Connect with us
Wednesday,16-June-2021

جرم

بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی

Published

on

بے شک اسلام ایک بہترین مذہب ہے اور مسلمان ایک بدترین قوم. مذکورہ جملہ شکسپئر نے کہا تھا. آج جو حالات ہمارے سامنے ہیں. اس سے مسلمانوں کی بدبختی ظاہر ہورہی ہیں. ایک ہمارے اجداد تھے جن کے کردار و عمل سے غیر قوم مشرف بہ اسلام ہوتے تھے. آج ہم کردار کے غازی نہیں ہے. جس کا سراسر الزام والدین پر عائد ہوتا ہے. آج والدین کے پاس اولاد کے لئے وقت نہیں ہے. موبائل انٹرنیٹ سے منسلک ہوکر ہم نے بے حیائی کے سمندر کو اپنا مسکن بنالیا ہے. یہی وجہ ہے کہ آج ہماری اولاد بھی فحاشیت اور گندگی کے اسی دلدل میں دھنستی جارہی ہیں. پہلے لوگ اپنی تسکین کے لئے کوٹھے پر جایا کرتے تھے جہاں طوائفیں ان کی دلجوئی کرتی تھیں مگر ہمیں یہ لکھتے ہوئے عار محسوس ہورہی ہیں کہ مغربی کی اندھی تقلید میں ہمارے نوجوان اور بنت حوا نے کوٹھے کی طوائف سے زیادہ خود کو سستا کردیا ہے. یہ طوائفیں پیسے کے لئے اپنے جسم کا سودا کرتی تھیں مگر آج ابن بنت حوا اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے لئے ابن آدم کو اپنا جسم سونپتی ہیں. قارئین اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ بھیونڈی شہر جو کہ مہاراشٹر کا مانچسٹر کہلاتا ہے. اس شہر کی ایک ادبی شناخت ہیں. اس شہر کے ایک بیٹے اور بیٹی نے آج امت مسلمہ کو شرمسار کردیا ہے. واقعہ یوں ہے کہ کلمب گاؤں کے سابق سرپنچ فائق بھائی احمد خان کی بھانجی “انشاء” کا رشتہ بھیونڈی بھوسار محلہ کے ساکن “تمثیل انور کھوٹے” کے ساتھ طے ہوا تھا. مگر تقدیر کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں. عین نکاح کے ایک دن قبل ایک فون کال نے کلمب گاؤں میں دلہن کے گھر ہلچل مچادی. بات ہی اتنی شرمناک تھی کہ کسی کو یقین ہی نہیں ہورہا تھا.

دلہن کے گھر والوں کے مطابق لڑکے تمثیل کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز رشتہ تھا, اور بات حدسے آگے بڑھ گئی تھی. اس خبر کو سن کر سب پریشان تھے. کیونکہ انشاء کے ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن کا رشتہ تلوجہ کے ساکن ذیشان شریف خان سے طے ہوا تھا, اور والدین دونوں بیٹیوں کے فرض سے ایک ساتھ سبکدوش ہونا چاہتے تھے. دونوں بہنوں کی مہندی رسم بھی ہوچکی تھی. اہل خانہ کشمکش میں تھے تبھی جس لڑکی سے تمثیل کھوٹے کے ناجائز تعلقات تھے اس لڑکی کا فون آیا اور وہ ڈرانے دھمکانے لگ گئی. اب کوئی آنکھوں دیکھی مکھی نگھل نہیں سکتا ایک بیٹی کی زندگی کا سوال تھا. جو بسنے سے پہلے اجڑ رہی تھی. ایک تو ہمارے سماج کا قاعدہ ہی غلط ہے اگر کسی لڑکی کا رشتہ یا منگنی ٹوٹ جائے تو چاہے غلطی لڑکے کی ہو سارا الزام لڑکی کے سر منڈھ دیا جاتا ہے. یہ تو سراسر بارات لوٹانے والی بات تھی. مگر سابق سرپنچ فائق خان کے گھر والوں نے ہر بات کو بالائے طاق رکھ کر بارات روکنے اور رشتہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا-

جس کے بعد گاؤں میں ہر طرف سناٹا چھاگیا. اب تک جہاں شہنائیاں بج رہی تھیں. وہاں اب ماتمی لہر پھیل گئی. دکھ سبھی مہمانوں, رشتےداروں اور گاؤں کے نوجوانوں کے چہروں پر صاف جھلک رہا تھا. جس منڈپ میں کھڑے تھے وہاں پر ہر طرف مایوسی اور غم کے بادل چھائے تھے.

