Connect with us
Tuesday,04-August-2020

مہاراشٹر

شیو سینا نے نجی بیمہ کمپنیوں کے خلاف مظاہرہ کیا

Published

on

ممبئی:مہاراشٹر میں ستا دھاری گٹھ بندھن کی حمایتی شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے یہاں بدھ کو کسانوں کی فصل بیمہ کے مسئلے کو لے کرنجی بیمہ کمپنیوں کے خلاف مظاہرے کی رہنمائی کی۔مظاہرہ ایشین ہارٹ انسٹی ٹیوٹ سے شروع ہوا ۔ مظاہرہ باندرہ ،کرلا کمپلیکس واقع ایک نجی بیمہ کمپنی کے دفتر پہونچا۔مظاہرے میں یوا سینا کے صدر آدتیہ ناتھ ٹھاکرے پردیش سرکار میں شامل پارٹی کے وزیر ،ایم ایل اے اور پارٹی کے کارکن اور کسان شامل تھے۔انہوں نے پوسٹر، بینر اور پارٹی کے جھنڈے کے ساتھ نعرہ لگاکر نجی بیمہ کمپنیوں کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین والوں نے فصلوں کی بیمہ کےسلسلے میں نا انصافی کرنے کا الزام لگاتے ہو ئے اس کی مذمت کی۔انہوں نے منصوبے میں دھوکہ دھڑی کرنے کا الزام بھی لگایا۔کسان زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتا ہے اس لیے بیمہ کمپنی کے ملازمین کسانوں کو صرف الجھانے کا کام کرتےہیں ، جن کسان ان سے رابطہ کرتا ہے تو حکومت پر الزام تراشی کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اپنا پلڑا جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اصل میںکسان کشمکش میں مبتلا رہتا ہے دن بھر کی محنت کرنے کے بعد انہیں بیمہ کمپنی کے ملازمین صحیح جواب دے کر مطمئن نہیں کرپاتے ہیں ۔ حالانکہ اپوزیشن کے لیڈر وجےوادیتیوار اور سوابھیمانی شیتکری سنگٹھن کے صدر راجو شیٹی و دوسرے لیڈروں نے مظاہرے کو چناؤ سے پہلےکا ہتھکنڈہ بتاتے ہوئے اس کی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف دکھاوا ہے ۔ پردیش اور مرکزی حکومت کا حصہ رہتے ہوئے شیو سینا بیمہ کمپنیوں پر نکیل کس سکتی ہے۔انتخابات سے قبل کوئی نہ کوئی سیاسی پارٹی کسانوں کے مسائل پر بات چیت کرکے سرخیوں میں آنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ لیکن اقتدار کے بعد ساڑے چار سال تک کسان کو پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں ۔ حکومت کسی کی بھی ہو اگر کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو کسانوں کی خود کشی کے واقعات میں حد درجہ کمی واقع ہوسکتی ہے۔ غیر تعلیم یافتہ کسان کہاں تک حکومت سےلڑ سکتے ہیں اس لیے حکومتیں ان کے مسائل کو نظر انداز کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ جیسے ہی الیکشن قریب آتے ہیں اپنی ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی غرض سے سب سے پہلے کسان ہی یا آتے ہیں۔

جرم

ناسک میں کورونا معاملات 16 ہزار سے متجاوز

Published

on

ناسک میں پیر کے روز کورونا کے 1،018 نئے معاملات درج ہوئے ہیں جس سے ضلع میں کووڈ متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 16،603 ہوگئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ، 6،724 نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں سے 5،706 نمونے منفی اور 1،018 مثبت آئے ہیں۔
ضلع انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق ناسک میں 876 نئے کیس ناسک شہر سے آئے ہیں جبکہ 120 معاملات ناسک دیہی علاقوں سے اور 22 مالیگاؤں سے درج ہوئے ہیں۔
ناسک میں 11 افراد کورونا سے فوت ہوئے ہیں جس میں ناسک شہر اور ناسک دیہی علاقوں کے پانچ ۔پانچ، اور مالیگاؤں سے ایک کی موت ہوئی ہے۔ یہاں 16،603 متاثرہ مریضوں میں سے 522 کی موت ہوچکی ہے جبکہ 11،781 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔

Continue Reading

سیاست

سوشانت کیس کی تحقیقات کرنے گیا افسر کوارینٹائین میں، نیروپم نے کہا- ایسا لگتا ہے کہ ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے

Published

on

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت پر مہاراشٹر میں سیاست شروع ہوگئی ہے۔ بی ایم سی کے ذریعہ پٹنہ کے ایس پی ونئے تیواری کی کوارینٹائین کیے جانے کے بعد، اب کانگریس، جو اقتدار کی شیئر ہولڈر ہے، نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے رہنما سنجے نیروپم نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔
ممبئی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے سنجے نیروپم نے ایک ٹویٹ میں کیا، ‘لگتا ہے، بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔ سوشانت سنگھ کیس کی تحقیقات کرنے آئے آئی پی ایس آفیسر تیواری کو 15 اگست تک کورینٹائین کیا گیا۔ انکوائری کیسے ہوگی؟ وزیر اعلی کو فوری مداخلت کرنی چاہئے۔ تیواری کو رہا کریں اور تحقیقات میں مدد کریں ورنہ ممبئی پولیس کا شکوہ بڑھتا جائے گا۔


