Connect with us
Monday,28-September-2020

(جنرل (عام

پہلی گاندھی کانفرنس نوجوان مصنفین کی ت11 اکوبر سے

Published

on

gandhi-ji

بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں جينتي سال میں ملک کے تقریبا 50 نوجوان مصنفین گاندھی کی زندگی،ان کے پیغامات اور ان کی خدمات پر تبادلہ خیال کریں گے اور ان کے اقدار و نظریات کو اپنی تحریر میں پیش کریں گے۔
رضا فاؤنڈیشن نے 11 اور 12 اکتوبر کو ان مصنفین کی پہلی کانفرنس دارالحکومت میں منعقد کی ہے جس میں گاندھی کی تین کتابوں کے ذریعہ ان پر بحث کی جائے گی۔
مشہور ثقافتی کارکن اور رضا فاؤنڈیشن کے سربراہ اشوک واجپئی نے ’یواین آئی‘ کو بتایا کہ نئی نسل میں گاندھی کو لے کر کیسی بے چینی ہے اور ان کا کیا نظریہ ہے ،یہ جاننے کے لئے ملک کے نوجوان مصنفین کیلئے یہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مصنفین پہلی بار گاندھی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ شاید آج تک کبھی اتنی تعداد میں نوجوان مصنفین نے کبھی ایک ساتھ گاندھی پراظہار خیال نہیں کیا ہے۔ اس میں گاندھی جی کی سوانح عمری، ستیہ کے ساتھ میرے پریوگ، ہند سوراج اور گاندھی جی پرارتھنا پر تین سیشن میں نوجوان مصنفین بات چیت کریں گے۔ کانفرنس میں كولكتہ، ممبئی، بنگلور، پٹنہ، سورت، سمستی پور، وارانسی، رائے پور، چندی گڑھ وغیرہ شہروں سے یہ مصنفین شرکت کر رہے ہیں۔

سیاست

سنجے راوت اور دیوندر فڑنویس کی ملاقات کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل، وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ پر شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی ملاقات