اچانک گاؤں کے نوجوانوں نے اور ذمہ داران نے فیصلہ کیا کہ گاؤں سے جو بھی لڑکا اس بچی سے نکاح کرنے کو تیار ہو جائے اس نکاح کے لیے گھر والوں کو راضی کیا جائے گا اور کل صبح جامع مسجد کلمب گاؤں میں نکاح منعقد کیا جائے گا-

کسی کو بھی پتہ نہیں تھا جس منڈپ میں چائے پان کی محفل میں جو لڑکا مہمانوں کو چائے بانٹ رہا تھا اسی نوجوان کے گھر والوں کو نکاح کے لیے راضی کر لیا جائیگا اور آج صبح اللہ کے رحم و کرم سے اور سب کی دعا سے اس بچی کا نکاح اس لڑکے سے ہوگیا. کلمب گاؤں کی مشہور شخصیت اور تنٹا مکت سمیتی کے صدر “ایوب کوئلکر” کے صاحبزادے “معراج” اور “انشاء” رشتہ ازداج میں بندھ گئے.

اللہ رب العزت اس جوڑے کو اور اس نکاح کو قبول کریں اور انہیں اپنے رحم و کرم سے نوازے….
اس کار خیر میں جن نوجوانوں نے اور ذمہ داروں نے اس رشتے کو جوڑنے کی کوشش کی ہے اللہ ان سبھی کی جائز حاجتوں کو پورا کریں..
اللہ امت کے اتفاق اور اتحاد کو قبول کریں. آمین

نامہ نگار نے جب دلہن انشاء کے اہل خانہ سے اس پورے معاملے کے بارے میں جاننا چاہا تو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فائق خان نے کہا کے بیشک الله سب سے بہتر پلانر ہے. الله جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے. اس میں اس کی حکمت پوشیدہ ہے اگر ہم نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہوتا تو ہماری معصوم بچی کی زندگی جہنّم بن جاتی. ہمارے احساسات کا کھلواڑ کرنے والوں پر سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہئے جس سے سبق لیکر کوئی بھی کسی کی اولاد کے ساتھ ایسا کھلواڑ ناکر سکے-

“دلہن کے دادا نے اپنی بات رکھتے ہوئے نم آنکھوں سے سماج سے اپیل کی ہے کہ اپنی پھول جیسی اولاد کا نکاح کرتے وقت دولت, شہرت, تعلیم سے زیادہ دینی معاملات کو مدنظر رکھے اگر وہ لڑکا دینی خیالات سے وابستہ ہوتا تو الله اور آخرت کے ڈر سے حرام کاری کی طرف مائل نہ ہوتا”
ساتھ ہی ساتھ انہوں نے حکومت سے ذمے دار افراد کے خلاف سختی سے نپٹنے کی مانگ کی-

جرم

ممبئی کے کاندیولی میں کوویڈ ویکسین کے نام پر، 400 افراد کے ساتھ دھوکہ دھڑی, 1400 روپے کا ویکسین لگوایا، لیکن اصلی یا جعلی؟

Published

on

Vaccine

کورونا کو شکست دینے کے لئے ، حکومت لوگوں سے ویکسین لگوانے کی اپیل کر رہی ہے۔اس اپیل کا اثر بھی نظر آرہا ہے۔ کچھ جعلساز بھی اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ویکسینیشن کے نام پر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ جعلسازی کا ایسا ہی ایک تازہ معاملہ ممبئی کے کاندیولی علاقے میں منظرعام پر آیا ہے۔ یہاں کے ہیرانندانی ہیریٹیج سوسائٹی میں لگائے گئے کیمپ میں 400 افراد کا ویکسینیشن کیا گیا، لیکن ویکسین کے بعد ملنے والے سرٹیفکیٹ کی وجہ سے یہ ویکسینیشن شکوک و شبہات کی زد میں آگیا ہے۔اب لوگ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کورونا ویکسین لگا ہے یا کچھ اور۔ لوگوں نے مقامی کاندیولی تھانے میں تحریری شکایت درج کروائی ہے۔ فی الحال پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد ، لوگوں کے ذہنوں میں ویکسین سے متعلق شک گہرا ہوگیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ، لوگوں کو ویکسین کے بارے میں چوکس اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے علاقے یا معاشرے میں نجی ویکسینیشن کیمپ موجود ہے تو ہوشیار رہیں۔ لوگوں کا الزام ہے کہ انھیں فی کس 1400 روپے لے کر ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

30 مئی کو کاندیولی میں ہیرانندانی ہیریٹیج سوسائٹی کے کیمپ میں 400 افراد کو کوویڈ کا ویکسین لگایا گیا.۔ سوسائٹی کے ساکن ہتیش پٹیل نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو بھی کیمپ میں ٹیکہ لگایا گیا ۔ سوسائٹی نے مہندر سنگھ نامی ایک شخص کو مقرر کیا تھا۔ اس نے دعوی کیا تھا کہ ممبئی کے ایک بڑے اسپتال کے ذریعے یہ ویکسینیشن کروائی گئی ہے۔ ویکسینیشن کے وقت ایسا کچھ نہیں دیکھا گیا تھا۔ پٹیل نے کہا کہ ویکسینیشن کے بعد ، جب طویل عرصے سے مستفید افراد کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے گئے تو ، سوسائٹی نے متعلقہ شخص سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد ، جب لوگوں کو سرٹیفکیٹ ملا ، تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ کچھ کو ناناوتی اسپتال کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ، کچھ کو بی ایم سی کے نیسکو ، کچھ کو شیوم اسپتال اور کچھ دوسرے اسپتالوں کے۔ یہ تمام سرٹیفکیٹ بیک وقت جاری نہیں کیے گئے تھے ، بلکہ مختلف دنوں میں جاری کیے گئے تھے۔

