Connect with us
Saturday,04-July-2020

سیاست

عوام کو اب یہ نعرہ دینا چاہئے کہ ’کانگریس هٹاو، غریبی مٹاو‘ : مودی

Published

on

وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ کانگریس ملک کی سلامتی کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے ، اس لئے عوام کو اب یہ نعرہ دینا چاہئے کہ ’کانگریس هٹاو، غریبی مٹاو‘۔ مسٹر مودی نے ضلع احمد نگر میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں پوری دنیا نے ہندوستان میں ایک مضبوط اور فیصلہ کن حکومت دیکھی ہے ۔ اس سے پہلے گزشتہ دس سالوں میں ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی حکومت تھی اور ہر روز ایک گھپلہ منظرے عام پر آتا تھا ۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کو پوری دنیا ایک مضبوط حکومت تصور کرتی ہے ۔ انتخابات کے ذریعے آپ کو طے کرنا ہے کہ ایماندار چوکیدار چاہئے یا پھر بدعنوان نامدار۔ (نامدار کا استعمال مسٹر مودی راہل گاندھی کے لئے کرتے ہیں) انہوں نے کہا’’آپ کو طے کرنا ہے کہ آپ اپنا ووٹ ہندوستان کے ہیرو کو دیتے ہیں یا پھر پاکستان کے وکیل کو‘‘۔مسٹر مودی نے آج اپنی تقریر میں بالاكوٹ یا ہوائی حملے کا ذکر راست طور پر نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے وقت میں فوج کو کنٹرول لائن کے اس پار جا کر دہشت گرد وں کے اڈوں کو تباہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
انہوں نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار کی بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ این سی پی نے کانگریس کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور این سی پی جموں و کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے اور ملک میں دو وزیراعظم کے نظریے والوں کی حمایت کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں کانگریس پراعتماد نہیں ہے لیکن مسٹر پوار چھترپتی شیواجی کی سر زمین کے ہوکر اس طرح کی باتوں کو برداشت کس طرح کرتے ہیں اور انہیں رات میں نیند کس طرح آتی ہے۔ آپ کو ملک کے لئے کانگریس چھوڑ دینی چاہئے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس این سی پی کی حکومت کے وقت ملک کو صرف درد ہی ملا۔ ممبئی میں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا پونے میں بم دھماکے ہوئے تھے اور آپ نے دیکھا کہ اس چوکیدار کی حکومت نے کس طرح دہشت گردوں کے دل میں خوف پیدا کیا۔

(جنرل (عام

ایس آئی او نے لاک ڈاؤن کے دوران اسکول اور کالج کی  فیس میں رعایت کا مطالبہ کیا

Published

on

(نامہ نگار)
ایسی صورتحال میں جہاں ریاست کےعوام کی زندگی کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہے، اسکولوں اور کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس  میں کمی کی جائے، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او)  نے مطالبہ کیا ہے.
اس ضمن میں ریاستی حکومت اور  فی ریگولیٹنگ اتھارٹی (ایف آر اے)  کو لکھے گئے خط میں ایس آئی او نے تجویز پیش کی ہے کہ ریاست کے تمام اسکولوں کی فیسوں میں ۳۰ فیصد کمی کی جائے تاوقتیکہ  اسکولوں میں باقاعدہ کلاس لینا ممکن  ہو۔ تنظیم نے تمام اعلیٰ، تکنیکی، طبی اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی سالانہ فیس  ۱۵ فیصد کم کرنے کی  تجویز بھی پیش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایس آئی او نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس بات کو  یقینی بنائے  کہ اسکولی عملے کے تمام افراد کی ملازمت  برقرار رہے  اور انہیں بر وقت تنخواہیں ادا کی جاتی رہے۔
ایس آئی او جنوبی مہاراشٹر کے صدرمحمد سلمان احمد  نے کہا،”لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سارے والدین اپنے معمول کے اخراجات (جن  میں ان کے بچوں کی اسکول اور کالج کی فیس بھی شامل ہے)  کو پورا کرنے میں بہت مشکلات محسوس کررہے ہیں ۔معاشرے کی ہمہ جہت ترقی کے لئے تعلیم ایک لازمی ضرورت ہے۔لہذاموجودہ بحران کے علی الرغم اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ریاست کے تمام  طلباء کو بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم فراہم کی  جاتی رہے “۔
تنظیم کے مطالبے کو جواز فراہم کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی  نشاندہی کی کہ ریاست کے بیشتر طلباء  کے لئےاگلے چند مہینوں میں فزیکل  کلاسیز شروع نہیں ہوں گی۔  انہوں نے کہا، ” اس کے بجائے اسکول اور کالجز آن لائن یا  کسی اور ذریعے سے کلاس لیں گے ۔ یہ ان کے  لئے معمول کے  کئی اخراجات کی بچت کا سبب ہوگا۔ اس  بچت  کو طلباء کی فیس میں کچھ رعایت فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ”
ریاستی  محکمہ برائے اسکولی تعلیم  نے تعلیمی سال 2020-21  میں اسکولوں کو فیس میں اضافے سے روکنے اور فیس  کی قسطوں میں  ادائیگی  کی اجازت دینے بابت ایک حکومتی قرار داد (جی آر) جاری کیا ہے۔تاہم اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لئے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔ایس آئی او نے اپنے خط میں یہ بات بھی کہی  ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی فیس کو منضبط کرنے والےادارہ  اسٹیٹ فیس ریگولیٹنگ اتھارٹی (ایف آر اے) نے پہلے ہی ان کالجوں کے لئے فیس کا ڈھانچہ متعین کردیا  ہے، جس کی رو سے بیشتر انسٹی ٹیوٹ کو ۵ سے لے کر ۱۵ فیصد کے درمیان  فیس  میں اضافے  یا گذشتہ سال (2019-20) کی طرح فیس وصول کرنے کی اجازت ہے۔ تنظیم کا حکام سے مطالبہ ہے کہ ان اضافوں کو واپس لیا جائے   اور ان کی جگہ فیس میں کٹوتی کی جائے۔
ایس آئی او نے متوجہ  کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہ روکنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے، خاص طور پر عارضی بنیادوں پر مقرر کیے جانے والے اسٹاف کو فیس  میں رعایت کے بہانے سے ملازمت سے فارغ نہ کیا جائے۔
فیس میں رعایت کے علاوہ، ایس آئی او نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقلیتی، او بی سی، وی جے / این ٹی، ایس ای بی سی اور ای بی سی طلباء کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپ کی رقم میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ خط میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں وصول کی جانے والی فیس کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

