Connect with us
Tuesday,04-August-2020

(جنرل (عام

ایس آئی او نے لاک ڈاؤن کے دوران اسکول اور کالج کی  فیس میں رعایت کا مطالبہ کیا

Published

on

(نامہ نگار)
ایسی صورتحال میں جہاں ریاست کےعوام کی زندگی کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہے، اسکولوں اور کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس  میں کمی کی جائے، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او)  نے مطالبہ کیا ہے.
اس ضمن میں ریاستی حکومت اور  فی ریگولیٹنگ اتھارٹی (ایف آر اے)  کو لکھے گئے خط میں ایس آئی او نے تجویز پیش کی ہے کہ ریاست کے تمام اسکولوں کی فیسوں میں ۳۰ فیصد کمی کی جائے تاوقتیکہ  اسکولوں میں باقاعدہ کلاس لینا ممکن  ہو۔ تنظیم نے تمام اعلیٰ، تکنیکی، طبی اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی سالانہ فیس  ۱۵ فیصد کم کرنے کی  تجویز بھی پیش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایس آئی او نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس بات کو  یقینی بنائے  کہ اسکولی عملے کے تمام افراد کی ملازمت  برقرار رہے  اور انہیں بر وقت تنخواہیں ادا کی جاتی رہے۔
ایس آئی او جنوبی مہاراشٹر کے صدرمحمد سلمان احمد  نے کہا،”لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سارے والدین اپنے معمول کے اخراجات (جن  میں ان کے بچوں کی اسکول اور کالج کی فیس بھی شامل ہے)  کو پورا کرنے میں بہت مشکلات محسوس کررہے ہیں ۔معاشرے کی ہمہ جہت ترقی کے لئے تعلیم ایک لازمی ضرورت ہے۔لہذاموجودہ بحران کے علی الرغم اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ریاست کے تمام  طلباء کو بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم فراہم کی  جاتی رہے “۔
تنظیم کے مطالبے کو جواز فراہم کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی  نشاندہی کی کہ ریاست کے بیشتر طلباء  کے لئےاگلے چند مہینوں میں فزیکل  کلاسیز شروع نہیں ہوں گی۔  انہوں نے کہا، ” اس کے بجائے اسکول اور کالجز آن لائن یا  کسی اور ذریعے سے کلاس لیں گے ۔ یہ ان کے  لئے معمول کے  کئی اخراجات کی بچت کا سبب ہوگا۔ اس  بچت  کو طلباء کی فیس میں کچھ رعایت فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ”
ریاستی  محکمہ برائے اسکولی تعلیم  نے تعلیمی سال 2020-21  میں اسکولوں کو فیس میں اضافے سے روکنے اور فیس  کی قسطوں میں  ادائیگی  کی اجازت دینے بابت ایک حکومتی قرار داد (جی آر) جاری کیا ہے۔تاہم اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لئے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔ایس آئی او نے اپنے خط میں یہ بات بھی کہی  ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی فیس کو منضبط کرنے والےادارہ  اسٹیٹ فیس ریگولیٹنگ اتھارٹی (ایف آر اے) نے پہلے ہی ان کالجوں کے لئے فیس کا ڈھانچہ متعین کردیا  ہے، جس کی رو سے بیشتر انسٹی ٹیوٹ کو ۵ سے لے کر ۱۵ فیصد کے درمیان  فیس  میں اضافے  یا گذشتہ سال (2019-20) کی طرح فیس وصول کرنے کی اجازت ہے۔ تنظیم کا حکام سے مطالبہ ہے کہ ان اضافوں کو واپس لیا جائے   اور ان کی جگہ فیس میں کٹوتی کی جائے۔
ایس آئی او نے متوجہ  کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہ روکنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے، خاص طور پر عارضی بنیادوں پر مقرر کیے جانے والے اسٹاف کو فیس  میں رعایت کے بہانے سے ملازمت سے فارغ نہ کیا جائے۔
فیس میں رعایت کے علاوہ، ایس آئی او نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقلیتی، او بی سی، وی جے / این ٹی، ایس ای بی سی اور ای بی سی طلباء کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپ کی رقم میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ خط میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں وصول کی جانے والی فیس کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

