Connect with us
Saturday,12-June-2021

(Monsoon) مانسون

’تاؤ تے‘ کا آج رات گجرات کے ساحل سے ٹکرانے امکان ٹکرانے کا امکان

Published

on

storm

بحیرہ عرب میں اٹھے انتہائی شدید ’تاؤ تے‘ طوفان آج رات 8 بجکر 11 بجے کے درمیان گجرات کے مہووا (بھاؤ نگر) اور پوربندر کے درمیان ساحل پر ٹکرانے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس سے قبل 18 مئی کی صبح ساحل پر پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

محکمہ موسمیات کے بلیٹن کے مطابق یہ طوفان آج صبح 5.30 بجے گجرات کے ویراوال ساحل سے 290 کلومیٹر جنوب جنوب مشرق میں واقع تھا، اور 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے گجرات کے ساحل سے قر یب پہونچنے کے دوران ہوا کی رفتار 155 سے 185 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بھاؤ نگر کے علاوہ، گیر، سوم ناتھ، امریلی، پوربندر، احمد آباد، وڈوڈرا، بھروچ، ولساد وغیرہ میں بھی بھاری سے بہت تیز بارش ہوسکتی ہے۔ طوفان کے اثر کی وجہ سے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ریاست کے 33 میں سے 21 اضلاع کے 84 تعلقہ میں بارش ہوئی ہے۔ ان میں سے چھ اضلاع میں 25 ملی میٹر یا ایک انچ سے زیادہ بارش ہوئی۔ ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہو رہی ہے۔

(Monsoon) مانسون

دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری

Published

on

temperature

قومی دارالحکومت دہلی میں جمعرات کے روز کم سے کم درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ ہی لوگوں کو گرمی سے کچھ راحت ملی ہے، اور جزوی طور پر آسمان ابر آلو رہنے کے ساتھ تیز ہواؤں کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے موسم میں کچھ اور بہتری کی امید ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 28.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری کے قریب رہنے کی امید ہے۔ محکمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ ہفتے میں گرج چمک کے ساتھ بوچھاریں پڑنے اور بارش کی توقع ہے۔ آنے والے دنوں میں ویسٹرن ڈسٹربنس کی سرگرمیوں کی وجہ سے دہلی- قوی راجدھانی خطہ میں بارش کی توقع ہے۔ صبح 8.30 بجے ہوا میں نمی کی سطح 74 فیصد رہی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی کا ہوا کا مجموعی معیار معتدل زمرہ میں ہے۔ آئی ایم ڈی نے بتایا کہ بدھ کے روز دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 31.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اس سال کا کم سے کم درجہ حرارت تھا، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔

Continue Reading

(Monsoon) مانسون

بھیونڈی میں شدید بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیرآب ، نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ہوگئیں ، کئی دکانوں اور گھروں میں بھرا بارش کا پانی ، میونسپل کارپوریشن کے نالہ صفائی کی کھلی پول ، 60 فیصد نالہ صفائی کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا

Published

on

bhiwandi-rani1

بھیونڈی: ( خصوصی رپورٹ) کل سے جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے بھیونڈی شہر سمیت دیہی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ شہر کے نشیبی علاقے زیرآب ہوگئے تھے۔ نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالوں کا پانی سڑکوں پر بہہ رہا تھا۔ بنگال پورہ سمیت شہر کے بیشتر علاقوں کی سڑکوں پر اتنا پانی بھر گیا تھا کہ سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ جس میں چھوٹے بچے بارش سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے متعدد گھروں ، دکانوں اور کارخانوں میں پانی بھر گیا تھا جس کی وجہ سے زندگی جیسے تھم سی گئی تھی۔ یہاں تک کہ راجیو گاندھی فلائی اوور کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے فلائی اوور پر بھی پانی جمع ہوگیا تھا۔ حالانکہ دوپہر کے بعد بارش بند ہونے کی وجہ سے بھرا ہوا پانی نکل گیا تھا جس کی وجہ سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ شدید بارش کے باعث شہر کے متعدد علاقوں کی بجلی کی سپلائی منقطع کردی گئی تھی۔ میونسپل کارپوریشن کے ذریعے 60 فیصد نالے کی صفائی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن شہر میں جمع ہوئے پانی نے ان کے دعوے کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔

شہر کے کلیان ناکہ ، شاستری نگر ، آنند ہوٹل کے پیچھے کا نالہ ، غیبی نگر ، تین بتی ، شیواجی نگر ، کنیری ، کملا ہوٹل ، سٹیزن ہاسپٹل مین روڈ ، نظام پورہ ، نارپولی ، پدما نگر ، ورال دیوی ہاسپٹل مین روڈ ، بھاجی مارکیٹ ، نالا پار ، نذرانہ کمپاؤنڈ سمیت شہر کے نشیبی علاقے زیرآب ہوگئے تھے۔ متعدد مکانات اور دکانوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے لوگوں کو بالخصوص دکانداروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تین بتی واقع بھاجی مارکیٹ میں سبزی فروشوں کی سبزیوں سمیت دیگر سامان پانی میں بہہ گیا۔ سبزی دکاندار سبزیوں کو بہتا دیکھ کر وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔ مہاڈا کالونی ، عید گاہ روڈ سمیت کامواری ندی کے کنارے آباد لوگوں کے مکانات میں پانی بھر گیا تھا۔ بارش کا پانی سڑکوں پر بہنے کی وجہ سے کلیان روڈ ، انجورفاٹا ، ونجارپٹی ناکا ، نذرانہ سرکل ، رانجنولی بائی پاس ، مانکولی ناکا ، واڑہ روڈ اور ندی ناکہ سمیت دیگر علاقوں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ بارش کے دوران ٹریفک پولیس نے میونسپل ملازمین کے ذریعے فلائی اوور کی صفائی کرا کر ٹریفک کو بہ آسانی دوبارہ شروع کرایا۔ شہر کی طرح ہی دیہی علاقے کے چمبی پاڑہ ، کوھے ، امبرائی ، کھڑکی ، علاقے کے وارنا ندی سے ملنے والے جنگلات کے چھوٹے بڑے نالے بھر کر بہہ رہے تھے۔