Continue Reading

جرم

پوار واڑی پولس کی چھاپہ مار کارروائی میں 4 لاکھ مالیت کا 45 کلو گانجہ ضبط، 6 جولائی تک ملزم کو پولس کسٹڈی

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں شہر ایس پی سندیپ گھوگھے نے کل شام پولس کنٹرول روم میں اخباری نمائندوں کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ دیر رات گئے پولس کو معلومات ملی تھی کہ مالیگاؤں شہر میں ایک آدمی گانجہ لیکر آیا ہے. تب پولس نے جال بچھا کر اسے گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خلاف پوار واڑی پولس اسٹیشن میں گناہ رجسٹر نمبر 357 /2020 NDPS کی دفعہ 20 (بی) 22 (بی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے مزید تفتیش پولس سب انسپکٹر کیل سنگھ پاورا کررہے ہیں۔ گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں معزز جج نے 6 جولائی تک پولس کسٹڈی دی ہے۔ ایڈیشنل ایس پی نے کہا کہ پوار واڑی پولس اسٹیشن کی ٹیم نے بروقت کارروائی کی ہے اور شہر میں بڑھتے ہوئے غیر قانونی کاروبار کو ختم کرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔ ایڈیشنل ایس پی نے مزید کہا کہ شہر میں کسی بھی قسم کے غیر قانونی کاروبار کو برداشت نہیں کیا جائے گا. اگر کوئی شخص نشہ آور اشیاء کا کاروبار کرتا ہے تو اس کی اطلاع پولس کو فوری طور پر دی جائے تاکہ شہر میں جاری نشہ آور اشیاء کے کاروبار کو ختم کیا جاسکے. اس ضمن میں مکمل تفصیلات کے مطابق کیمپ ڈی وائے ایس پی منگیش چوہان کو ملی خفیہ معلومات کے ذریعہ اطلاع ملی کہ پوار واڑی پولس اسٹیشن کی حد میں نشہ آور اشیاء کو فروخت کرنے کی غرض سے محمد گلزار محمد کلیم عرف پاپا نامی نوجوان اپنی موٹر سائیکل MH 41 – 5289 پر سوار دھولیہ کی سمت سے مالیگاؤں شہر میں آصف چوہا، ممبیا، آمین کی ملکیت کا 45 کلو گانجہ لیکر آرہا ہے۔ اس خفیہ اطلاع کے ملتے ہی ناسک ضلع ایس پی ڈاکٹر آرتی سنگھ اور مالیگاؤں شہر ایس پی سندیپ گھوگھے کی رہنمائی میں پوار واڑی پولس انسپکٹر گلاب راؤ پاٹل، پولس انچارج کیل سنگھ پوار, اسپیشل اسکواڈ کے عمران سید، سچن بوداڑے، سچن تھورات, مورے کے علاوہ پوار واڑی پولس اسٹیشن کے سریش باوسکر، سید، پگارے، ونایک جگتاپ ،امباداس ،نوناتھ شیلار ،راکیش جادھو وغیرہ نے ممبئی آگرہ روڈ پر واقع لبیک ہوٹل کے پاسکارروائی کرتے ہوئے گلزار محمد کلیم عرف پاپا سے پوچھ تاچھ کرکے اس کے قبضہ سے موٹر سائیکل سمیت 4 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کا 45 کلو گانجہ ضبط کیا. اس طرح پولس کی بروقت چھاپہ مار کاروائی سے نشہ آور گانجے کا ایک بڑا ذخیرہ ضبط کیا گیا.

Continue Reading

سیاست

سونیا کے خط پر عمل کرے حکومت:پرینکا

Published

on

priyanka

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے میڈیکل داخلہ امتحان میں پسماندہ طبقہ کے طلباء کے لئے ریزرویشن کی سہولت نافذ نہ کرنے کو اس طبقہ کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی بتایا اور کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی کو اس تعلق سے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے خط پر غور کرنا چاہئے۔
محترمہ واڈرانے ٹو ئیٹ کرکے کہا ”کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی جی نے نیٹ کے ذریعہ پر کی جارہی سیٹوں میں قومی کوٹہ کے تحت ریاست و مرکز کے زیراقتدار ریاستوں کے طبی اداروں میں او بی سی طلبہ کو ریزرویشن فراہم کرنے کا ایک جائز مطالبہ کیاہے۔یہ معاشرتی انصاف کا مطالبہ ہے۔ امید ہے کہ مرکزی حکومت اس پر عمل کرے گی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے محترمہ گاندھی کا وہ خط بھی پوسٹ کیا جس میں انہوں نے مسٹر مودی سے پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن سسٹم نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com