متعلقہ شخص سوسائٹی کے ہر فرد سے رابطہ کرکے ان کے موبائل پر آئے او ٹی پی مانگ کر انہیں سرٹیفکیٹ جاری کررہا تھا۔ پٹیل نے بتایا کہ جب ناناوتی اسپتال سے متعلق فائدہ اٹھانے والے کو جاری کردہ سرٹیفکیٹ کی سچائی جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ متعلقہ شخص کی ویکسینیشن ان کے ذریعہ نہیں کی گئی ۔ حقیقت جاننے کے لئے ، سوسائٹی نے پولیس کو تحریری شکایت کی ہے۔ سینئر پولیس انسپکٹر باباصاحب سالونکھے نے بتایا کہ جس شخص کے خلاف شکایت کی گئی ہے وہ فی الحال فرار ہے۔ ناناوتی اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ اس سوسائٹی میں ان کے اسپتال کے ذریعہ کوئی کیمپ کا انعقاد نہیں کیا گیا ہے۔ اسپتال نے اس ضمن میں محکموں کو بھی آگاہ کردیا ہے اور جلد ہی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی جائے گی۔ اس معاملے میں ، مقامی ایم ایل اے نے بتایا کہ جس کووی شیلڈ وائل کا استعمال کیا گیا تھا اس کے لیبل پر ‘ناٹ فار سیل’ لکھا ہوا تھا۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ ویکسین کسی سرکاری مرکز سے جاری کی گئی ہے۔ تفتیش میں بہت بڑی گڑبڑی سامنے آسکتی ہے۔

Continue Reading

جرم

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 62،224 نئے کیسز

Published

on

Corona infection

ملک میں کورونا وائرس (کووڈ-19) کی رفتار دھیمی پڑھنے اور انفیکشن کے کیسز کے مقابلے اس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد زیادہ رہنے سے ایکٹو کیسز کی شرح کم ہو کر تین فیصد سے نیچے آ گئی، اس دوران منگل کے روز 28 لاکھ 00 ہزار 458 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ ملک میں اب تک 26 کروڑ 19 لاکھ 72 ہزار 014 افراد کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

مرکزی وزارت صحت کی جانب سے بدھ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 62،224 نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ ہی متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ 96 لاکھ 33 ہزار 105 ہوگئی۔ اس دوران ایک لاکھ 07 ہزار 628 مریض صحتیاب ہوئے ہیں، جس سے ملک میں اب تک کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد دو کروڑ 83 لاکھ 88 ہزار 100 ہو گئی۔ ایکٹو کیسز 47 ہزار 946 کم ہو کر آٹھ لاکھ 65 ہزار 432 ہو چکے ہیں۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2542 مریضوں کی موت ہو گئی ہے، اور اس وباء سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 79 ہزار 573 ہوگئی ہے۔ ملک میں ایکٹو کیسز کی شرح 2.92 فیصد، شفایابی کی شرح 95.80 فیصد اور شرح اموات 1.28 فیصد ہے۔

مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایکٹو کیسز 8992 کم ہو کر 141440 ہو گئے ہیں۔ اس دوران ریاست میں 15176 مزید مریضوں کی شفایابی کے بعد کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 5669179 ہو گئی ہے، جبکہ مزید 1458 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 114154 ہو گئی ہے۔

کیرالہ میں اس دوران ایکٹو کیسز 1456کم ہوئے ہیں اور ان کی تعداد اب 112792 رہ گئی ہے اور 13536 مریضوں کے صحتیاب ہونے کی وجہ سے کورونا کو شکست دینے والے افراد کی تعداد 2623904 ہو گئی ہے، جبکہ مزید 166 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 11508 ہو گئی۔

Continue Reading

جرم

سری نگر میں مسلح جھڑپ، ایک جنگجو ہلاک

Published

on

kashmir jang

سری نگر کے مضافاتی علاقہ واگورہ نوگام میں بدھ کی علی الصبح شروع ہونے والے ایک جنگجو مخالف آپریشن میں ایک جنگجو مارا گیا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ واگورہ نوگام میں جاری جنگجو مخالف آپریشن میں اب تک ایک جنگجو مارا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ واگورہ میں جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو مذکورہ علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مشتبہ جنگجو کو محاصرے میں لینے کے دوران وہاں موجود جنگجوئوں نے فائرنگ کی، جس کے بعد طرفین کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com