Connect with us
Monday,28-September-2020

سیاست

ادھوٹھاکرے ملک کے ساتوے سب سے پسندیدہ وزیر اعلی، سروے میں ہوا انکشاف

Published

on

uddhav

مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھوٹھاکرے کی مقبولیت کا گراف دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ جس طرح سے انہوں نے ممبئی اور مہاراشٹر میں کورونا کے بحران کا سامنا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک بار پھر سے انہوں نے ملک کے سب سے پسندیدہ وزیر اعلی کی فہرست میں جگہ ملی ہے آپ کو بتادے کی یہ سروے انڈیا ٹوڈے اور کاروی انسائٹس دوارہ کیا گیا ہے۔ ملک کے سب سے پسندیدہ وزیراعلی کی فہرست میں ادھو ٹھاکرے کو ساتویں نمبر پر جگہ ملی ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اس فہرست میں سب سے اوپر کے فہرست میں ہے۔ انہوں نے سب سے زیادہ 24 فیصد ووٹ ملے ہے۔ سروے میں سرفہرست 7 وزرائے اعلیٰ میں سے 6 وزرائے اعلیٰ غیر بی جے پی اور کانگریس کے زیر اقتدار ریاستوں سے آئے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ جبکہ تیسری پوزیشن آندھرا پردیش کے وزیر اعلی جگن موہن ریڈی کے پاس ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی پہلے نمبر سے پھسل کر چوتھے نمبر پر آگئی ہیں۔ اس فہرست میں پانچویں نمبر پر دوسرے وزیراعلی کو رکھا گیا ہے اور چھٹے نمبر پر بہار کے سی ایم نتیش کمار کو جگہ ملی ہے۔ پسندیدہ کی فہرست میں اسکے بعد تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر، راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت، کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدیورپا، چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپش بگیلے اور ان کے بعد شیوراج سنگھ کا نمبر آتا ہے۔
اس میں پورا ملک وبا کے بڑے بحران سے دوچار ہے، ایسی صورتحال میں ٹیلیفون پر بات چیت کے ذریعے اس بار یہ سروے مکمل کیا گیا ہے، حالانکہ اس سے قبل یہ سروے لوگوں کے انٹرویو کے ذریعے مکمل کیا گیا تھا، اس سروے کے دوران، قریب 12021 افراد ان میں سے 67٪ لوگ دیہی علاقوں سے اور 33 فیصد شہری حصے سے آتے ہیں۔ اترپردیش، مغربی بنگال، تمل ناڈو، تلنگانہ، راجستھان، پنجاب، اڑیسہ، مہاراشٹر، کیرالہ، مدھیہ پردیش، کرناٹک، جھارکھنڈ، گجرات، ہریانہ، دہلی، بہار، چھتیس گڑھ، آسام اور آندھرا پردیش جیسی 19 ریاستوں کے لوگوں کا سروے کیا گیا۔

سیاست

سنجے راوت اور دیوندر فڑنویس کی ملاقات کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل، وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ پر شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی ملاقات

