ کی دھک دھک گرل مادھوری دکشت کی پسندیدہ کوریوگرافر سروج خان کا کہنا تھا کہ اگر مادھوری نہیں ہوتیں وہ بھی نہیں ہوتیں۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ مادھوری دکشت کا کیریئر بنانے میں کچھ ہاتھ سروج خان کا بھی ہے۔
بالی ووڈ کی ڈانسنگ کوین مادھوری دکشت کے تقریباً ہر گانے کو سروج خان ہی کوریوگراف کیا کرتی تھیں،تیزاب کے سپر ہٹ ڈانس نمبر’ایک دو تین‘ سے سروج-مادھوری کی جوڑی مشہور ہوئی۔
اس کے بعد فلم سیلاب میں’ہم کو آج کل انتظار‘تھانیدار میں ’تمّا تمّالوگے‘فلم بیٹا میں’دھک دھک کرنے لگا‘دیوداس میں ’مار ڈالا‘ اور ’ڈولا رے ڈولا‘یارانہ میں’ میراپیا گھر آیا‘کھلنایک میں ’چولی کے پیچھے کیا ہے ‘جیسے گانوں میں سروج مادھوری کی جوڑی سپر ہٹ رہی۔
سروج خان کے کیریئر کی بطور ڈانس ڈائریکٹر آخری فلم کلنک تھی جس میں انہوں نے مادوری دکشت کو ’تباہ ہوگئے‘گانے میں کوریوگراف کیا تھا۔
ماسٹر جی کے نام سے مشہور سروج خان کے دل میں مادھوری دکشت کے لئے بے حد پیار تھا اور آخری وقت تک رہا۔
ایک اوارڈ شو میں سروج خان نے کہا تھا کہ اگر مادھوری نہ ہوتیں تو سروج خان بھی نہ ہوتی۔
سروج خان کے انتقال کے بعد اب اس اوارڈ فکشن کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔
اس ویڈیو میں سروج خان کافی جذباتی ہوکر بات کررہی ہیں۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب سروج کو انڈسٹری کے ان کے سالوں کے کام کے لیے اوارڈ دیا گیا تھا اور مادھوری نے ان کے لئے ایک خوب صورت پرفارمنس دی تھی۔
سروج خان اپنے چار دہائیوں کے طویل سینما کیریئر میں دو ہزار سے زائد گانوں کے لیے کوریو گرافی کی۔
انہوں نے مادھوری دکشت اور شری دیوی کے علاوہ جوہی چاولہ،ایشوریہ رائے بچن ،تاپسی پنو،سارا علی خان،اننیہ پانڈے اور عالیہ بھٹ کو ڈانس سکھایا۔

Continue Reading

تفریح

سروج خان نے دیا تھا شاہ رخ کو “سگنیچر اسٹیپ”

Published

on

بالی وڈ ستاروں کو اپنے اشاروں پر نچانے والی معروف کوریوگرافر سروج خان نے شاہ رخ خان کو باہیں پھیلانے والا اسٹیپ دیا تھا جو بعد میں ان کا سگنیچر اسٹیپ بن گیا۔
سوشل میڈیا پر سروج خان کا ایک پرانا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو میں سروج خان بتا رہی ہیں کہ کیسے انہیں شاہ رخ کے باہیں پھیلانے والے اسٹیپ کا آئیڈیا آیا تھا۔ ویڈیو میں وہ بتاتی ہیں کہ فلم “بازیگر” کی شوٹنگ کے دوران انہوں نے شاہ رخ خان کو یہ اسٹیپ دیا تھا۔
سروج خان ویڈیو میں بتا رہی ہیں،” ہم ماریشس میں “بازیگر او بازیگر” نغمے کی شوٹنگ کر رہے تھے۔اس گانے میں شاہ رخ چل کر آتا ہے اور اپنی ٹی شرٹ کھول کر نام دکھاتا ہے۔ اس وقت میں نے کہا کہ تم آنا اور ایسے باہیں پھیلانا۔ اس نے اسے کیا اور لوگوں کو پسند آیا”۔
غور طلب ہے کہ شاہ رخ خان کا باہیں پھیلانے والا اسٹیپ وقت کے ساتھ اس قدر مشہور ہوا کہ ان کی پہچان کا حصہ بن گیا۔ اسے ان کا سگنیچر اسٹیپ کہا جانے لگا اور شاہ رخ کی کسی بھی پرفارمنس کو اس کے بغیر ادھورا مانا جاتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com