میونسپل کارپوریشن کے ذریعے 60 فیصد نالے کی صفائی کا کام مکمل کرلینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن وقت پر نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالوں کا پانی شہر کے بیشتر علاقوں کی سڑکوں پر بہہ رہا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے نالے کی صفائی کا پول بدھ کو ہونے والی بارش نے ایک بار پھر مکمل طور پر کھول کر رکھ دیا ہے۔ اس سے قبل منگل کے روز ہوئی معمولی بارش نے میونسپل انتظامیہ کو متنبہ کردیا تھا۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ اس کے بعد بھی میونسپل افسران ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر کاغذوں پر ہی نالوں کی صفائی کا کام دیکھ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دیر رات شروع ہوئی موسلا دھار بارش کے باعث شہر کی سڑکیں واٹر پارک میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ شہر کے مختلف علاقوں کی سڑکوں پر بہہ رہے پانی کی تصویر خود اس کی حقیقت بیان کررہی ہے۔ اس طرح کی انوکھی تصویر شہر میں ایک نہیں بلکہ درجنوں علاقوں میں دیکھنے کو مل رہی تھی۔ شہر کے بنگال پورہ ، زیتون پورہ سمیت دیگر علاقوں میں بچے سڑکوں پر بہہ رہے پانی سے واٹر پارک کی طرح لطف اندوز ہو رہے تھے۔ تاہم منگل کی دیر شام میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیہ نے کھنڈو پاڑہ اور اوچیت پاڑہ سمیت شہر کے متعدد علاقوں کا دورہ کرکے نالوں کی صفائی کا جائزہ لیا تھا۔ لیکن بارش نے ان کے دورے کے 12 گھنٹوں کے بعد میونسپل انتظامیہ کی پوری تیاری اور نالہ صفائی کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔

میونسپل پربھاگ سمیتی نمبر 2 کے تحت نوی بستی ، نہرو نگر ، رحمت پورہ سمیت پہاڑی کے کنارے بسنے والے لوگوں کو میونسپل کارپوریشن نے چوکس رہنے کی اپیل کرتے ہوئے امکانات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید بارش کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جان کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ میونسپل انتظامیہ نے وہاں بسنے والے لوگوں کی حفاظت سے اپنا پلڑا جھاڑ لیا ہے۔ جس کے لئے پربھاگ سمیتی نمبر 2 کے اسسٹنٹ کمشنر فیصل تاتلی اور کلرک کے ذریعے پہاڑی پر آباد ، پہاڑی کے اطراف ڈھلانوں پر رہنے والے لوگوں کو وہاں نہ رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ پہاڑی اور پہاڑی کے ڈھلان پر اگر بارش کے دوران کوئی خطرہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری جھونپڑے والوں کی ہوگی۔ جس کے لئے انہوں نے نوٹس جاری کر مطلع کردیا ہے۔

Continue Reading

(Monsoon) مانسون

بھیونڈی میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے مخدوش عمارت کی بالکنی کا چھجہ منہدم

Published

on

bhiwandi-rain

بھیونڈی: (نامہ نگار ) بھیونڈی شہر میں آدھی رات سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارش کی وجہ سے میونسپل انتظامیہ کے ذریعے انتہائی مخدوش قرار دی گئی دو منزلہ عمارت کی بالکنی کا چھجہ اچانک منہدم ہونے کا حادثہ پیش آیا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کے پربھاگ سمیتی نمبر 1 کے تحت ویتال پاڑہ علاقے میں 2 منزلہ عمارت نمبر 157 جسے میونسپل کارپوریشن نے انتہائی مخدوش قرار دیا ہے اور اسسٹنٹ کمشنر دلیپ کھانے نے اس عمارت کو خالی کرا دیا تھا۔ بدھ کی صبح تقریباً 10.30 بجے کے قریب عمارت کا بالکنی کا چھجہ اچانک منہدم ہو گیا۔

لیکن اتفاقی طور پر عمارت خالی ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مذکورہ حادثے کی اطلاع جیسے ہی اسسٹنٹ کمشنر دلیپ کھانے اور بیٹ انسپکٹر ویراج بھوئیر کو موصول ہوئی وہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئے اور ایمرجنسی محکمہ کی ٹیم کی مدد سے منہدم ہوئے چھجے کا ملبہ ہٹا کر صاف کردیا گیا ہے۔ مذکورہ انتہائی مخدوش عمارت کو ٹھیکیدار کے ذریعے جلد ہی منہدم کردیا جائے گا اس طرح کی جانکاری میونسپل انتظامیہ کے ذریعے دی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com