Published

on

(محمدیوسف رانا)
مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیوندر فڑنویس اور شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت کے مابین ہونے والی ملاقات مہا وکاس آگھاڑی کے لیڈران کے ساتھ مہاراشٹر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر دیوندر فڑنویس اور شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت کی گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات سے ریاست مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد آج سرکاری رہائش گاہ’’ ورشا‘‘ پر ہنگامی طور پر این سی پی کے سینئر لیڈر شرد پوار اور ریاستی وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کے مابین ہونے والی میٹنگ تقریباً کم و بیش ایک گھنٹے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اس ملاقات میں کون کون سے موضوعات زیر بحث تھے؟ سنجے راوت اور دیویندر فڑنویس ملاقات کے بعد پیدا ہونے والی مہا وکاس آگھاڑی میں بے چینی کے تدارک کے لئے کیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا؟
تادم تحریر وزیر اعلی ادھوٹھاکرے اور شرد پوار کے درمیان وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ ورشا پر ہونے والی میٹنگ میں کیا کیا باتیں ہوئیں یہ معلوم نہیں ہوسکیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ ملاقات اس شدت سے محسوس کی گئی کہ شیوسینا کے ترجمان کو وضاحت کرنا پڑی کہ ‘میں نےسابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی جس میں کچھ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وہ مہاراشٹر میںاپوزیشن لیڈر ہیں اور بہار میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کے انچارج بھی ہیں۔ہمارے درمیان نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ہم دشمن نہیں ہیں۔ اس ملاقات سے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے بھی واقف تھے۔یہ ملاقات صرف اور صرف سامنا میں انٹرویو کے لئے کی گئی۔اتنا ہی میں آج اپوزیشن لیڈر دیوندر فڑنویس کو بھی وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ سنجے راوت جی چونکہ شیوسینا کے ترجمان کے ساتھ سامنا کےایڈیٹر بھی ہیں اس لئے وہ میرا انٹرویو لینا چاہتے اس ملاقات میں کسی بھی سیاسی پہلو پر گفتگو نہیں ہوئی ہے۔
سنجے راوت اور دیویندر فڑنویس کی ملاقات پراپنا موقف واضح کرتے ہوئے مہاراشٹر بی جے پی کے چیف ترجمان کیشیو اپادھیائے نے کہا کہ اس میٹنگ کا کوئی سیاسی نقطہ نظر نہیں ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘راوت دیویندر فڈنویس کا شیوسینا کے ترجمان سامناکے لئے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ بس یہی دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا باعث بنا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ فڑنویس نے راؤت کو بتایا تھا کہ جب وہ بہار کی انتخابی مہم سے واپس آئیں گے تو وہ انٹرویو دیں گے۔
واضح رہے مہاراشٹر میں شیوسینا لیڈر سنجے راوت بی جے پی پر مسلسل حملہ کرتے ہیں۔ پھرچاہے یہ شاعری کے انداز میں ہو یا شیو سینا کے قلم کے ذریعے۔ ایسی صورتحال میں دونوں کی ملاقات
پرطرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔
شیوسینا،این سی پی اور کانگریس کے علاوہ دوست پارٹیوں نے ملک کر مہا وکاس آگھاڑی بنا کر اس کے زیر نگراں مہاراشٹر میں حکومت سازی کر رہے ہیں مگر روز اول سے ہی ان کے مابین جاری ہونے والے تنازعات ختم کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
اب ہفتہ کے روز مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے ملاقات موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
یاد رہے شیوسینا اور بی جے پی نے۲۰۱۹؍ کےمہاراشٹر اسمبلی انتخابات اتحاد بنا کر ساتھ ساتھ لڑے لیکن اقتدار کی تقسیم پر دونوں اتحادیوں کے مابین اختلافات ہوگئے۔ دونوں پارٹیوں کے مابین پاور شیئرنگ فارمولہ پر اتفاق نہیں ہوسکا اس لئے شیوسینا نے مہاراشٹر کا اقتدار حاصل کرنے کے لئےایک انوکھا راستہ اختیار کرتے ہوئے این سی پی اور کانگریس سے ہاتھ ملایااور مہا وکاس آگھاڑی بنا کر اقتدار حاصل کر لیا اس اتحاد کو یقینی بنانے میںشرد پوار اور سنجے راوت دنوں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔

Continue Reading

سیاست

شیوسینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا کوئی ارادہ نہیں: فڈنویس

Published

on

اتوار کے روز مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے کہا کہ بی جے پی کا شیوسینا کے ساتھ ہاتھ ملانے یا ریاست میں ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت مخلوط حکومت کا خاتمہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ فڈنویس نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ریاست کے لوگ شیوسینا کی زیرقیادت ‘مہاراشٹر وکاس آگھاڈی’ حکومت کے کام سے ناخوش ہیں اور اس کی اس ‘تعصب’ کی وجہ سے وہ گر پڑے گی۔
بی جے پی کے سینئر رہنما نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ہفتہ کے روز شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت سے ملاقات کی، جس نے شیو سینا کے ترجمان ‘سامنا’ کے انٹرویو کے سلسلے میں سیاسی راہداریوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ گذشتہ سال مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے بعد، شیوسینا نے وزیر اعلی کے عہدے کو بانٹنے کے معاملے پر بی جے پی سے اپنے تعلقات توڑ دیے تھے۔
اس کے بعد ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت پارٹی نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں مخلوط حکومت تشکیل دی۔ ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما، فڈنویس نے کہا، “ہمارا شیوسینا سے ہاتھ ملانے یا ریاست (حکومت میں) گرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔” ہم دیکھیں گے کہ جب یہ خود ہی گر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ راوت سے ان کی ملاقات کا کوئی سیاسی اثر نہیں ہے۔ بی جے پی رہنما نے کہا، “انہوں نے مجھ سے ‘سامنا’ کے لئے ایک انٹرویو دینے کو کہا، جس سے میں اتفاق کرتا ہوں۔ لیکن میرے بھی اپنے شرائط تھے – گویا انٹرویو میں اکٹھا ہونا چاہئے اور مجھے انٹرویو کے دوران اپنا کیمرہ رکھنے کی اجازت ہے۔ “دریں اثنا، راوت نے یہاں صحافیوں سے بھی الگ الگ گفتگو کی۔ شیوسینا رہنما نے کہا کہ وہ اور فڈنویس دشمن نہیں ہیں اور وزیر اعلی ٹھاکرے اس اجلاس سے آگاہ ہیں، جس کو انٹرویو کے شیڈول پر تبادلہ خیال کرنے کا پہلے سے منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، کانگریس کے رہنما سنجے نیروپم نے راوت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ انہیں سرخیاں بنانے میں جلدی ہے۔ ممبئی کانگریس کے سابق چیف نے کہا، “جب یہ ہوتا تب سیاسی کیریئر ختم ہوجاتا ہے۔”
راوت کے لئے یہ میری بد قسمتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ گذشتہ سال لوک سبھا انتخابات سے قبل ممبئی کانگریس کے چیف کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے ناخوش رہنے والے نیروپم نے کہا ہے کہ اگر پارٹی (کانگریس) حال ہی میں پارلیمنٹ میں منظور شدہ زرعی بلوں کی مخالفت کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے پہلے مہاراشٹر جانا چاہئے۔ مجھے حکمران شیوسینا سے اپنا موقف واضح کرنے کو کہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور این سی پی نے کہا ہے کہ وہ اس نئی قانون سازی کو مہاراشٹر میں نافذ نہیں ہونے دیں گے جب کہ وزیر اعلی ٹھاکرے نے اس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔ نیروپم نے کہا، “شیوسینا نے لوک سبھا میں زرعی بلوں کی حمایت کی، جبکہ انہوں نے راجیہ سبھا سے ایسے وقت میں بات کی جب ایوان بالا کی دیگر اپوزیشن جماعتیں اس پر ووٹ کا مطالبہ کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ریاستی حکومت کے اس موقف کے بارے میں الجھن ہے۔