Published

on

(محمدیوسف رانا)
مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیوندر فڑنویس اور شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت کے مابین ہونے والی ملاقات مہا وکاس آگھاڑی کے لیڈران کے ساتھ مہاراشٹر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر دیوندر فڑنویس اور شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت کی گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات سے ریاست مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد آج سرکاری رہائش گاہ’’ ورشا‘‘ پر ہنگامی طور پر این سی پی کے سینئر لیڈر شرد پوار اور ریاستی وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کے مابین ہونے والی میٹنگ تقریباً کم و بیش ایک گھنٹے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اس ملاقات میں کون کون سے موضوعات زیر بحث تھے؟ سنجے راوت اور دیویندر فڑنویس ملاقات کے بعد پیدا ہونے والی مہا وکاس آگھاڑی میں بے چینی کے تدارک کے لئے کیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا؟
تادم تحریر وزیر اعلی ادھوٹھاکرے اور شرد پوار کے درمیان وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ ورشا پر ہونے والی میٹنگ میں کیا کیا باتیں ہوئیں یہ معلوم نہیں ہوسکیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ ملاقات اس شدت سے محسوس کی گئی کہ شیوسینا کے ترجمان کو وضاحت کرنا پڑی کہ ‘میں نےسابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی جس میں کچھ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وہ مہاراشٹر میںاپوزیشن لیڈر ہیں اور بہار میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کے انچارج بھی ہیں۔ہمارے درمیان نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ہم دشمن نہیں ہیں۔ اس ملاقات سے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے بھی واقف تھے۔یہ ملاقات صرف اور صرف سامنا میں انٹرویو کے لئے کی گئی۔اتنا ہی میں آج اپوزیشن لیڈر دیوندر فڑنویس کو بھی وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ سنجے راوت جی چونکہ شیوسینا کے ترجمان کے ساتھ سامنا کےایڈیٹر بھی ہیں اس لئے وہ میرا انٹرویو لینا چاہتے اس ملاقات میں کسی بھی سیاسی پہلو پر گفتگو نہیں ہوئی ہے۔
سنجے راوت اور دیویندر فڑنویس کی ملاقات پراپنا موقف واضح کرتے ہوئے مہاراشٹر بی جے پی کے چیف ترجمان کیشیو اپادھیائے نے کہا کہ اس میٹنگ کا کوئی سیاسی نقطہ نظر نہیں ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘راوت دیویندر فڈنویس کا شیوسینا کے ترجمان سامناکے لئے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ بس یہی دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا باعث بنا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ فڑنویس نے راؤت کو بتایا تھا کہ جب وہ بہار کی انتخابی مہم سے واپس آئیں گے تو وہ انٹرویو دیں گے۔
واضح رہے مہاراشٹر میں شیوسینا لیڈر سنجے راوت بی جے پی پر مسلسل حملہ کرتے ہیں۔ پھرچاہے یہ شاعری کے انداز میں ہو یا شیو سینا کے قلم کے ذریعے۔ ایسی صورتحال میں دونوں کی ملاقات
پرطرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔
شیوسینا،این سی پی اور کانگریس کے علاوہ دوست پارٹیوں نے ملک کر مہا وکاس آگھاڑی بنا کر اس کے زیر نگراں مہاراشٹر میں حکومت سازی کر رہے ہیں مگر روز اول سے ہی ان کے مابین جاری ہونے والے تنازعات ختم کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
اب ہفتہ کے روز مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے ملاقات موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
یاد رہے شیوسینا اور بی جے پی نے۲۰۱۹؍ کےمہاراشٹر اسمبلی انتخابات اتحاد بنا کر ساتھ ساتھ لڑے لیکن اقتدار کی تقسیم پر دونوں اتحادیوں کے مابین اختلافات ہوگئے۔ دونوں پارٹیوں کے مابین پاور شیئرنگ فارمولہ پر اتفاق نہیں ہوسکا اس لئے شیوسینا نے مہاراشٹر کا اقتدار حاصل کرنے کے لئےایک انوکھا راستہ اختیار کرتے ہوئے این سی پی اور کانگریس سے ہاتھ ملایااور مہا وکاس آگھاڑی بنا کر اقتدار حاصل کر لیا اس اتحاد کو یقینی بنانے میںشرد پوار اور سنجے راوت دنوں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔

Continue Reading

سیاست

شیوسینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا کوئی ارادہ نہیں: فڈنویس