جب اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی بہار پولیس کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، ریاست میں سیاسی پارا بھی بڑھتا جارہا ہے۔ بہار اسمبلی میں سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ سوشانت کے کزن اور بی جے پی کے ممبر اسمبلی نیرج سنگھ ببلو نے معاملہ اٹھایا اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ادھر اپوزیشن لیڈر تیجشوی یادو نے بھی سوشانت کیس کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بہار حکومت کے وزیر جئے سنگھ نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کا رویہ وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔

Continue Reading

جرم

مالیگاؤں میں جنونی بھیڑ نے پھر کیا مسلم نوجوانوں پر جان لیوا حملہ، پولس نے کیا مآب لنچنگ سے انکار، 3 افراد پولس کی گرفت میں مزید گرفتاریاں باقی

Published

on

کرائم اسٹوری : وفا ناہید
اس وقت پورے ملک حالات خراب چل رہے ہیں. 4 ماہ تک کورونا نے سب اس قدر خود میں مصروف رکھا کہ کورونا اور اس سے ہونے والی اموات , لاک ڈاؤن, تالی بجانا , دیا جلانا اور کورونا کو مسلمانوں جوڑ کر تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا ہی اس کا مصرف تھا. اب جب کہ کورونا 5 ماہ مکمل کرکے چھٹے ماہ قدم رکھ چکا ہے وہیں عوام کے دلوں سے کورونا کا خوف تھوڑا کم ہوا اور غیرقانونی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا. کوارٹنائن سینٹر میں کووڈ پیشنٹ کی آبروریزی سے لے کر قتل و خودکشی اور انکاؤنٹر کے بعد شرپسندوں کا پسندیدہ مشغلہ مآب لنچنگ تک پہنچ گیا. یوں تو لاک ڈاؤن میں چھوٹے موٹے کرائم کا سلسلہ جاری تھا مگر ادھر گذشتہ کچھ دنوں سے مالیگاؤں کے مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے. ابھی پچھلے دنوں جلگاؤں ضلع کے پارولہ شہر میں کچھ نوجوانوں کی مآب لنچنگ کا ویڈیو شوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا. جس کے بعد شہر میں تناؤ کا ماحول پیدا ہوگیا تھا. وہ تو مالیگاؤں کے مسلمان صبر و جمیل کا پیکر ہے لہذا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا. اس واردات کی ابھی مذمت ہی جاری تھی کل یعنی عیدالاضحیٰ کے دن مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کی حد میں دوبارہ کچھ مسلم نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اس واردات کے تعلق سے جب نمائندۂ ممبئی پریس نے مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کے پی آئی نریندر بھدانے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ مالیگاؤں کے 4 افراد آٹو رکشا سے جارہے تھے . اتنے میں جو کہ ایک بائی اپنی بھیڑ بکریاں لے کر جارہی تھیں , ان نوجوانوں کے ہارن بجانے کے بعد بھی اس نے راستہ نہیں دیا. جس کی وجہ سے وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گالی گلوچ کی. جس کے بعد اس بائی کے افراد خانہ نے بائیک کے ذریعہ ان نوجوانوں کی رکشا کا تعاقب کیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی. پی آئی بھدانے کے مطابق یہ مآب لنچنگ نہیں تھی. بلکہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ گالی گلوچ کی تھی. بائیک سے آٹو رکشا کا پیچھا کیا گیا. جب وہ نوجوان اپنی جاں بچا کر بھاگنے لگے تو ان پر پتھراؤ کیا. بڑے بڑے پتھر پھینکے گئے جس کی وجہ ایک نوجوان زخمی ہوگیا اور ساتھ ہی ان مشتعل افراد نے ان کی آٹو رکشا MH41 AT 0757 کو بھی پتھر سے توڑ پھوڑ دیا . پی آئی بھدانے نے مزید بتایا کہ ہم نے اس واردات میں 3 افراد کو حراست میں لیا ہے. مزید گرفتاریاں ہونی باقی ہیں. اس کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے. ان افراد پر تعزیرات ہند کی دفعات 324 اور 341 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.
اس واردات کا بھی ویڈیو وائرل ہوا جس میں صاف دکھائی دے رہا ہے بڑے بڑے پتھروں سے آٹو رکشا کی توڑ پھوڑ کی گئی . کہا جارہا ہے کہ جب مسلم نوجوان ان شرپسندوں سے جان بظاہر بھاگ رہے تھے. تب ان پر پتھر برسائے گئے. جنونی ہجوم کی طرف سے یہ ایک جان لیوا حملہ تھا. اگر یہ مسلم نوجوان خدانخواستہ ان کے ہاتھ لگ جاتے تو شاید ان کی لاشیں گھر آتیں. ایک معمولی تکرار کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی. اس کے باوجود پولس اسے مآب لنچنگ ماننے کو تیار نہیں. اگر ان نوجوانوں کی غلطی تھی تو پولس سے رجوع کیا جاسکتا تھا. قانون ہاتھ میں لے کر اس طرح تانڈو کرنے کی ضرورت نہیں تھی.

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com