Continue Reading

جرم

مالیگاؤں میں جواں سال لڑکی کی دردناک خودکشی سے سنسنی

Published

on

(خیال اثر)
مسجدوں میناروں کے شہر مالیگاؤں میں روز بروز خودکشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں. معمولی گھریلو تنازعات , خانگی معاملات میں ناکامی اور مالی پریشانیاں بھی آئے دن کی خودکشی کا سبب بن رہی ہیں. ایسا ہی ایک دلدوز واقعہ آج بروز سنیچر تقریباً 12بجے مالدہ شیوار گٹ نمبر 178/1 مضافاتی علاقہ ہوٹل لبیک کے پچھے گھر والوں کی غیر موجودگی میں ایک 16سالہ لڑکی عائشہ شیخ محبوب نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی. بتایا جاتا ہے کہ گھر کے تمام افراد کام پر گئے ہوئے تھے اور لڑکی کی والدہ بازار گئی ہوئی تھی تبھی یہ واقعہ پیش آیا. سماجی کارکن شفیق انٹی کرپشن نے موقع واردات پر پہنچ کر نعش کو جنرل ہاسپٹل روانہ کرتے ہوئے قانونی نقاط کی تکمیل میں تعاون پیش کیا.
لڑکی کے قرب و جوار میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے حالات ٹھیک تھے. انھیں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں تھا پھر بھی لڑکی نے یہ سنگین قدم کیوں اٹھایا محمکہ پولیس اس کی تفتیش میں مصروف ہے. شہر میں خودکشی کے بڑھتے واقعات شہری ذمہ داران سوچنے پر مجبور کررہے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے جو روز بروز خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں. اسی طرح شہر کے مخیر حضرات کو بھی چاہئے کہ وہ نہ صرف اپنے محلہ بلکہ خاص طور پر مضافاتی علاقوں میں رہنے والوں کی بھی مالی اعانت کا فریضہ انجام دیں. اگر غریب خاندانوان کو کسی قسم کی مالی پریشانیاں ہیں تو اس کا سدباب کریں تبھی ایسے دلدوز واقعات پر قدغن لگ سکتی ہے ورنہ آنے والے وقتوں میں مسجدوں میناروں کا یہ شہر خودکشی کی آمجگاہ بن جائے گا اور آئے دن کسی نا کسی محلے, گلیوں سے خودکشیوں کی خبریں منظر عام پر آتی رہیں گی-

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com