Published

on

اتوار کے روز مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے کہا کہ بی جے پی کا شیوسینا کے ساتھ ہاتھ ملانے یا ریاست میں ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت مخلوط حکومت کا خاتمہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ فڈنویس نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ریاست کے لوگ شیوسینا کی زیرقیادت ‘مہاراشٹر وکاس آگھاڈی’ حکومت کے کام سے ناخوش ہیں اور اس کی اس ‘تعصب’ کی وجہ سے وہ گر پڑے گی۔
بی جے پی کے سینئر رہنما نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہفتہ کے روز شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت سے ملاقات کی، جس نے شیو سینا کے ترجمان ‘سامنا’ کے انٹرویو کے سلسلے میں سیاسی راہداریوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ گذشتہ سال مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے بعد، شیوسینا نے وزیر اعلی کے عہدے کو بانٹنے کے معاملے پر بی جے پی سے اپنے تعلقات توڑ دیے تھے۔
اس کے بعد ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت پارٹی نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں مخلوط حکومت تشکیل دی۔ ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما، فڈنویس نے کہا، “ہمارا شیوسینا سے ہاتھ ملانے یا ریاست (حکومت میں) گرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔” ہم دیکھیں گے کہ جب یہ خود ہی گر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ راوت سے ان کی ملاقات کا کوئی سیاسی اثر نہیں ہے۔ بی جے پی رہنما نے کہا، “انہوں نے مجھ سے ‘سامنا’ کے لئے ایک انٹرویو دینے کو کہا، جس سے میں اتفاق کرتا ہوں۔ لیکن میرے بھی اپنے شرائط تھے – گویا انٹرویو میں اکٹھا ہونا چاہئے اور مجھے انٹرویو کے دوران اپنا کیمرہ رکھنے کی اجازت ہے۔ “دریں اثنا، راوت نے یہاں صحافیوں سے بھی الگ الگ گفتگو کی۔ شیوسینا رہنما نے کہا کہ وہ اور فڈنویس دشمن نہیں ہیں اور وزیر اعلی ٹھاکرے اس اجلاس سے آگاہ ہیں، جس کو انٹرویو کے شیڈول پر تبادلہ خیال کرنے کا پہلے سے منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، کانگریس کے رہنما سنجے نیروپم نے راوت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ انہیں سرخیاں بنانے میں جلدی ہے۔ ممبئی کانگریس کے سابق چیف نے کہا، “جب یہ ہوتا تب سیاسی کیریئر ختم ہوجاتا ہے۔”
راوت کے لئے یہ میری بد قسمتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ گذشتہ سال لوک سبھا انتخابات سے قبل ممبئی کانگریس کے چیف کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے ناخوش رہنے والے نیروپم نے کہا ہے کہ اگر پارٹی (کانگریس) حال ہی میں پارلیمنٹ میں منظور شدہ زرعی بلوں کی مخالفت کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے پہلے مہاراشٹر جانا چاہئے۔ مجھے حکمران شیوسینا سے اپنا موقف واضح کرنے کو کہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور این سی پی نے کہا ہے کہ وہ اس نئی قانون سازی کو مہاراشٹر میں نافذ نہیں ہونے دیں گے جب کہ وزیر اعلی ٹھاکرے نے اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔ نیروپم نے کہا، “شیوسینا نے لوک سبھا میں زرعی بلوں کی حمایت کی، جبکہ انہوں نے راجیہ سبھا سے ایسے وقت میں بات کی جب ایوان بالا کی دیگر اپوزیشن جماعتیں اس پر ووٹ کا مطالبہ کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ریاستی حکومت کے اس موقف کے بارے میں الجھن ہے۔

Continue Reading

سیاست

حکومت لداخ کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرے گی : شاہ

Published

on

حکومت نے کہا ہے کہ وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ مشاورت کی بنیاد پر فیصلے کئے جائیں گے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج ان سے ملنے آئے لہیہ اور لداخ کے ایک وفد کو یہ یقین دہانی کرائی۔ وفد میں لداخ کے لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ تھکسے رنپوچے، تھپسن چیوانگ اور جموں و کشمیر میں وزیررہے چکے چیرنگ دورجے شامل تھے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کشن ریڈی اور وزیر مملکت برائے کھیل کرن رجیجو بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وفد کو حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ زبان، آبادیات، عقائد، زمین اور ملازمت سے متعلق تمام معاملات پر مثبت توجہ دی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ’’چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ کے لئے پیپلز مومنٹ ‘‘ کے زیراہتمام لہیہ اور کارگل اضلاع کے ایک بڑے لداخی وفد اور وزارت داخلہ کے مابین بات چیت لداخ خود مختار ہل ترقیاتی کونسل لہیہ انتخابات کے اختتام کے 15 دن بعد شروع ہوگی۔ اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ لہیہ اور کارگل کے نمائندوں کی مشاورت سے ہی لیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com