سیاست

سوشانت کیس کی تحقیقات کرنے گیا افسر کوارینٹائین میں، نیروپم نے کہا- ایسا لگتا ہے کہ ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے

Published

on

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت پر مہاراشٹر میں سیاست شروع ہوگئی ہے۔ بی ایم سی کے ذریعہ پٹنہ کے ایس پی ونئے تیواری کی کوارینٹائین کیے جانے کے بعد، اب کانگریس، جو اقتدار کی شیئر ہولڈر ہے، نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے رہنما سنجے نیروپم نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔
ممبئی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے سنجے نیروپم نے ایک ٹویٹ میں کیا، ‘لگتا ہے، بی ایم سی اور ممبئی پولیس پاگل ہوگئی ہے۔ سوشانت سنگھ کیس کی تحقیقات کرنے آئے آئی پی ایس آفیسر تیواری کو 15 اگست تک کورینٹائین کیا گیا۔ انکوائری کیسے ہوگی؟ وزیر اعلی کو فوری مداخلت کرنی چاہئے۔ تیواری کو رہا کریں اور تحقیقات میں مدد کریں ورنہ ممبئی پولیس کا شکوہ بڑھتا جائے گا۔


جب اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی بہار پولیس کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، ریاست میں سیاسی پارا بھی بڑھتا جارہا ہے۔ بہار اسمبلی میں سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ سوشانت کے کزن اور بی جے پی کے ممبر اسمبلی نیرج سنگھ ببلو نے معاملہ اٹھایا اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ادھر اپوزیشن لیڈر تیجشوی یادو نے بھی سوشانت کیس کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بہار حکومت کے وزیر جئے سنگھ نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کا رویہ وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔

Continue Reading

جرم

مالیگاؤں میں جنونی بھیڑ نے پھر کیا مسلم نوجوانوں پر جان لیوا حملہ، پولس نے کیا مآب لنچنگ سے انکار، 3 افراد پولس کی گرفت میں مزید گرفتاریاں باقی

Published

on

کرائم اسٹوری : وفا ناہید
اس وقت پورے ملک حالات خراب چل رہے ہیں. 4 ماہ تک کورونا نے سب اس قدر خود میں مصروف رکھا کہ کورونا اور اس سے ہونے والی اموات , لاک ڈاؤن, تالی بجانا , دیا جلانا اور کورونا کو مسلمانوں جوڑ کر تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا ہی اس کا مصرف تھا. اب جب کہ کورونا 5 ماہ مکمل کرکے چھٹے ماہ قدم رکھ چکا ہے وہیں عوام کے دلوں سے کورونا کا خوف تھوڑا کم ہوا اور غیرقانونی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا. کوارٹنائن سینٹر میں کووڈ پیشنٹ کی آبروریزی سے لے کر قتل و خودکشی اور انکاؤنٹر کے بعد شرپسندوں کا پسندیدہ مشغلہ مآب لنچنگ تک پہنچ گیا. یوں تو لاک ڈاؤن میں چھوٹے موٹے کرائم کا سلسلہ جاری تھا مگر ادھر گذشتہ کچھ دنوں سے مالیگاؤں کے مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے. ابھی پچھلے دنوں جلگاؤں ضلع کے پارولہ شہر میں کچھ نوجوانوں کی مآب لنچنگ کا ویڈیو شوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا. جس کے بعد شہر میں تناؤ کا ماحول پیدا ہوگیا تھا. وہ تو مالیگاؤں کے مسلمان صبر و جمیل کا پیکر ہے لہذا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا. اس واردات کی ابھی مذمت ہی جاری تھی کل یعنی عیدالاضحیٰ کے دن مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کی حد میں دوبارہ کچھ مسلم نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اس واردات کے تعلق سے جب نمائندۂ ممبئی پریس نے مالیگاؤں شہر تعلقہ پولس اسٹیشن کے پی آئی نریندر بھدانے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ مالیگاؤں کے 4 افراد آٹو رکشا سے جارہے تھے . اتنے میں جو کہ ایک بائی اپنی بھیڑ بکریاں لے کر جارہی تھیں , ان نوجوانوں کے ہارن بجانے کے بعد بھی اس نے راستہ نہیں دیا. جس کی وجہ سے وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گالی گلوچ کی. جس کے بعد اس بائی کے افراد خانہ نے بائیک کے ذریعہ ان نوجوانوں کی رکشا کا تعاقب کیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی. پی آئی بھدانے کے مطابق یہ مآب لنچنگ نہیں تھی. بلکہ بات یہ تھی کہ ان لوگوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ گالی گلوچ کی تھی. بائیک سے آٹو رکشا کا پیچھا کیا گیا. جب وہ نوجوان اپنی جاں بچا کر بھاگنے لگے تو ان پر پتھراؤ کیا. بڑے بڑے پتھر پھینکے گئے جس کی وجہ ایک نوجوان زخمی ہوگیا اور ساتھ ہی ان مشتعل افراد نے ان کی آٹو رکشا MH41 AT 0757 کو بھی پتھر سے توڑ پھوڑ دیا . پی آئی بھدانے نے مزید بتایا کہ ہم نے اس واردات میں 3 افراد کو حراست میں لیا ہے. مزید گرفتاریاں ہونی باقی ہیں. اس کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے. ان افراد پر تعزیرات ہند کی دفعات 324 اور 341 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.
اس واردات کا بھی ویڈیو وائرل ہوا جس میں صاف دکھائی دے رہا ہے بڑے بڑے پتھروں سے آٹو رکشا کی توڑ پھوڑ کی گئی . کہا جارہا ہے کہ جب مسلم نوجوان ان شرپسندوں سے جان بظاہر بھاگ رہے تھے. تب ان پر پتھر برسائے گئے. جنونی ہجوم کی طرف سے یہ ایک جان لیوا حملہ تھا. اگر یہ مسلم نوجوان خدانخواستہ ان کے ہاتھ لگ جاتے تو شاید ان کی لاشیں گھر آتیں. ایک معمولی تکرار کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی. اس کے باوجود پولس اسے مآب لنچنگ ماننے کو تیار نہیں. اگر ان نوجوانوں کی غلطی تھی تو پولس سے رجوع کیا جاسکتا تھا. قانون ہاتھ میں لے کر اس طرح تانڈو کرنے کی ضرورت نہیں تھی.

Continue Reading

(جنرل (عام

امر سنگھ کی آخری رسومات ادا کی گئیں

Published

on

راجیہ سبھا رکن اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے جنرل سکریٹری امر سنگھ کی پیر کو چھترپور شمشان گھاٹ پر آخری رسومات ادا کی گئیں مسٹر سنگھ کی دونوں بیٹییوں دِرِشٹی اور دِشا نے پنڈدان کی رسم کرکے آگ دی طویل علالت کے بعد یکم اگست 2020 کو 64 برس کی عمر میں امر سنگھ کی موت ہو گئی تھی۔ ان کا کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا تھا۔ اتوار کو ان کی لاش چارٹیڈ طیارے سے سنگاپور سے دہلی لائی گئی تھی۔
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے چھترپور واقع امر سنگھ کے گھر جا کر ان کی لاش پر پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے راجیہ سبھا رکن جیوتی رادتیہ سندھیا، فلم اداکار، سیاسی رہنما جیا پردہ نے بھی مسٹر سنگھ کے گھر جا کر خراج عقیدت پیش کیا۔ محترمہ جیا پردہ شمشان گھاٹ پر بھی موجود تھیں۔ کئی دیگر رہنماؤں نے گذشتہ روز اور آج امر سنگھ کی رہائش گاہ پر جا کر آخری دیدار کیا اور خراج عقیدت پیش کیا۔
عالمی وبا کووِڈ۔19 پروٹوکال کی وجہ سے امر سنگھ کی آخری رسومات میں بہت کم افراد موجود تھے۔ ان کی دونوں بیٹیوں نے جیسے اپنے والد کی لاش کو آگ دی تو شمشان گھاٹ پر ماحول جذباتی ہو گیا اور وہاں موجود تمام لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے آنکھوں سے ہندوستانی سیاست کے بڑے رہنماؤں میں شمار امر سنگھ کو الوداع کہا۔ آخری رسومات کے وقت امر سنگھ کی بیوی پنکجا بھی موجود تھیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com